ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو مزید راز میں نہ رکھیں

ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو مزید راز میں نہ رکھیں

ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو منظرِ عام پر لایا جائے۔ کمیشن کے سربراہ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تمام واقعات اور کوائف دلائل کے ساتھ رپورٹ میں موجود ہیں۔ کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کرنا حکومت کی ذمہ دا ری ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کمیشن کی رپورٹ کی تفصیلات سے فوری طور پر عوام کو آگاہ کیا جائے۔جسٹس(ر) جاوید اقبال نے اپنی رپورٹ کے حوالے سے چونکا دینے والے انداز میں نہایت فکر انگیز بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رپورٹ کے بارے میں میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ تمام کرداروں کو بری الذمہ قرار دیا گیا، اس پر حیرت ہوئی کیونکہ حقائق کے خلاف باتیں میڈیا میں آئیں، جسٹس(ر) جاوید اقبال نے واضح کیا کہ رپورٹ میں ذمہ داران کا تعین کردیا گیا ہے۔ یہ بتادیا گیا کہ کون کس مرحلے پر ذمہ دار تھا اور کون کس مقام پر ذمہ داری پوری نہیں کر پایا۔ لہٰذا یہ تاثر غلط ہے کہ رپورٹ میں سب کو بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔ کمیشن کی رپورٹ کسی الماری میں پڑی ہوگی، اسے پڑھ لیا جائے۔ رپورٹ منظر عام پر آنے سے حقائق سب کے سامنے آجائیں گے۔

ایبٹ آباد کمیشن کا قیام تقریباً چار سال قبل عمل میں آیا تھا، جب ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی خفیہ قیام گاہ پر امریکی کمانڈوز رات کی تاریکی میں ایکشن کر کے اسامہ بن لادن کو مردہ حالت میں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔بعد میں ان کے جسدِ خاکی کو سمندر میں کسی خفیہ مقام پر ہمیشہ کے لئے ضائع کر دینے کی اطلاعات منظر عام پر آئی تھیں اس واقعہ سے ساری دنیا میں سنسنی دوڑ گئی تھی۔ پہلی وجہ تو یہ تھی کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا انکشاف ہوا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ امریکہ نے پاکستانی حکومت کو عین وقت پر (جب کمانڈو ایکشن مکمل ہو چکا تھا) اس ایکشن کے بارے میں آگاہ کیا۔ اصولی طور پر امریکی انتظامیہ کو پاکستانی حکومت کو اعتماد میں لینے کے بعد ایسا غیر معمولی کمانڈو ایکشن کرنا چاہئے تھا۔اس خفیہ ایکشن میں پاکستان کے ڈاکٹر شکیل آفریدی نے امریکیوں سے تعاون کے حوالے سے مرکزی کردار ادا کیا۔ اس سنسنی خیز واقعہ پر بہت ہنگامہ ہوا تو اس وقت کی حکومت نے جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنایا اور پانچ کروڑ روپے کے فنڈز دیئے گئے۔کمیشن نے اپنی رپورٹ تیار کر کے حکومت کے حوالے کر دی،جسے منظر عام پر نہیں لایا گیا،البتہ میڈیا رپورٹس میں قیاس آرائیوں کی وجہ سے حقائق کے خلاف باتیں سامنے آتی رہیں۔بہتر یہی ہے کہ اس رپورٹ کو منظر عام پر لاکر عام لوگوں کو حقائق اور تفصیلات سے آگاہ کیا جائے ورنہ غلط فہمیوں کا سلسلہ نہیں رکے گا، مختلف حلقے اپنی ضروریات اور سہولت کے مطابق کمیشن کی رپورٹ سے متعلق غیر ذمہ دارانہ طریقے سے ابہام پیدا کرتے رہیں گے۔اب یہ تاثر ختم کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر کمیشن کی رپورٹ ’’سرد خانے‘‘ کی نذر کر دی جاتی ہے، ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ تو غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے، انتہائی حساس معاملے پر قیاس آرائیوں کی گنجائش کا خاتمہ ہو نا چاہئے، یہی عوامی مفاد کا تقاضا ہے، اس میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔

مزید : اداریہ