شام میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ (1)

شام میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ (1)
شام میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ (1)

  

چند روز پہلے لاہور سے میری ای میل پر سحرش جاوید صاحبہ کا ایک پیغام موصول ہوا،ان کے علاوہ اور کئی قارئین نے بھی ایسے ہی سوال پوچھے اور کہا: ’’ہمیں شام کی تازہ صورتِ حال سے مطلع کریں کہ وہاں دراصل ہو کیا رہا ہے‘‘۔

عمومی سوالات یہ تھے:

1۔شام میں کس طرح کی جنگ چل رہی ہے؟

2۔شامی حکومت اپنی ہی رعایا کو کیوں قتل کر رہی ہے؟

3۔کون سی قوتیں اور پارٹیاں ہیں جو اس جنگ میں پیش پیش ہیں؟

4۔اس جنگ میں امریکہ، اسرائیل،روس، سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کاکیا رول ہے؟

5۔ دوسرے مسلم ممالک اور خاص طور پر او آئی سی (OIC) شامی مسلمانوں کے اس قتلِ عام پر خاموش کیوں ہے؟

یہ سارے سوالات بہت اہم ہیں اور ہماری ازبس توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان عوامل کا تفصیلی علم ہر اس پڑھے لکھے مسلمان کو ہونا چاہیے جو ایک طویل مدت سے سن رہا ہے کہ شام میں فلاں بربادی ہو رہی ہے اور فلاں تباہی سر اٹھا رہی ہے اور فلاں ہلاکتیں سننے اور دیکھنے میں آ رہی ہیں اور فلاں آفتیں ہیں جو شامی مسلمانوں کو جھیلنی پڑ رہی ہیں۔

سچی بات پوچھیں تو اول اول میں بھی اسی الجھن میں گرفتار رہا کہ شام کے اربابِ اقتدار اپنے ہی عوام کو اس بے دردی اور اس سنگدلی سے موت کے گھاٹ کیوں اتارے چلے جا رہے ہیں۔۔۔ تاہم جوں جوں وقت آگے بڑھا، ان قوتوں کا دوغلا پن تحلیل ہونے لگا جن کے چہروں پر دو منہ لگے ہوتے ہیں۔ایک چہرہ تو سامنے اصل جگہ پر فِٹ ہوتا ہے جس پرایک منہ بھی ہوتا ہے جبکہ دوسرا منہ اس چہرے پر سجا ہوتا ہے جو گُدّی کی طرف ہوتا ہے اور بادی النظر میں نظر نہیں آتا۔ لیکن حرفِ گفتہ تو چاہے سامنے سے ہو چاہے عقب سے، آواز سنائی دیتی رہتی ہے!

جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، عراق کی طرح شام بھی کثیر القومی اور کثیر العقیدہ آبادیوں کا دیس ہے جس میں دروزی، زیدی، شیعہ،سنی اور وہابی مسالک کے مسلمان بستے ہیں(بلکہ اب کہنا چاہیے کہ بسا کرتے تھے) اور ساتھ ہی ایک تھوڑی سی تعداد کر سچین کی بھی تھی۔ کہنے کو تو شام میں صدارتی نظام رائج ہے لیکن ویسا صدارتی نہیں جیسا امریکہ یا فرانس وغیرہ میں ہے۔شام میں تو کئی عشروں سے ٹوٹل بادشاہت اور آمریت چل رہی ہے اور بشارالاسد کا تعلق جس مسلک سے ہے وہ معروف اہلِ تشیع مسلک سے قریب تر ہے۔ کثیر العقیدہ آبادیوں کے بس جانے کی وجہ، شام کا وہ ماضیء بعید ہے جس میں دنیا کے بیشتر رسول اور پیغمبر اس سرزمین میں پیدا اور مبعوث ہوئے اور یہیں سے دوسرے ہمسایہ ممالک کا رخ کیا اور دین حق کی ترویج میں نمایاں حصہ لیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ شام کی موجودہ زدوخورد اور نبردآزمائی میں خود شامی حکومت کا رول کلیدی نہیں، ثانوی ہے۔ اصل رول ایران کا ہے جس کی پشت پر روس ہے۔ اور دوسری طرف سعودی عرب کا رول ہے جس کی پشت پر امریکہ ہے۔ شام کی یہ جنگ گویا پراکسی در پراکسی وار ہے۔ یعنی ایران اور سعودی عرب تو پراکسی وار لڑ رہے ہیں جبکہ ان کی پشت پر روس اور امریکہ اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی خاطر پراکسی در پراکسی وار کے کردار ہیں۔۔۔ یہ فقرہ لکھتے ہوئے نجانے کیوں اقبال یاد آ گیا ہے ۔ان کے مخاطب اس شعر میں مشرق وسطیٰ کے یہی ممالک تھے:

اے کہ نشناسی خفی را، از جلی ہشیار باش!

اے گرفتارِ ابوبکرؓ و علیؓ ہشیار باش!

[اے کہ تو پوشیدہ رموز سے ناواقف ہے، ظاہرا حقائق سے تو خبردار ہو۔ اور اے ابوبکرؓ (سنّی) و علیؓ (شیعہ) کے پیرو کارو (اس سنی شیعہ جھگڑے سے) بچ کر رہو]

ذرا مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ اپنے سامنے پھیلایئے۔ آپ کو ایران، عراق، شام اور لبنان کی زمینی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی نظر آئیں گی لیکن ان چاروں ممالک کی مسلکی سرحدیں بھی ملتی ہیں۔آج عراق میں جو حکومت قائم ہے اس پر ایران کا بڑا اثر و رسوخ ہے۔ شام اور لبنان کی حکومتیں بھی شیعہ مسلک کی پیروکار ہیں۔۔۔ اگر مسلح فوجیوں کا کوئی ٹرک تہران (ایران) سے نکلتا ہے تو اسے بغداد (عراق)، دمشق (شام) اور بیروت(لبنان) تک چلے جانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ان چاروں ملکوں کی حکومتیں ہر طرح سے آپس میں گویا گھی شکر ہیں۔۔۔ ایران کا ٹینک دندناتا ہوا بیروت تک جا سکتا ہے اور بیروت کا توپخانہ گڑگڑاتا ہوا دمشق سے ہوتا بغداد اور تہران میں جا رکتا ہے۔راستے میں کوئی روک ٹوک نہیں آتی۔

نوگیارہ (11ستمبر 2001ء ) کے بعد امریکہ آیا تو افغانستان کو برباد کرنے کے لئے تھا لیکن کابل و قندھار کو فتح کرنے کے فوراً بعد نجانے کس نجومی نے بش جونیئر کو بتایا تھا کہ عراق کے صدام کے پاس جوہری اور کیمیاوی ہتھیار موجود ہیں جن کو Weapons of mass destruction یعنی ’’ہمہ گیر تباہی والے ہتھیار‘‘ کہا گیا۔اس لئے بش نے سوچا کہ پہلے عراق کی خبر لی جائے۔ چنانچہ امریکی افواج کا بیشتر حصہ افغانستان سے نکل کر عراق میں جا اترا۔۔۔۔ یہ اوائل 2003ء کا واقعہ ہے۔۔۔ پھر 2003ء سے لے کر 2011ء تک امریکی گراؤنڈ، ائر اور نیول فورسز نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور صدام کو گرفتار کرکے تختہء دار پر کھینچ دیا ۔ صدام کا تعلق بعث پارٹی سے تھا جو ایک سنی العقیدہ سیاسی تنظیم تھی۔ لیکن موصل، کرکوک، بغداد،، رمادی، فلوجہ، حبانیہ، القائم، کوفہ اور بصرہ کی گھر گھر تلاشی کے بعد بھی جب وہاں سے کوئی ایٹمی یا کیمیائی بم برآمد نہ ہوا تو امریکی فوج وہاں سے واپس چلی گئی۔ لیکن دریں اثناء سارا عراق راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا اور صدام کی سنی العقیدہ افواج یا تو شکست کھا گئیںیا پسپا ہو کر شمال میں کردوں کے پہاڑی علاقوں میں جا بسیں۔ اس طرح بغداد میں طاقت کا جو خلا پیدا ہو گیا تھا اسے امریکیوں کی ملی بھگت کے ساتھ اس عراقی ملیشیاء نے پورا کر دیا جسے ایران کی طرف سے مسلکی، مالی، اسلحی اور تربیتی امداد حاصل تھی۔ پھر جب 2012ء میں امریکیوں نے عراق سے نکل جانے کا فیصلہ کیا تو ایران کی نگاہیں عراق سے نکل کر شام کے شیعہ حکمرانوں کی طرف اٹھنے لگیں۔ اب مشرقِ وسطیٰ کا یہ حصہ (ایران، عراق، شام اور لبنان) ایک ایسا مسلکی اور عسکری بلاک بننے جا رہا تھا جو ایران کے مذہبی حریف اور اس خطے کے دوسرے پاور فل سیاسی فریق کے لئے از بس خطرے کا باعث تھا۔۔۔ اس حریف اور فریق کا نام سعودی عرب تھا!

مشرق وسطیٰ کی اس سٹرٹیجک بساط پر سعودی عرب کی محدودات (Limitations)اس کی مقدورات (Capabilities) سے زیادہ تھیں۔۔۔ سعودی مقدورات میں سب سے پہلے اس کا ’’کالا سونا‘‘ (تیل) تھا، دوسرے اس کی پشت پر امریکہ اور سارا مغربی یورپ تھا اور تیسرے اسے 57 اسلامی ممالک کی مذہبی قیادت کا شرف بھی حاصل تھا۔۔۔ لیکن سعودی عرب کی محدودات یہ تھیں کہ اسے کسی طویل علاقائی جنگ کا کوئی تجربہ نہ تھا، اس کی افواجِ ثلاثہ (گراؤنڈ، ائر اور نیول) جنگ آزمودہ نہیں تھیں، اس کے اسلحہ و بارود کا سارا دارومدار مغربی درآمدات پر تھا،اس کا وار سٹیمنا (Stamina) ایران کے مقابلے میں بہت کم تھا اور اس کی سول آبادی کسی طویل جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔

سعودیوں کو قطر، کویت، بحرین اور عرب امارات کے جس بلاک کی حمائت حاصل تھی اس کا موازنہ بھی اگر ایرانیوں سے کریں تو ایران کو عراق، شام اور لبنان کی صورت میں جس بلاک کی پشت پناہی حاصل تھی اس کی ملٹری ہسٹری مقابلتاً بڑی تابناک تھی۔ ان سب ملکوں نے سالہا سال تک جنگیں دیکھی اور لڑی تھیں اور شکستیں بھی کھائی تھیں لیکن شکست بھی جنگ کا ایک آپریشن ہوتی ہے! آپ شکست خوردہ دشمن کو کسی ایسے دشمن سے ہمیشہ زیادہ خطرناک شمار کرتے ہیں جو جنگ نادیدہ یا جنگ ناآزمودہ ہو۔ سعودی عرب کو نظر آ رہا تھا کہ ایرانیوں نے اگر تہران سے بیروت تک ایک شیعہ بلاک بنا لیا تو اس کا اگلا ہدف ریاض ہوگا۔ چنانچہ اس نے دنیا کی واحد سپرپاور امریکہ کو امداد کے لئے پکارا۔ امریکہ ویسے تو ہمیشہ اس قسم کی مہم جوئیوں کے لئے دل و جان سے ’’حاضر‘‘ رہتا ہے لیکن گزشتہ ایک ڈیڑھ عشرے میں افغانستان، عراق اور لیبیا کی براہ راست جنگوں نے اس کی اقتصادی اور ملٹری مشین میں کئی ڈنٹ (Dents) ڈال دیئے تھے۔ وہ ان تینوں اسلامی ملکوں کے جنگی میدانوں میں براہ راست کودا تھا اور براہ راست لاکھوں عربوں کو ہلاک کرکے اپنے بھی ہزاروں ٹروپس مروا لئے تھے۔ اس کو نظر آ رہا تھا کہ اگر اب دوبارہ ان ممالک کے جنگی میدانوں میں کود کر سعودیوں کی تمنائیں پوری کرنے کی کوشش کی گئی تو امریکی قوم شائد اس کی متحمل نہ ہو سکے گی۔ اس لئے اس نے براہِ راست از سر نو جنگ میں کودنے کی کوشش پر ’’پراکسی در پراکسی وار‘‘ کو ترجیح دی۔ اسی پراکسی وار نے داعش (دولت اسلامی عراق و شام) یا (ISIS)یا (IS) کو جنم دیا۔(جاری ہے)

مزید : کالم