روسی سفیر کا قتل اور بعض مسلمانوں کے جذبات

روسی سفیر کا قتل اور بعض مسلمانوں کے جذبات
 روسی سفیر کا قتل اور بعض مسلمانوں کے جذبات

  

روسی سفیر کو انقرہ میں عین اس وقت پیچھے کھڑے ایک شخص نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا ،جب وہ ایک تصویری نمائش میں کھڑے تھے۔ ترک پولیس کی فوری فائرنگ سے قاتل بھی موقع پر ہی مقتول سے جا ملا۔ روسی ترجمان نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے ترکی تحقیقات کے بارے انتظار اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

ہمارے کئی دوست اس خبر پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ اسے شام میں بشار الاسد کی اپنے سنی عوام کے بہیمانہ ریاستی قتل میں روسی عسکری تعاون کے تناظر میں دیکھ کر اطمینان محسوس کر رہے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ بشار الاسد نے شام میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں سمیت انسانیت کو شرما دینے والا قتل عام شروع کر رکھا ہے۔ روس اور ایران ذرا کھل کر یعنی ملیشیا کی سطح پر جب کہ کئی دوسری عالمی طاقتیں در پردہ اس ظلم پر خاموش رہ کر معاونت کر رہی ہیں۔ عالم اسلام نامی کسی گمشدہ چیز کی بھی خوب تلاش ہوئی مگر یہ چیز کہیں سے برآمد نہ ہو سکی۔ بہرحال عالمی ضمیر کی بے حسی اور مسلمان عوام کی بے بسی کے اس سانحہ فاجعہ پر، ظلم سے نفرت اور انسانیت سے محبت کرنے والا ہر انسان عموماً جبکہ سنی مسلمان فطری طور پر زیادہ اذیت اور درد محسوس کر رہے ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر حلب میں انسانیت کے خلاف قتل و غارت گری کی تصاویر دیکھ کر یہ سوچنا محال ہو جاتا ہے کہ یہ اسی مہذب صدی میں انسانوں پر ٹوٹے قہر کے زندہ ثبوت ہیں۔

ان اذیت ناک حقائق اور روح پر خراشیں ڈال دینے والے حالات کے باوجود کسی سفیر کا قتل کسی بھی ملک و ملت اور بالخصوص کسی حقیقی مسلمان کے لئے خوشی کا باعث نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ یہ صاف بات ہے کہ جس نے بھی مارا، ایک سفیر کو مارا، اسلام کے تسلیم شدہ قاعدے کو اور بین الاقوامی معاہدے کو مارا۔ ہیرو تو خیر کیا، وہ سوائے ایک بد ترین قاتل کے اور کچھ نہیں۔ ایک ایسا قاتل جو دو قوموں کا حال اور مستقبل کو آگ میں جھونکنے کی جسارت کا مرتکب ہوا ہے۔

بد ترین قتل کسی امان دئیے ہوئے شخص کا قتل ہے۔ ایک سفیر کا قتل ہے اور ایک سچا مسلمان سب سے زیادہ اپنے معاہدوں پر عامل ہوتا ہے۔ ایک سفیر کا قتل تو صرف ایک بزدل اور بے اصول قوم کے لئے ہی روا ہو سکتا ہے۔اگر روس شامیوں کا قاتل بھی ہو تو کسی قاتل ملک کے سفیروں کو نہیں، ہمت ہو تو قاتلوں کو مارا جاتا ہے۔ کسی ملک میں کوئی سفیر کسی ایسی پوسٹ پر نہیں ہوتا کہ مارے بغیر اس سے نجات نہ پائی جا سکے۔سفیر اگر بد ترین بھی ہو تو اسے ناپسندیدہ قرار دے کے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا جاتاہے۔ اور کسی سفیر کے لئے یہ سیاسی قتل ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ اسی سے یہ بھی سوچا جانا چاہئے کہ کہیں اس سفیر کے قاتل کا کھرا کہیں اور تو نہیں جا نکلتا؟

بہرحال، کچھ دوست اسے ملّا عبدالسلام ضعیف کی امریکہ حوالگی کے واقعہ سے جوڑ کر جواز فراہم کر رہے ہیں۔ یہ ایک صحتمند رویہ اس لئے نہیں کہ ظلم کی مذمت کبھی مشروط نہیں ہونی چاہئے۔ آپ کو اپنے ضمیر اور اصول سے ،اور اگر آپ مسلمان ہیں تو اسلامی اصول سے پوچھنا چاہیے کہ کیا کسی سفیر کا قتل ایسے کسی طور جائز ہو سکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر اور کچھ نہیں۔ دوسرے عبدالسلام ضعیف کو روس نے نہیں پاکستانی حکومت نے امریکہ کے حوالے کیا تھا۔ پھر اے جوش عاجلانہ میں خوشی شعار کرنے والو! ملا عبدالسلام تو بدنام زمانہ گوانتاناموبے سے اپنی کتاب لکھنے زندہ لوٹ آیا تھا ،آپ نے تو اپنے ملک سے ایک سفیر زندہ نہیں جانے دیا۔ یہ کیا تقابل ہے؟ یہ کیا خوشی اور فخر ہے؟ پھر اے بندگان خدا! آپ ترکی سے تو پوچھ لیجئے، آیا وہ اسے ایک اعزاز سمجھ رہا ہے یا بدنامی؟ وہ خوشی کے جذبات میں ہے یا ندامت گڑھے میں؟

حیرت ہے کہ اسلام تو چلو ہم اپنی جذباتی افتاد طبع میں بھلا ہی دیتے ہیں لیکن معروضی حالات میں بھی فکری طور پر کم ہی بلوغت کا ثبوت دیتے ہیں۔ سوچئے تو سہی کہ کیا ایسے ہی واقعات ماضی میں بعد ازاں ہمارے بہت بڑے نقصان کا پیش خیمہ نہیں بنے تھے؟ کیا نائن الیون پر بعض لوگوں کی خوشی ہمارے لئے بہت مبارک ثابت ہوگئی تھی؟ کیا آج کا عالمی منظر نامہ مسلمانوں کے لئے زیادہ قابل قبول اور بہتر ہے یا اس سے پہلے کا منظر نامہ زیادہ پُر سکون تھا ؟ کیا مسلمانوں کے ملک، اموال اور ان کی جاگیریں اور جانیں، ان کے گھر اور مستقبل اتنے ہی بے قیمت ہیں کہ ہم انھیں اپنی کسی بھی عاقبت نا اندیشانہ و عاجلانہ خوشی کی بھینٹ چڑھا کے راکھ کر دیں یا کسی بھی نیم پخت ایڈونچر کی نذر کر کے شادیانے بجائیں؟ مجھے اپنے سکول کی فٹ بال ٹیم کے مقابل آئی وہ فٹ بال ٹیم یاد آتی ہے جس کے ہاں فٹ بال گراونڈ نہ ہونے کے باعث فٹ بال کبھی کھیلا ہی نہ گیا تھا۔ چنانچہ جب بھی ان کی ٹیم کا کوئی کھلاڑی فٹ بال کو ہٹ کرکے آسمان کی طرف اچھالتا وہ تالیاں پیٹ پیٹ کے آسمان سر پر اٹھا لیتے۔ وہ ایک بھی گول نہ کر سکے اور کئی گولوں سے ہار گئے۔ لیکن وہ اتنا بھی جانتے نہ تھے کہ فٹ بال میں بڑی اونچی ہٹیں لگانے سے نہیں ،ٹیم مخالف کو گول کرکیفاتح قرار پائی ہے۔

اسلام ہمیں کچھ اصول سکھاتا ہے جذباتیت نہیں، اور اسلام کے تحفظ میں آئے ایک شخص کا قتل دراصل اسلام کی تعلیمات سے تجاوز ہے۔ اور اس کی تائید کوئی رسولِ رحمتؐ کے منہج کو جاننے والا نہیں کر سکتا۔ ہمارے درد اپنی جگہ لیکن ہمیں پوری شدت سے اس کی مذمت کرنا ہوگی۔اپنی خواہشات پر نہیں نبوی تعلیمات پر عمل سے ہمارا اسلام خوش ہوتا ہے۔

مزید :

کالم -