نشے اور غربت کا ستایا ہوا شاعر۔۔۔ ساغر صدیقی

نشے اور غربت کا ستایا ہوا شاعر۔۔۔ ساغر صدیقی
 نشے اور غربت کا ستایا ہوا شاعر۔۔۔ ساغر صدیقی

  

اللہ کے آخری نبی ورسولؐ کی شانِ ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے سلسلے میں 1953ء کی تحریکِ ختم نبوت کا آغاز تھا، قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگی رہنماؤں کی حصولِ اقتدار کی کشمکش خوب زوروں پر تھی، آزادی ملنے کے بعد پنجاب کے پہلے وزیر اعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ کی وزارت علیا کی گدی پر میاں ممتاز دولتانہ براجمان ہو چکے تھے، تحریک ختم نبوت میں حصہ لینے کی سعادت پانے والوں کی تحریک کے ترجمان روزنامہ آزاد لاہور کے دفتر میں خوب رونق رہتی تھی۔ ایک دن کیا دیکھتا ہوں کہ میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس، سرکے بکھرے بال، چہرے پر غربت وافلاس کی سلوٹیں اور عجیب و غریب حالت میں ایک درویش میرے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ میں سمجھتا تھا کہ ابھی اپنی غربت کا رونا روکر مجھ سے بھیک مانگے گا مگر میری حیرت کی انتہا۔۔۔کہ اس نے دعا سلام کے بعد بیٹھتے ہی چائے کی فرمائش کی، میں نے دفتر کے خادم سے چائے لانے کو کہا تو اس نے ساتھ ہی سگریٹ کی ڈبیا لانے کی بھی فرمائش کردی، میں نے ساتھ بسکٹ لانے کا اضافہ کر کے خادم کو روانہ کر دیا، پھر میں نے نووراد کا تعارف اور ضروری معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس نے ساغر صدیقی نام بتاتے ہی اپنے چند اشعار سنائے۔

راہ گذر کے چراغ ہیں ہم

آپ اپنا سراغ ہیں ہم لوگ

چشم تحقیر سے نہ دیکھ ہمیں

دامنوں کا فراغ ہیں ہم لوگ

کلام کی روانی اور بلاغت سے میں بہت متاثر ہوا کہ یہ تو ’’ گودڑی میں لعل‘‘ کا مصداق ہے، اب ساغر صدیقی سے دوستی اور تعلقِ خاطر کا رشتہ قائم ہوگیا، وہ چند روز کے وقفے میں قدم رنجہ ہوتے تو حسبِ معمول آتے ہی چائے اور سگریٹ لانے کی فرمائش کرتے ہوئے لکھنے کے لئے کاغذ طلب کرتے اور میرے سامنے بیٹھ کر فی الدیہہ اپنا کلام لکھتے اور سناتے اور دفتری عملے سمیت موجود سامعین سے خوب داد وصول کرتے تھے۔

چنانچہ تحریک ختم نبوتؐ کی تائید میں ساغر صدیقی کے ساتھ ریڈیو پاکستان کے کاپی رائٹر علامہ لطیف انور، شریف جالندھری، جانباز مرزا، محمود مرزا پشاوری، حفیظ رضا پسروری، سائیں محمد حیات اور دیگر شعراء بھی ہمنوا اور شرکت کیا کرتے تھے،پھر تحریک ختم نبوتؐ رفتہ رفتہ ہمہ گیر ہوتی گئی اور صورتِ حال کی مناسبت سے سب سے زیادہ حسبِ حال کلام ساغر صدیقی اور علامہ شریف جالندھری کا ہوتا تھا، تحریک ختم نبوتؐ کی شدت پر دولتانہ صاحب نے عشاق عقیدۂ ختم نبوتؐ کی پکڑ دھکڑ شروع کردی تھی، چنانچہ سرگودھا میں مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم کے پوتے ذکاء اللہ امرتسری اور صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ سجادہ نشین آلومہار شریف کے فرزند خالد حسن کو ختم نبوتؐ کے نام سے جلسے کا انتظام کرنے پر گرفتار کر لیا تھا، جس پر علامہ شریف جالندھری نے لکھا تھا:

اسے یہ کہد وجوممتاز دولتانہ ہے

نہ کر غرور گرچہ تیرا زمانہ ہے

قدم قدم پہ ہیں جبر کے پہرے

گلی گلی تیرے ظلم کا فسانہ ہے

ممتاز دولتانہ کے خلاف یہ اشعار زبان زد عام ہوگئے تھے،حالات کی سنگینی اور تلخی کے پیشِ نظر ایک دن محکمہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میر نور احمد دفتر روزنامہ آزاد میں تشریف لائے اور وزیر اعلیٰ پنجاب ممتاز محمد خان دولتانہ کی طرف سے تحریک سے متعلق خبریں وغیرہ شائع کرنے سے اجتناب کرنے کی بات پہلے نرم لہجے میں اورپھر تہدید آمیر لب و لہجے میں حکمنامہ سنایا۔ میں نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوتؐ کی تبلیغ و اشاعت تو امت مسلمہ کا ایسا عقیدہ ہے جس کی کڑیاں اسلامی عقاید کی اساس سے وابستہ ہیں، ہم تو پر امن طریقے سے اور شائستہ انداز میں فریضہ انجام دے رہے ہیں، تشدد اور تلخی سے گریز کرتے ہیں۔ اس یقین دہانی کے باوجود میر نور احمد صاحب مطمئن نہ ہوئے اور اپنی فطری تھتھی زبان میں کچھ فرماتے ہوئے چلے گئے۔

چند روز بعد حکومت پنجاب کا نمائندہ آگیا جس نے ہوم سکرٹری سے ملاقات کا پیغام سنایا،ہوم سکرٹری صاحب سے حسبِ پروگرام ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی وزیر اعلیٰ کی حسبِ ہدایت پہلے ترغیب پھر تخویف کا حربہ استعمال کیا، میری جانب سے عقیدۂ ختم نبوتؐ کی تبلیغ و اشاعت کے سلسلے میں استقامت کا موقف دیکھ کر انہوں نے چائے سے تواضع کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ذمہ داریاں پوری دیانت سے پوری کردی ہیں۔ جہاں تک عقیدۂ ختم نبوتؐ کا تعلق ہے یہ مسلمان کے دین و ایمان کا معاملہ ہے ، اس سلسلے میں میرا عقیدہ بھی وہی ہے جو آپ کا ہے، دینِ اسلام کے احکام پر ثابت قدمی کے ساتھ ساتھ ذرا نرم اور شائستہ انداز میں اپنی صحافتی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔

بہرحال تحریک ختم نبوت ؐ ہمہ گیر ہوگئی، ملتان کی مسجد پھل ہٹاں کے سامنے ختم نبوت کے جلوس پر پولیس کی فائرنگ سے چند مسلمان شہید ہوگئے تو ساغر صدیقی نے اپنی ایمان افروز طویل نظم میں کہا:

ملتان کے شہیدو! ملتان کے ستارو!

تم نے اٹھالیا ہے بطحاکا سبز پرچم

ساغر صدیقی قادر الکلام اور بلند درجے کاشاعر تھا، زندگی کے ابتدائی ایام میں معاشی تنگدستی اور غربت و افلاس نے ایسا گھیرا ڈالا ہوگا کہ غم غلط کرنے کے لئے اس نے بھنگ بھری سگریٹ پی لی ہوگی، پھر وہی ہوا جو منشیات زدہ افراد کا حال ہوتا ہے۔ ساغر صدیقی سچا اور پکا عاشقِ رسول ؐ تھا اس کا نعتیہ کلام پڑھ کر اور سن کر ہر شخص اشکبار ہو جاتا ہے، اس نے کیا خوب نعتیہ شعر کہے ہیں، ملاحظہ فرمائیے:

جن کو الہام و نبوت کا امیں ہونا تھا

جن سے قائم ہوئے بیدارنگاہی کے اصول

دوشِ براق پہ پہنچے جو سرِ عرش بریں

وہ خلاؤں کے پیمبر وہ فضاؤں کے رسولؐ

محسن انسانیت ؐ کی ذاتِ اقدس کے ساتھ ساغر صدیقی کے گہرے عقیدت و محبت کے رشتے کے ہمدوش سید نا رسولؐ کے شہر مدینہ منورہ کی زیارت کے سلسلے میں ماہی بے آب کی مانند تڑپتے ہوئے وہ اپنی محرومی کا رونا روتے ہوئے کیا خوب اظہار کرتے ہیں:

دل ہاتھوں میں آجاتا ہے جب لوگ مدینے جاتے ہیں

بے تاب سماں تڑپاتا ہے جب لوگ مدینے جاتے ہیں

اے جی نہ ترس ہم اگلے برس ارمان نکالیں گے تیرے

جی ایسے کوئی بہلاتا ہے جب لوگ مدینے جاتے ہیں

کاش اس دور کے حکمراں ساغر صدیقی کی اس بے چینی اور محرومی کا احساس کرتے ہوئے حج کے موقع پر سرکاری حج وفد میں اس ’’ موربے مایہ‘‘ شاعر کانام بھی شامل کرلیتے تو روز قیامت وہ شفیع المذنبین ؐ کے دربارِ اقدس میں ساغر صدیقی کے درد بھرے شکوے سے اپنا دامن داغدار ہونے سے محفوظ کرسکتے تھے۔ ساغر صدیقی کے نعتیہ کلام کے چند اشعار یہ بھی ہیں:

اس کی لوری کے لئے لفظ کہاں سے لاؤں

سارے عالم کے مقدر کو جگایا جس نے

جس کے جھولے پہ ملائک نے ترانے چھیڑے

قیصر و کسریٰ کی منڈیروں کو ہلایا جس نے

جو کھلونوں سے نہیں شمس وقمر سے کھیلے

جن پر سایہ پر جبریل ؑ کیا کرتے تھے

گود میں لے کے گذرتی تھی حلیمہؓ جس سمت

خار اس راہ کے خوشبو سی دیا کرتے تھے

خوفِ طوالت کے پیشِ ساغر صدیقی کے اسی نعتیہ کلام پر اکتفا کرتے ہوئے ان کا غیر مطبوعہ کلام جو میرے گمشدہ کا غذات سے دستیاب ہوا ہے پیش خدمت ہے ملا حظہ فرمائیے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج کے حالات کے پیشِ نظر ساغر صدیقی مرحوم نے مشاہداتی اندازمیں یہ نظم تحریر کی ہے:

یہ تری گلیوں میں پھر رہے ہیں جو چاک داماں سے لوگ ساقی !

کریں گے تاریخ مے مرتب یہی پریشاں سے لوگ ساقی!

اگر یہ اندھیر اور کچھ دن رہا تو ایسا ضرور ہوگا

الجھ پڑیں گے بنام حالات زلفِ جاناں سے لوگ ساقی!

مطالبہ کررہے ہیں تجھ سے کوئی منظم الم عطا کر

یہ باخبر ہو چلے ہیں شاید غم فراواں سے لوگ ساقی!

کوئی نیا رنگ بخش اس کو کوئی نئی روح پھونک اس میں

گریز کرنے لگیں گے ورنہ حدیث یزداں سے لوگ ساقی!

چمن کی خیرات چند کانٹے ہی ڈال دے دامنِ طلب میں

وگرنہ مرجائیں گے لپٹ کر درِ گلستاں سے لوگ ساقی!

یہ جنگوؤں کی چمک پر بھی اب سنبھال لیتے ہیں اپنا خرمن

مجھے یقیں ہے کہ ڈرگئے ہیں شبِ چراغاں سے لوگ ساقی!

خیال ہے میکدے میں اِک بار اور شعلوں کا راج ہوگا

شنید ہے انتقام لیں گے نشاط دوراں سے لوگ ساقی!

لگا کوئی ضرب اس اداء سے کہ ٹوٹ جائیں دلوں کی مہریں

تری قسم تنگ آگئے ہیں سکوت پنہاں سے لوگ ساقی!

دلوں میں صد انقلاب رقصاں لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ

نہ جانے آئے ہیں کس جہاں سے یہ حشر ساماں سے لوگ ساقی!

ساغر صدیقی کی بھی کوئی انجمن ستائش باہمی ہوتی تو معاشرہ اور میڈیا اس کے ادبی محاسن بیان کرنے میں ضرور رطب اللسان ہوتا، اس کی برسی پر بھی کیک کاٹے جاتے اور اخبارات کے ساغر نمبر شائع ہوتے۔ مگر وہ مرد قلندر خاموشی کے ساتھ شہر خاموشاں کو روانہ ہوگیا۔ معاشرے کو تو ساغر صدیقی یاد نہیں البتہ وہ خدا کو یاد کرتاہوا کیا خوب کہہ گیا:

آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں

لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

مزید : کالم