انقرہ میں روسی سفیر کا قتل

انقرہ میں روسی سفیر کا قتل

ترکی میں روس کے سفیر آندرے کارلوف کو دارالحکومت انقرہ میں اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ ایک تصویری نمائش کے افتتاح کے موقع پر خطاب کر رہے تھے پولیس کی جوابی فائرنگ سے مسلح شخص بھی مارا گیا جس کا تعلق ترک پولیس سے بتایا جاتا ہے تاہم اس تقریب میں اس کی ڈیوٹی نہیں تھی۔ وہ روسی سفیر کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کرنے کے لئے جعلی کارڈ پر وہاں آیا تھا۔ گولی چلاتے ہوئے اس نے حلب کا بدلہ لینے کے الفاظ استعمال کئے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شام میں روس کے کردار سے بظاہر خوش نہیں لگتا تھا، روس نے اس واقعہ کو دہشتگردی قرار دیا ہے۔ روسی وزارت داخلہ نے سفیر کے قتل کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کا اعلان کیا ہے ترک صدر رجب طیب اردوان نے روسی صدر پیوٹن کو فون کر کے واقعے پر بریفنگ دی۔ جب کہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سفیر کا قتل روس اور ترکی کے بحال ہوتے ہوئے تعلقات کو متاثر کرنے کی سازش ہے۔ صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ سفیر کے قتل کا مقصد ماسکو اور انقرہ کے درمیان گرم جوش تعلقات اور شام میں جاری تنازعے کے حل کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔

روس اور ترکی کے درمیان اس وقت اچانک کشیدگی پیدا ہو گئی تھی جب ترکی نے ایک روسی طیارہ مار گرایا تھا جس پر ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام تھا واقعہ کے کئی ہفتوں تک ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی رہے گی۔ حالات اتنے کشیدہ ہو گئے تھے کہ یہ بھی محسوس کیا جانے لگا تھا کہ کہیں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہی نہ بھڑک اٹھے لیکن دونوں ملکوں نے انتہائی تدبر کے ساتھ حالات کو نہ صرف خراب ہونے سے روکا بلکہ ان میں ڈرامائی طور پر اتنی بہتری آ گئی کہ دنیا کے بعض ملکوں کو اس پر حیرت بھی ہوئی۔

15جون کو ترکی میں جو ناکام فوجی بغاوت ہوئی اس میں ایسی ڈرامائی صورتحال پیش آ گئی جو ترکی اور روس کو پہلے سے بھی زیادہ قریب لے آئی، صدر پیوٹن نے ترکی کے صدر کا دوست ہونے کا حق ادا کر دیا روس کو اپنے انٹیلی جنس ذرائع سے یہ اطلاع ملی تھی کہ ترکی میں فوج کے بعض یونٹ صدر اردوان کے خلاف بغاوت کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ صدر پیوٹن نے یہ اطلاع صدر اردوان کو دے دی چنانچہ انہوں نے ان معلومات کی بنیاد پر ترک عوام کی مدد سے نہ صرف بغاوت پر قابو پایا بلکہ اپنے آپ کو مضبوط اعصاب کا لیڈر بھی ثابت کیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بغاوت کے وقت دارالحکومت سے باہر تھے اور انہیں ’’محفوظ مقام‘‘ پر جانے کا مشورہ بھی دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اپنے عوام کے درمیان جانا پسند کیا جو ان کے ٹویٹ پر پہلے ہی سڑکوں پر نکل کر اپنا کردار ادا کر رہے تھے اور بغاوت کی کامیاب مزاحمت کر رہے تھے۔ عوام کے درمیان ان کی موجودگی سے لوگوں کے حوصلے بڑھے اور یوں وہ ایک مضبوط لیڈر کے طور پر ابھرے۔

ان واقعات نے اردوان کو ماسکو کے قریب تر کر دیا اور انہوں نے محسوس کیا کہ ان کا دوست کون ہے اور ان کی جڑیں کون لوگ کاٹ رہے ہیں وہ اظہار تشکر کے لئے ماسکو گئے اور اس دورے کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ شام میں بھی دونوں ملکوں کی پالیسی یکساں ہے اور وہ شاعر کے تنازعے کے حل کے لئے مل کر کردار ادا کر رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کا یہ قرب بعض ملکوں کوپسند نہیں آیا کیونکہ ترکی نیٹو کا رکن ہے اور اس حیثیت میں اس سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ امریکہ کی ہاں میں ہاں ملائے گا لیکن صدر اردوان نے امریکہ پر الزام لگایا کہ ناکام بغاوت میں اس کا ہاتھ ہے۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ ترک سکالر فتح اللہ گولن امریکہ میں مقیم ہیں اور ان کے حمایت یافتہ لوگوں کا بغاوت میں کردار ہے اس لئے اردو ان چاہتے ہیں کہ گولن کو ان کے حوالے کر دیا جائے امریکہ نے پہلے تو ثبوت مانگے اور جب ترکی نے ثبوت دے دیئے تو بھی سارے معاملہ کو تاویلات میں الجھانے کی کوشش کی گئی۔

اس کے بعد ترکی نے امریکہ سے فاصلے پیدا کر لئے اور روس کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے راستے پر چل نکلے، دونوں ملکوں کی یہ قربت مخالفین کو پسند نہیں آئی چنانچہ پہلے سازش کے تحت ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ ترکی نے غلط فہمی کا شکار ہو کر روس کا طیارہ مار گرایا اور اب انقرہ میں عین اس وقت روسی سفیر کو قتل کر دیا گیا جب وہ ایک ایسی نمائش کا افتتاح کر رہے تھے جس کا مقصد ہی دونوں ملکوں کو قریب تر لانا تھا۔ اس نمائش میں ایسے شہ پارے رکھے گئے تھے جن کے ذریعے دونوں ملکوں میں بہتر ہوتے ہوئے تعلقات مزید مضبوط ہوجاتے۔ ایسے موقع پر روسی سفیر کا قتل لمحۂ فکریہ ہے۔تاہم دونوں ملکوں کے صدور نے محسوس کر لیا ہے کہ یہ گہری سازش ہے اس لئے وہ بدگمانی کا شکار نہیں ہوئے اور ماسکو میں ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ کا جو اجلاس ہونے والا تھا وہ شیڈول کے مطابق ہوا روس کو ظاہر ہے اپنے سفیر کے قتل کا دکھ تو ہے اور اس نے سلامتی کونسل میں یہ مسئلہ اٹھانے کا اعلان بھی کیا ہے تاہم وہ اس سلسلے میں عالمی سازش کا شکار نہیں ہوئے جو بہت اچھی بات ہے۔

موجودہ حالات میں ترکی اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی تو دونوں ملکوں کے علاوہ مشرق و سطیٰ میں امن کو نقصان پہنچنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ لہٰذا ترکی کے سفیر کے قتل کی دہشت گردانہ واردات کو مثبت طرز عمل اتحاد اور حوصلے سے ہی برداشت کیا جائے۔گزشتہ روز ہی جرمنی میں بھی ایک ٹرک ڈرائیور نے کرسمس کے سلسلے میں جمع ایک ہجوم پر ٹرک چڑھا دیا جس سے نو افراد ہلاک ہو گئے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشتگردی کسی ایک ملک تک محدود نہیں اس مقصد کے لئے دنیا کے تمام ملکوں کو متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا اور دہشتگردی کے خلاف اپنے باہمی اختلافات کو فراموش کر کے ایسا لائحہ عمل بنانا چاہئے ۔ جس کے تحت دہشتگردی کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جا سکے۔

مزید : اداریہ