جنوبی پنجاب میں بلدیاتی سیاست، مسلم لیگ (ن) ٹکٹوں کی تقسیم کے باعث اختلاف کا شکار

جنوبی پنجاب میں بلدیاتی سیاست، مسلم لیگ (ن) ٹکٹوں کی تقسیم کے باعث اختلاف کا ...

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

بلدیاتی اداروں کی سربراہی کیلئے ٹکٹوں کی تقسیم مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے لئے نہ صرف پورے جنوبی پنجاب خصوصاً ملتان میں سیاسی درد سر بن گئی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ 22 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی اداروں کی سربراہی کے انتخابات کے بعد نہ صرف سیاسی وفا داریاں در پردہ تبدیل ہوں گی جبکہ آئندہ عام انتخابات میں ن لیگ کو اس کا منفی اثر بھی برداشت کرنا پڑے گا اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کی سربراہی کے لئے امیدوار زیادہ تھے جبکہ قیادت نے ن لیگ سے وابستہ کچھ سیاسی دھڑوں کے ساتھ کچھ اس طرح کے وعدے وعید کر رکھے تھے کہ انہیں پورا کرنا ضروری تھا ملتان کو ہی لیں تو ضلع کونسل میں جعلی ڈگری کیس میں نا اہل ہونے والے لیگی ایم این اے دیوان عاشق حسین بخاری کے بیٹے دیوان عباس بخاری سے یہ وعدہ کر کے ایم این اے کی نشست سے کاغذات واپس کرائے گئے جب وہ اپنی یونین کونسل کے چیئر مین منتخب ہو چکے تھے لیکن اپنی وراثتی سیٹ پر ضمنی انتخابات لنے کے لئے چیئر مین یوسی سے استعفیٰ دے دیا لیکن ن لیگی قیادت بوجوہ ان کو قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن کا ٹکٹ نہ دے سکی اور موجودہ ایم این اے رانا قاسم نون کو ٹکٹ دے دیا لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ ضلع کونسل کے لئے چیئر مین کی سیٹ دیوان عباس بخاری کو ملے گی لیگی قیادت نے وعدہ تو پورا کر دیا لیکن انہیں شاید یہ علم نہ تھا کہ سیاست کی بساط پر چالیں چلنے والے قیادت کے اس مسئلے کو کیسے دیکھ رہے ہیں جس کا اندراہ اب ہوا ہے جب ریٹرنگ آفیسر سعدیہ مہر نے ان کے کاغذات مسترد کر دئیے اور مخالف امیدوار کے اس اعتراض کو تسلیم کر لیا کہ دیوان عباس بخاری، چیئر مین ضلع کونسل کا انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے ضمنی انتخاب میں قومی اسمبلی کی نشست کے لئے جو کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے اس میں استعفیٰ اور بیان حلفی بھی لگایا تھا اور ان کا استعفیٰ مجاز اتھارٹی نے تسلیم بھی کر لیا تھا لہذا وہ کس طرح سے چیئر مین یونین کونسل رہ گئے ہیں اس فیصلے کے خلاف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان بہادر علی خان کی عدالت میں اپیل دائر کی گئی لیکن انہوں نے بھی قانون کی رو سے قرار دیا کہ دیوان عباس بخاری کا بیان کہ انہوں نے استعفیٰ دے کر واپس لے لیا تھا، بدنیتی پر مبنی ہے کیونکہ ان کا استعفیٰ اصل فورم یعنی الیکشن کمشن کو پہنچ گیا اور منظور بھی ہو گیا لہذا اب اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس سیٹ کے لئے اہل نہیں رہے، فاضل جج نے قرار دیا کہ دیوان عباس بخاری پنجاب گورنمنٹ لوکل ایکٹ سے پوری طرح آگاہ ہیں اور تھے اور خود چیئر مین یونین کونسل علی پور سادات کے عہدے سے استعفیٰ دے کر اس کے بدلے این اے 153 کے ضمنی انتخاب میں حصہ لیا اور اگر وہ چیئر مین شپ سے استعفیٰ نہ دیتے تو وہ قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب لڑنے کے اہل نہ ہوتے اور ان کے کاغذات مسترد ہو جاتے۔ ان کے کاغذات اس لئے منظور ہوئے اس قانون کا سیکشن 34(2) واضح ہے جس میں درج ہے کہ بیان حلفی کے ہمراہ استعفیٰ فوری طور پر قبول یعنی منظور ہو گا فاضل جج نے یہ بھی قرار دیا کہ ایسے شخص کو قوم کی نمائندگی کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو سسٹم سے کھیل رہا ہو اور جان بوجھ کر محض چیئر مین ضلع کونسل بننے کے لئے استعفیٰ دینے اور پھر واپس لینے کے لئے بیان دے رہا ہے، فاضل جج کا فیصلہ بڑا واضح ہے لیکن دیوان عباس بخاری پھر بھی عدالت عالیہ میں اپیل کے لئے چلے گئے ہیں اب اس کا جو بھی فیصلہ ہوتا ہے وہ اپنی جگہ لیکن اس انتخاب کے لئے ریٹرنگ آفیسر اور ضلعی انتظامیہ کی ایک اہم عہدیدار سعدیہ مہر نے چار دن کی چھٹی لے لی ہے یا پھر شاید انہیں چھٹی پر بھیج دیا گیا ہو کیونکہ پہلا فیصلہ تو اسی ذمہ دار نے کیا تھا اب اس مرحلے سے دیوان تو دیوان ن لیگ کیسے نکل پائے گی کیونکہ پینل سسٹم کے تحت انتخابات کی وجہ سے ن لیگ کا پورا پینل آؤٹ ہو چکا ہے جس کے دوبارہ آنے کے امکانات بھی کم ہی ہیں ایسی صورت میں ضلع کے اندر کیا سیاسی دھما چوکڑی ہو گی وہ ابھی سے نظر آرہی ہے کیونکہ ن لیگی قیادت کبھی بھی کسی اور پارٹی کے کارکن کو اس عہدے پر برداشت نہیں کرے گی ضلع کونسل کی چیئر مینی کے لئے ’’ہما‘‘ کس کے سر بیٹھتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔

دوسری ملتان میونسپل کارپوریشن میں بھی قیادت کے فیصلے کے خلاف کافی چیخ و پکار ہو رہی ہے کیونکہ سابق صوبائی وزیر چوہدری عبدالوحید ارائیں کے بھائی نوید آرائیں کو شہر کی میئر شپ کا ٹکٹ جاری کیا گیا ہے جبکہ میئر کے دو اور امیدواروں کو ڈپٹی میئر کے عہدے کے لئے ٹکٹ جاری کئے گئے ہیں جس پر ن لیگ شہر اور ضلع کے عہدیداروں اور مقامی رہنماؤں میں شدید سیاسی تناؤ آرہا ہے اور قیادت کی طرف سے خاموش رہنے کے مشورے کو بھی پیچھے چھوڑ کر ایک دوسرے کے خلاف سخت تنقید کی جارہی ہے تنقید کرنے والوں میں چوہدری عبدالوحید ارائیں، بلال بٹ اور دوسرے رہنما شامل ہیں جو سابق ایم این اے شیخ طارق رشید اور سابق ایم این اے اور موجودہ ایم پی اے کے بھائی سٹی صدر رانا شاہد الحسن کے خلاف کی گئی ہے اب لیگی قیادت اس پر کیا ایکشن لیتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اس وقت تک ن لیگ کا بہت گہرا سیاسی نقصان ہو چکا ہو گا کیونکہ یہ بات بھی سیاسی حلقوں میں گردش کر رہی ہے کہ ایک وفاقی وزیر اور ایک ایم پی اے نے ضلع کونسل میں ن لیگی قیادت کے فیصلے پر منفی سیاست کا کھیل کھیلا جبکہ شہر میں میونسپل کارپوریشن کی میئر شپ کے لئے ایک ایم پی اے اس کے بھائی اور ایک سابق ایم این اے نے ن لیگ کی سیاست کا ستیاناس کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اب ایسی صورت میں قیادت اس کو کیسے سنبھالتی ہے ۔

دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی میں جنوبی پنجاب کے وکلاء کو نظر انداز کرنے کے خلاف ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شیخ جمشید حیات اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عظیم الحق پیرزادہ نے الگ صوبہ اور خود مختار ہائی کورٹ کے قیام کے لئے تحریک چلا رکھی ہے اس میں جہاں بہت سے دوسرے سیاسی رہنماء اگر ان کی تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے رہے ہیں تو وہاں بزرگ اور سینئر ترین سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی نہ صرف ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا بلکہ بار سے خطاب بھی کیا جس میں انہوں نے کہا کہ صرف جنوبی پنجاب نہیں بلکہ جہاں جہاں ضروری ہے وہاں صوبے بننے چاہئیں حکمران جتنا مرضی طاقتور ہو جائیں مگر عوام کو اختیارات نہ دئیے تو ملک نہیں چل سکے گا اس حوالے سے ہمیں مشرقی پاکستان کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیے جو ہماری غلطیوں کی وجہ سے الگ ہوا۔ اب بھی وقت ہے کہ غلطی نہ کی جائے اور بڑے سیاسی قائدین کومل بیٹھ کر سوچنا ہو گا ورنہ سیاسی نظام کمزور ہو گا تاہم مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنے خطاب میں بھارت کو بڑا سخت پیغام دیا کہ اگر اس نے صورتحال بگاڑی تو اس کے 25 ٹکڑے ہو جائیں گے اب مخدوم جاوید ہاشمی کی یہ پیشین گوئی کب پوری ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا لیکن اسی بار سے خطاب کے لئے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی ڈسٹرکٹ بار گئے اور وکلاء سے خطاب میں انہوں نے وکلاء کو بحالی عدلیہ کا مثالی اور تاریخی کارنامہ قرار دے دیا اور انکشاف بھی کیا کہ عدلیہ کی بحالی بطور وزیر اعظم ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے کی نہ کہ جنرل کیانی کے کہنے پر کی۔ تاہم انہوں نے شکوہ بھی کیا کہ جس عدلیہ کو میں نے بحال کیا اسی عدلیہ نے مجھے حکومت سے الگ کر دیا انہوں نے موجودہ حکومت پر بھی سخت تنقید کی اور اسے لولی لنگڑی جمہوریت قرار دے دیا اور دعویٰ کیا کہ جس جمہوریت کے مزے ن لیگ لوٹ رہی ہے وہ بے نظیر بھٹو کی قربانیوں کا صلہ ہے سابق وزیر اعظم نے وکلاء برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کے مطالبے کی حمایت بھی کی اور کہا کہ میری حکومت سرائیکی صوبے کے قیام کی حمایت اور اقدامات کرنے کے پاداش میں ختم کی گئی، اب سید یوسف رضا گیلانی کی کون سی بات درست ہے اس کے لئے پھر سہی مگر وہ اس وقت سیاسی طور پر بہت متحرک ہیں خصوصاً جنوبی پنجاب میں وہ اپنی پرانی گرفت لانا چاہتے ہیں اب وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں یہ تو آنے والے وقت میں پتہ چل سکے گا۔

ملتان شہر میں آج کل تجاوزات کے خلاف ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن آفیسر ’’خود‘‘ میدان میں آگئے ہیں اور ایسا شاید پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ تجاوزات مافیا کے خلاف آپریشن میں نہ تو مقامی پولیس کو شامل کیا گیا ہے اور نہ ہی شہر کے چاروں ٹاؤنز کو اس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ سول ڈیفنس اور رضا کاروں پر مشتمل نفری کو ساتھ لے کر اس وقت شہر کے ان علاقوں سے تجاوزات مافیا کو فی الوقت تو بھگا دیا ہے اور اس پر نہ تو کوئی سیاسی یا دوسرا پریشر لیا گیا شاید یہی وجہ تھی کہ ڈی سی او نے ملتان ترقیاتی ادارہ سمیت چاروں ٹاؤنز کو اس سے دور رکھا کیونکہ یہ بات کوئی پوشیدہ نہیں ہے کہ شہر میں تجاوزات کے اصل ذمہ دار یہی ادارے ہیں جو اس مافیا کو تحفظ فراہم کر کے مالی منفعت حاصل کرتے ہیں ۔

مزید : ایڈیشن 1