خاص ہے تر کیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

خاص ہے تر کیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
 خاص ہے تر کیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ

  

ایوان سیرتِ رسولؐ سیالکوٹ میں ماہِ دسمبر کے لئے علامہ محمد اقبالؒ کا یہ مصرع’’ خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی ؐ ‘‘مجلس مذاکرہ کا عنوان تھا۔ تھنکرز فورم سیالکوٹ ہر مہینے سیرتِ نبویؐ سے رہنمائی کے لئے ایک تقریب کا اہتمام کرتا ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے بھی جب نظریۂ وطنیت کو مسترد کر کے اسلام کی اساس پر مسلمانوں کی الگ قومیت کا تصور پیش کیا تھا تو یہ ان کے اسلام اورسیرتِ رسولؐ کے مطالعہ کا حاصل تھا۔ اسلام کی وحدتِ دینی کو پارہ پارہ کرنے کے لئے انگریزوں نے نظریۂ وطنیت ایجاد کیا تھا۔ علامہ اقبالؒ اس نظریے کو باطل قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔

اقوام میں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے

قومیتِ اسلام کی جڑکٹتی ہے اس سے

علامہ اقبالؒ کا اسلامی قومیت کا جو تصورتھا۔ اسے سمجھنے کے لئے ان کا درج ذیل فرمان ہماری مدد کرتا ہے۔

اگر قومیت(وطنی قومیت) کے معنی حب الوطنی اور ناموس وطن کے لئے جان تک قربان کرنے کے ہیں تو ایسی قومیت مسلمانوں کے ایمان کا جزو ہے۔ اس قومیت کا اسلام سے اس وقت تصادم ہوتا ہے جب وہ ایک سیاسی تصور بن جاتی ہے اوراتحاد انسانی کا بنیادی اصول ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اسلام شخصی عقیدے تک محدود ہو جائے اور قومی زندگی میں ایک حیات بخش عنصر کی حیثیت سے باقی نہ رہے‘‘۔

علامہ اقبالؒ کے نزدیک وطن اور اسلام میں کوئی مخالفت نہیں۔ اسلام کی بنیاد پر تو علامہ اقبالؒ نے خود مسلمانوں کے لئے ایک الگ اور آزاد وطن کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن وطنی قومیت اور اسلامی قومیت میں تصادم ہے۔ اگر وطنی قومیت کو تسلیم کرلیا جائے تو اسلامی قومیت کی نفی ہوتی ہے۔ اسلامی قومیت کے اصول کو تسلیم کرواکے ہی پاکستان کا قیام عمل میں آیا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ علامہ اقبال اور خود قائد اعظمؒ بھی اسلام کو شخص عقیدے تک محدود نہیں سمجھتے تھے۔ ہمارے یہ دونوں عالی مرتبت رہنما اسلام کو قومی اور اجتماعی زندگی کے لئے بھی ایک مکمل ضابطہ سمجھتے تھے اور اسلام کو مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا حصہ بھی اسی صورت میں بنایا جاسکتا تھا جب مسلمانوں کی الگ ریاست معرضِ وجود میں آجاتی۔

علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

گفتارِسیاست میں و طن اور ہی کچھ ہے

ارشادِ نبوتؐ میں وطن اور ہی کچھ ہے

علامہ اقبالؒ نے متحدہ وطنی قومیت کے تصور کو ٹھکرا کر مسلم قومیت کے جھنڈے کو بلند کیا اور مسلمانانِ برصغیر کے لئے آزاد مسلم ریاست کے قیام کی منزل متعین کردی۔ اسلام کے سیاسی اور معاشی نصب العین پر عمل کرنے کے لئے علامہ اقبالؒ کے نزدیک مسلمانوں کے لئے ایک آزاد وطن کا قیام ضروری تھا۔ اسلام کے اساسی نصب العین کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تو پھر اس کے اخلاقی نصب العین کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسلام کا مذہبی نصب العین اور عمرانی نظام بھی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ ایک کے انکار سے دوسرے کا انکار لازم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اسلام کے سیاسی نصب العین سے انکار خود اسلام سے انکار کے مترادف ہے۔ اسلامی نظام حیات کے گہرے شعور ہی کے باعث علامہ اقبالؒ نے وطنی قومیت کے تصور کورد کیا تھا۔ اور قائد اعظمؒ نے اسلامی قومیت کے تصور ہی کو اپنا نصب العین بنا کر مسلمانوں کے کاروانِ ملت کو ترتیب دیا تھا۔

بازو تراتوحید کی قوت سے قوی ہے

اِسلام تیرادیس ہے تو مصطفوی ہے

قائد اعظمؒ نے اسلام کے تصورِ قومیت کو اپنے ایک فرمان میں کس طرح اجاگر کیا؟ اور قائد اعظمؒ نے علامہ اقبالؒ کے اس مصرعے ’’خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِؐ ہاشمی ‘‘ کی کن الفاظ میں تشریح فرمائی؟ ملاحظہ کریں۔

’’ہم دونوں قوموں میں صرف مذہب کا فرق نہیں۔ ہمارا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے۔ ہمارا دین ہمیں ایک ایسا ضابظۂ حیات دیتا ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ ہم اس ضابطہ کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

قائد اعظمؒ کے اس ارشاد سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ مسلم لیگ کی طرف سے قیام پاکستان کا مطالبہ صرف مسلم قومیت کی ہی بنیاد پر نہ تھا بلکہ اس کا مقصد اسلام کے نظامِ حیات پر عمل کرنا تھا۔ قائد اعظمؒ کا یہ پیغام ان لوگوں کے لئے بھی جواب ہے جویہ کہتے ہیں کہ پاکستان مسلمانوں کی خاطر قائم ہوا تھا، اسلامی نظام حیات کے لئے نہیں، اس کج فکر اور عقل سے محروم طبقے سے میرا سوال یہ ہے کہ مسلمان اور اسلام الگ الگ کیسے ہوگئے؟

علامہ اقبالؒ بجا طور پر یہ فرماتے تھے کہ دین تو خدا کی طرف سے ملتا ہے لیکن امت کی تشکیل نبی اور رسول کی نسبت سے ہوتی ہے۔ جب اور جن لوگوں نے حضور نبی کریمؐ کی رسالت کا اقرار کرلیاوہ امت مسلمہ یا ملتِ محمدؐیہ بن گئے۔ اگر وطنی اور نسلی قومیت کو ہی ترجیح دی جائے تو پھر امتِ محمدؐیہ سے آپ کا رشتہ برقرار نہیں رہتا۔ مسلمانوں کے لئے قابل اعزاز بات یہ ہے کہ وہ آخری رسولؐ کی امت ہیں۔ امتِ محمدیہؐ کے بعد اب اور کوئی امت پیدا نہیں ہوگی۔ جس طرح نبوتِ محمدیہؐ کا مل و اکمل ہے، اسی طرح دین اسلام بھی مکمل ہے اور دینِ اسلام نے ہمیں جو ضابطۂ حیات دیا ہے وہ بھی ہر اعتبار سے جامع اور مکمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری قومیت اشتراک ایمان کی وجہ سے اور اگر ہمارے پیشِ نظر رسولِؐ ہاشمی پر ایمان لانے کی نسبت سے ایک قوم کا تصورنہ ہوتا تو ہم کبھی بھی قیام پاکستان کا مطالبہ نہیں کرسکتے تھے۔ قائد اعظم نے مارچ 1940ء میں لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ ’’ہمارے ہندو دوست‘‘ اسلام اور ہندومت کے امتیاز کو سمجھنے سے کیوں گریز کرتے ہیں۔ ہندومذہب اور اسلام دو الگ الگ مذہب ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے سے مختلف معاشرتی نظام ہیں۔ اس لئے متحدہ قومیت کا تصور ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ہندو اور مسلمان ہر معاملے میں دو جداگانہ فلسفے رکھتے ہیں۔ دونوں کی معاشرت اور تہذیبیں الگ الگ ہیں۔ جن کی بنیاد متضاد تصورات پر مبنی ہے‘‘۔

قائد اعظم کے اس ارشاد کے بعد میں یہ عرض کروں گا کہ وحدتِ اسلام کی اسا س پر ہی ہم ایک قوم ہیں اور اسی بنیادپرتحریکِ پاکستان شروع ہوئی۔ جغرافیائی طور پر دنیا میں اگرچہ مسلمان مختلف ملکوں میں تقسیم ہیں، لیکن وحدتِ قوم کی بنیاد ہمارے لئے اسلام ہے۔ ہمیں اپنی نسلی اور وطنی عصبیتوں کو اسلام پر مقدم نہیں سمجھنا چاہیے۔ کاش پوری دنیا میں اسلام کی بنیاد پر ہمارے اندر وحدتِ امت کا جذبہ بیدار ہو جائے تو مسلمان اجتماعی طور پر اس زوال سے نجات حاصل کرسکتے ہیں جس کا اس وقت ہم شکار ہیں۔ انتہائی تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان تو ایک ملک کے اندر بھی مختلف تعصبات کے باعث آپس میں تقسیم ہیں۔ کچھ اسلامی ملکوں کی حکومتیں اغیار کی آلۂ کاربن کر اپنے ہی مسلمانوں کا انتہائی سفاکی اور بیدردی سے خون بہارہی ہیں۔ دشمنوں کے مقابلے میں ہماری شکست اور زبوں حالی کی بڑی وجہ بھی یہ ہے کہ ہماری صفوں میں اتحاد باقی نہیں رہا۔ ہم زبانی طور پر تو خود کو ’’قومِ رسولِؐ ہاشمی‘‘کہتے ہیں لیکن اسلام کی بنیاد پر وحدتِ امت کے جو تقاضے ہیں وہ ہم پورے کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

کتنی ستم ظریفی ہے کہ بنگلہ دیش میں آج ان سیاست دانوں کو تختۂ دار پر لٹکایا جارہا ہے جنہوں نے وحدتِ امت اور اتحادِ پاکستان کی خاطر جنگ لڑی تھی۔ آئینی ، قانونی اور اخلاقی اعتبار سے بھی اگر دیکھا جائے تو جب پاکستان ابھی مشرقی اور مغربی دونوں حصوں پر محیط تھا اس وقت متحدہ پاکستان کے لئے جنگ میں حصہ لینا جرم کیسے بنتا ہے۔جرم تو وہ تھا کہ انڈیا آج بھی برسرعام یہ اعتراف کررہا ہے کہ پاکستان کو توڑنے میں بنیادی کردار انڈیا کے حکمرانوں اور فوج کا تھا۔ جو لوگ پاکستان کو توڑنے کے لئے انڈیا سے مل گئے وہ تو ’’ محب وطن‘‘ ٹھہرے اور جن لوگوں نے اپنے وطن کے دفاع میں جنگ لڑی، انہیں ’’ غدار‘‘ قرار دے ڈالا گیا۔ گویا حب الوطنی اور غداری کے معنی ہی تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔ جو لوگ بنگلہ دیس کے قیام کے بعد پارلیمنٹ کے ممبر بھی منتخب ہوتے رہے۔ بلکہ وزیر بھی رہے۔ اگر وہ ’’ غدار‘‘ تھے تو بنگلہ دیش کے عوام نے انہیں 1971ء کے بعد بھی منتخب کیوں کیا؟اگر بطور مسلمان دیکھا جائے تو اسلامی قومیت کا دفاع کرنا تو ہر پاکستانی کا فرض بنتا تھا۔ جنہوں نے اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک کی مقدس سرحدوں کا دفاع کیا انہیں مجرم گرداننا تاریخ کو مسخ کرنے اور حب الوطنی کے تصور کے ساتھ سنگین مذاق کرنے کے مترادف ہے۔ کاش ہم میں تحریکِ پاکستان جیسا جذبہ برقرار رہتا تو ہم ایک قوم ہونے کے اعزاز سے کبھی محروم نہ ہوتے اور نہ ہی سانحۂ مشرقی پاکستان رونما ہوتا۔ اگر ہم دوبارہ ’’قومِ رسولِ ؐ ہاشمی‘‘ بن کر سوچیں اور وحدتِ امت کے بھولے ہوئے راستے پر پھر سے اپنے سفر کا آغاز کردیں تو میرا ایمان ہے کہ جدا ہونے والے بھائی پھر سے متحد ہو سکتے ہیں۔ آئیے، علامہ اقبالؒ کا پیغام سنئیے ۔

مزید : کالم