وزیر اعظم نے تزئین و آرائش والے اقبال پارک کا افتتاح کردیا

وزیر اعظم نے تزئین و آرائش والے اقبال پارک کا افتتاح کردیا

لاہور کی ڈائری

جشن ولادت رسولؐ کی تقریبات تو اب بھی جاری ہیں اور متعدد عاشقان رسولؐ نے ابھی بھی گھروں سے روشنیاں نہیں اتاریں، تاہم 12 دسمبر اور 12ہی ربیع الاول کو زندہ دلان لاہور نے جی بھر کے سلام و درود پیش کیا، اس روز سعید کے بعد یہاں معمول کی سرگرمیاں بھی بحال ہوئیں، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان لاہور آئے اور انہوں نے اپنی جماعت کے اجلاسوں کے علاوہ بعض تقریبات میں بھی شرکت کی اور خطاب کیا، عمران خان نے پھر اعلان کیا کہ وہ اور ان کی جماعت پاناما کیس کی پیروی نہیں چھوڑے گی ابھی مقدمہ عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہے اور یقین ہے کہ انصاف مل جائے گا انہوں نے کہا جہاں تک مایوسی کا تعلق ہے تو یہ سماعت کے التوا سے ہوئی کہ ہمارے خیال میں کیس کا فیصلہ اسی بنچ کو سنانا چاہئے تھا، بہر حال اب بھی توقع ہے کہ جنوری کے شروع میں ہی نیا بنچ بن جائے گا اس میں وہ تمام جج ضرور ہونا چاہئیں جو پہلے بنچ میں شامل تھے، عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں بڑا دلچسپ جواب دیا ہے، قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے انہوں نے کہا ’’ وزیر اعظم بھی تو نہیں آتے، جس روز وہ آئیں گے، میں بھی چلا جاؤں گا‘‘۔

ہفتہ رفتہ ہی کے دوران لاہور کے دیرینہ پارک کا جواب تزئین نو کے بعد خوبصورت تر ہو گیا ہے افتتاح ہوگیا اور شہر یوں کی بہت بھاری تعداد نے جانابھی شروع کردیا ہے، بادشاہی مسجد کے دائیں طرف اور مینار پاکستان کے ساتھ واقع یہ سبزہ زار منٹو پارک کہلاتا تھا، اور پرانے شہر کے لوگ اس میں سیر کے لئے آتے اور کھلاڑی کھیلتے تھے، قیام پاکستان کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کے نام پر اقبال پارک رکھ دیا گیا تھا، آزادی چوک کے انٹر چینچ کی تعمیر کے باعث مینار پاکستان اور پارک کے سبزہ زار کو نقصان پہنچا تھا، حکومت پنجاب نے اس کے ازالہ کے لئے پارک کو جدید ترین تفریحی پارک میں بدلنے کا ارادہ کرلیا اور فنڈز مختص کر کے کروڑوں روپے کی لاگت سے تزئین و آرائش کردی گئی اور تاریخی میوزیم سمیت ڈانسنگ فواروں تک کا اضافہ کیا، روشنیوں کا جدیہ نظام مہیا کیا گیا اور اب شام کے بعد یہ پارک بہت ہی دلفریب نظارہ دیتا ہے اورمینار پاکستان والے حصے کی بھی تزئین کردی گئی ہے، وزیر اعظم محمد نواز شریف نے 17دسمبر (ہفتہ) کو باقاعدہ افتتاح کیا انہوں نے یہاں خطاب بھی کیا اپنی حکومت کی طرف سے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ حکومت بجلی کی پیداوار بڑھا رہی ہے یقیناً2018ء تک لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی، انہوں نے موضوع ترقیاتی کاموں ہی کا رکھا تاہم پھر بھی یہ کہہ گئے ’’ یہاں لکھ کر لگا دیں کہ یہاں دھرنوں کی گنجائش نہیں اور کوئی دھرنے والا نہ آئے کہ سب کے دل للچا رہے ہیں۔

اس سے ایک روز قبل پوری قوم نے سانحہ آرمی پبلک سکول کی دوسری اور سقوط ڈھاکہ کی 45ویں بری منائی، اس سلسلے میں دفاع پاکستان کو نسل کے زیر اہتمام سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے جلسہ ہوا، مقررین نے سانحہ مشرقی پاکستان پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ایک عالمی سازش کے ذریعے بھارت کو اجازت دی گئی جس نے سازش اور فوج کشی کے ذریعے مشرقی پاکستان کو جدا کر کے بنگلہ دیش بنایا سانحہ آزادی پبلک سکول کے شہدا کو یاد کیا گیا تو سقوط ڈھاکہ پر بھی بہت زیادہ دکھ کا اظہار کیا گیا، مقررین نے تاریخ سے سبق لینے کی بھی بات کی، آرمی پبلک سکول میں دہشت گردی کی بھی بہت زیادہ مذمت کی گئی عہد کیا گیا کہ دہشت گردوں کو نہیں چھوڑیں گے، بڑی حد تک قابو پالیا ہے تاہم آخری باغی تک بھی آپریشن ضرب عضب جاری رہے گا۔

نوجوان ڈاکٹروں اور صوبائی حکومت کے مذاکرات کامیاب ہو گئے اور ڈاکٹر حضرات کی طرف سے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے، نوروز کے بعد آؤٹ ڈور اور ایمر جنسی میں سرگرمیاں شروع ہو گئیں اور ڈاکٹروں نے مریضوں کو دیکھنا شروع کر دیا ہے، متاثر مریضوں نے سکھ کا سانس لیا، نوروز تک ہڑتال رہی تو مریض بہت پریشان ہو ئے کہ ان کو دیکھنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔

مزید : ایڈیشن 1