قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس جاری، دانیال عزیز کی بات پر شدید شوروغل

قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس جاری، دانیال عزیز کی بات پر شدید شوروغل

سیاسی ڈائری

اسلام آباد سے ملک الیاس

قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس جاری ہے ،تحریک انصاف نے جو ایک عرصے بعد اجلاسوں میں شریک ہوئی اجلاس کے پہلے روز سے ہنگامہ آرائی کا سلسلہ شروع کردیا،اپوزیشن کی جانب سے گونواز گو کے نعروں سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا،ادھر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی قومی اسمبلی میں آمد کو وزیراعظم محمدنوازشریف کی اسمبلی میں آمد اور جواب دینے سے مشروط کررکھا ہے انکا کہنا ہے کہ میں صرف اراکین کی تقریریں سننے اسمبلی میں نہیں آسکتا،وزیراعظم ایوان میں آکر جواب دیں میں دوڑا چلا آؤں گا،گزشتہ دنوں دانیال عزیز کے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے پر اپوزیشن ارکان غصے میں آ گئے، پی ٹی آئی ارکان نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور شدید نعرے بازی شروع کردی اسپیکر کی طرف سے اپوزیشن ارکان کو نشستوں پر بیٹھنے اور خاموش رہنے کی اپیلیں بے سود ثابت ہوئیں،جس پر انکا کا کہنا تھا کہ اپوزیشن فیصلہ کر کے مکر گئی ہے ، اسپیکر نے خورشید شاہ کو فلور دیا لیکن نعرے بازی کے باعث وہ بھی بات نہ کر سکے۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا وزیراعظم خود ایوان میں آئیں کسی دوسرے کی وضاحت قبول نہیں،شاہ محمود قریشی نے کہا قطری شہزادے کے خط نے ابہام پیدا کیا، دانیال عزیز نے پی ٹی آئی کے شور شرابے کو چھپکلی کی دم سے تشبیہہ دی اور کہا پہلے یہ بتائیں عمران خان کب اسمبلی آئیں گے، خواجہ آصف نے بھی جملہ کسا روز عمران خان کا انتظار کرتا ہوں کسی دن اس پردہ نشین کو بھی لے آئیں ، دانیال عزیز کاکہنا تھا کہ تحریک انصاف کرپشن کے ثبوت پیش نہیں کرسکی ہے‘ مختلف اداروں اور پارلیمنٹ کے بارے میں کیسی کیسی زبان استعمال کی گئی‘ سات ماہ قبل انہوں نے جو بات کی تمام دروازے کھٹکھٹانے اور اداروں کی تضحیک کے بعد آج پھر اسی جگہ پر آکر وہی بات کر رہے ہیں‘ انہوں نے منی لانڈرنگ‘ ٹیکس چوری‘ اثاثے چھپانے کا آج اپنی تقریروں میں ذکر تک نہیں کیا۔ بس ایک وکیل کی بات لے کر اس کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، 35 پنکچر کی طرح ان کا یہ بیان بھی سیاسی ہے‘ تحریک انصاف بتائے کہ جنرل حامد کو جب نیب سے فارغ کیا گیا تو اس وقت کون کون سے کیس ان کے زیر سماعت تھے‘ تیسرے درجے کی دوائیاں بنانے کا کیس سامنے آنے پر ڈپٹی ڈائریکٹر طور کو فارغ کیا گیا‘ ان کی کرپشن کے ساتھ کوئی سنجیدگی نہیں ہے‘ نواز شریف سے یہاں آکر وضاحت طلب کرنے والے بتائیں کہ عمران خان کیوں یہاں سے غائب ہیں۔

سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد کو ساڑھے تین سال بعد فلور ملنے پروہ بھی قومی اسمبلی میں خوب بولے، انہوں نے عمران خان کے ساتھ وزیراعظم کا ریفرنس الیکشن کمیشن نہ بھیجنے پر اسپیکر سے شکوہ کیا اور کہا ایاز صادق دونوں کا ریفرنس بھیجتے تو ان کی خوبصورتی اور شان بڑھ جاتی،انہوں نے اپنے خطاب میں پیپلز پارٹی کو بھی نہیں بخشا انکا کہنا تھا کہ خورشید شاہ پارلیمنٹ کی بات کرتے ہیں 27 دسمبر کے بعد پیپلز پارٹی کا بھی پتہ چل جائے گا،انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچے بڑی بڑی ڈگریاں لے کر بھی بیروزگار ہیں لیکن ان کے وہ بچے جنہوں نے داخلے بھی سیلف فنانس پر لیے ہیں 19 سال کی عمر میں اربوں کی پراپرٹی بنا لیتے ہیں،پاناما کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں وزیر اعظم کے وکیل نے ہاتھ اٹھادیے اور کہا کہ ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں، پاناما کے ایشو پر ساڑھے سات مہینے یہ لوگ فٹ بال بنے رہے لیکن ٹی او آر ہی نہیں بنے ۔

دوسری طرف وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے سانحہ کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ کے بعد اپنی صفائی میں پریس کانفرنس کرکے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کاجواب دیا انہوں نے پارلیمنٹ میں تحریک استحقاق پیش کیے جانے کی صورت میں سامنا کرنے کااعلان کیا،چوہدری نثار کاکہنا تھا کہ وہ تو وزیراعظم محمدنوازشریف کو استعفیٰ دینے کیلئے گئے مگر انکا استعفیٰ قبول نہیں کیا گیا انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج کی رپورٹ میڈیا میں مرچ مصالحوں کے ساتھ پڑھی گئی ہے اور جن لوگوں کو مجھ سے سیاسی و غیرسیاسی تکلیف ہے انہوں نے بھی کوئی کسر نہیں رہنے دی لیکن سانحہ کوئٹہ کمیشن رپورٹ پر سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں اپنی صفائی پیش کروں گا، سانحہ کوئٹہ پرجوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو سپریم کور ٹ سمیت ہرفورم پر چیلنج کروں گا، جن لوگوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں ان کو یقین دلاتاہوں کہ ہر چیز کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کرونگا، میرے لئے وزارت نہیں عزت اہم ہے، اپنی عزت کا دفاع کرونگا، عزت کے بغیر عہدے لعنت سے کم نہیں ، کسی کو احساس نہیں کہ ملک کی سکیورٹی انتہائی حساس ہے، سکیورٹی پلان اوردہشت گردی کے خلاف جنگ کونقصان پہنچایا جارہا ہے ، سمجھ نہیں آتی کہ ہمارا موقف سامنے آئے بغیر یکطرفہ خبر کیسے سامنے آگئی، انٹیلی جنس بنیادوں پر 20 ہزار سے زیادہ آپریشنز ہو چکے ہیں ،نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد کاریکارڈ سامنے لاؤنگا۔ نیشنل ایکشن پلان کا جسے پتہ ہی نہیں وہ بھی بات کر رہاہے،میں نے اہلسنت والجماعت سے نہیں دفاع پاکستان کونسل کے وفد سے ملاقات کی،سانحہ کوئٹہ انکوائری کمیشن نے مینڈینٹ سے ہٹ کر مجھ سے سوالات پوچھے،وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کی پریس کانفرنس پر پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کا شدید ردعمل سامنے آیا پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری نے سپریم کورٹ سے وزیر داخلہ کے استعفی نہ دینے کا نوٹس لینے کی اپیل کر د ی انکا کہنا تھا کہ چودھری نثار کے خلاف چارج شیٹ حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے۔پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمن نے کچھ یوں تبصرہ کیا کہ وزارت داخلہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کروانے میں ناکام ہو گئی۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے وزیر داخلہ چوہدری نثار پر عدالت کی تضحیک کا الزام عائد کردیا انکا کہنا تھا کہ چوہدری نثار نے سپریم کورٹ کی تضحیک کی اور عدالت پر حملہ آور ہوئے جو خطرناک بات ہے ، وزیر داخلہ کا بات کرتے ہوئے لہجہ بھی درست نہیں تھا،انہوں نے نیوز کانفرنس میں نامناسب انداز اپنایا ، سانحہ کوئٹہ پر کمیشن کی رپورٹ کے بعد وفاقی وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس سے متعلق تحریک انصاف نے کئی سوالوں کے جواب مانگ لئے۔ انہوں نے سانحہ کوئٹہ کمیشن رپورٹ کے حوالے سے بھی حکومت کوکڑی تنقید کانشانہ بنایا ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سانحہ کوئٹہ پررپورٹ سامنے نہ لانے کی پوری کوشش کی تاہم سانحہ کوئٹہ پر کمیشن کی رپورٹ حاضر سروس جج کی ہے اور جسٹس قاضی فائزعیسی کی شہرت پوری دنیا جانتی ہے جب کہ کمیشن کی رپورٹ سے حکومت کی نااہلی سامنے آئی ہے،وزیر داخلہ کی اجازت کے بغیر اسلام آباد میں ہزاروں افراد کا اجتماع کیسے ہوا، کوئی بغیر اجازت ہزاروں کی تعداد میں آئے تو کسی کو کچھ نہ کہا جائے لیکن پی ٹی آئی اجازت لے تو اسے لاٹھی، تذلیل اور دھکے ملتے ہیں۔ سپریم کورٹ کی رپورٹ کے بعد پی ٹی آئی وزیرداخلہ، وزیراعلی بلوچستان اور صوبائی وزیرداخلہ سے استعفی کا مطالبہ کرتی ہے، پاناما لیکس پر وزیراعظم کے بیان میں تضاد سامنے آگیا، وزیراعظم کے وکیل نے مختلف موقف پیش کیالیکن اگر وزیراعظم اپنے خطاب پر قائم ہیں تو قطری شہزادے کا خط واپس لیں اور ایوان میں آکر ابہام دور کریں ،اب دیکھنا یہ ہے رواں قومی اسمبلی کے اجلاس میں سیاسی گرماگرمی کا پارہ مزید بڑھتا ہے یا اس میں کوئی کمی بھی دیکھنے کو ملے گی۔

مزید : ایڈیشن 1