فیفا صدر نے ڈوپنگ الزامات پر فٹبال ورلڈ کپ کی روس سے منتقلی کا امکان مستر د کر دیا

فیفا صدر نے ڈوپنگ الزامات پر فٹبال ورلڈ کپ کی روس سے منتقلی کا امکان مستر د ...

ماسکو (آئی این پی)فیفا کے صدرگیانی انفانٹینو نے ڈوپنگ الزامات کے سبب فٹبال ورلڈ کپ کی روس سے منتقلی کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بائیکاٹ اور پابندیاں سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے۔ فیفا صدر گیانی انفانٹینو نے ڈوپنگ اسکینڈل پر میکلیرین رپورٹ کے دوسرے حصے میں عائد سنگین الزامات کے باوجود فٹبال ورلڈ کپ کو روس سے منتقل کرنے کا امکان مسترد کردیا ہے، جرمن میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں عالمی گورننگ باڈی چیف نے کہا کہ فیفا عالمی پولیس نہیں ہے اور یقینی طور پر ورلڈ ڈوپنگ پولیس کا کردار بھی ادا نہیں کرتی، ہماری ڈسپلنری باڈیز میکلیرین رپورٹ میں شائع ہونے والی تمام باتوں کو دیکھے گی، جس کا تعلق فٹبال سے ہوگا، بائیکاٹ اور پابندیاں سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے، انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے ایونٹ میں کچھ غلط ہوتا ہوا دکھائی دیا تو یہ ہماری ذمے داری اور غلطی ہوگی، لیکن ہم پراعتماد ہیں کہ ہمارے اینٹی ڈوپنگ اقدامات کارگر رہیں گے۔فیفا چیف انفانٹینو نے کہا کہ ہم ابھی اس حوالے سے متعلقہ معلومات کا انتظار کررہے ہیں، جس میں 31 فٹبالرز کے سیمپلزمیں گڑبڑ کیے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی وہاں ایسا ضرور کیا جائیگا، لیکن اسی کے ساتھ انہوں نے فیفا کی ڈوپنگ کیخلاف جنگ کا عزم بھی دہرایا، انہوں نے کہا کہ 2014 کے برازیل یا اس سے قبل 2010 کے جنوبی افریقہ میں ہونے والے سیمپلز کو روسی ایونٹ میں زیر غور نہیں لایا جائیگا۔ کرسٹیانو رونالڈو سمیت دیگر کئی فٹبالرز اور کوچز کے نام ’ فٹبال لیکس ‘ میںآجانے کے سوال پر فیفا چیف نے کہا کہ انفرادی طور پر ٹیکس چوری کے اس معاملے کو ملکی فیڈریشنز اپنے طور پر دیکھیں گی،عالمی سطح پر ہونے والے ٹرانسفر معاملات کی بابت ہمارا ادارہ سب کچھ نہیں جانتا۔واضح رہے روس آئندہ برس فیفا کنفیڈریشنز کپ اور پھر 2018 میں عالمی ورلڈ کپ کی میزبانی کریگا۔ گذشتہ دنوں منظرعام پر آنیو الی واڈا کے غیرجانبدار کمیشن کی رپورٹ کا دوسرا حصہ منظرعام پر آیا تھا، اس تحقیقاتی رپورٹ کو کینیڈین لا پروفیسر رچرڈ میکلیرین نے تیار کیا جس میں انکشاف کیا گیا کہ روس نے 2011 اور 2015 کے درمیان منظم طور پر ڈوپنگ کی سرکاری سرپرستی کی، جس میں فٹبال سمیت دیگر کئی کھیلوں کے ایک ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے استفادہ کیا ہے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی