تمام مکاتب فکر کیلئے قابل قبول ثقافتی پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈاکٹر سلمان

تمام مکاتب فکر کیلئے قابل قبول ثقافتی پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے، ...

لاہور(خبرنگار) تاریخی ثقافتی ورثے کے تحفظ، قومی زبان کے احیاء ، صوفیاء کرام کی تعلیمات اور مذہبی عقائد کے فروغ کے لیے مربوط اور تمام مکاتب فکر کے لیے قابل قبول ثقافتی پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یورپی ممالک میں ثقافت معیشت کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی بزرگ شخصیات کے مزارات تک زائرین کی آسان رسائی ، تاریخی و تفریحی مقامات کی تزئین و آرائش ، سیاحت کے فروغ، فن اور فنکاروں کی ادارتی سرپرستی سے ہم نہ صرف اپنی کمزور پڑتی ثقافت کو ناپید ہونے سے بچا سکتے ہیں بلکہ اپنی معیشت کو بھی مستحکم کر سکتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز فلیٹیزہوٹل لاہور میں محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب اور یونائیٹڈ نیشن ایجوکیشن، سائنس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کے اشتراک سے صوبائی ثقافتی پالیسی کی تشکیل کے لیے یونیسکو کے کنونشن 2005پر مختلف سٹیک ہولڈرز کے ساتھ منعقدہ ورکشاپ کے مقررین نے کیا ۔

۔ ڈاکٹر سلمان آصف نے کنوینشن میں متنوع ثقافت کے تحفظ اور فروغ کے لیے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ ثقافت کے احیاء کے لیے اپنے ماضی اور حال کے ساتھ ساتھ اپنے مستقبل یعنی نوجوان نسل اور ان کے عصری تقاضوں کو مدِنظر رکھنابھی ضروری ہے ڈاکٹر سلمان آصف نے ثقافت کو معیشت کے استحکام کا ایک بڑا ذریعہ قرار دیا۔ جس کے بعد نیشنل کلچرآفیسریونیسکو جواد عزیز نے آرگنائزیشن کی کنٹری ڈائریکٹر کا پیغام پڑھ کر سنایا اور ورکشاپ کے انعقاد پر محکمہ اطلاعات و ثقافت کا شکریہ ادا کیا۔ پنجاب کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کے پروفیسر اور مصور شاہ نواز زیدی نے بصری آرٹ کو ابھرتی ہوئی تخلیقی معیشت کے طور پر پیش کیا اور اس کے فروغ کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔ مشہور شاعر ، ادیب اور مفکر ڈاکٹر امجد اسلام امجد نے ثقافت میں تعلیم و تربیت اور زبان کے کردار کو واضح کیا انھوں نے کہا کہ ملکی ثقافت کے تحفظ اور ترویج کے لیے ادب اور ادبی زبان کا تحفظ ازحد ضروری ہے ۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے سابقہ مینجنگ ڈائریکٹر ، معروف ڈرامہ نگار اور اجوکا تھیٹر کے بانی ڈاکٹر شاہد ندیم نے سماجی اقدار کے فروغ کے لیے تھیٹر کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالی انھوں نے کہا قومی ثقافت کا فروغ فنون لطیفہ کے ریاستی و ادارتی تحفظ کے بغیر ممکن نہیں۔ایف سی کالج کے پروفیسر شفقت نے پبلک پالیسی کے فروغ اور ثقافتی پالیسی کے لازمی اجزائے ترکیبی بیان کیے انھوں نے کہا کہ ثقافتی پالیسی کی تشکیل سے قبل اس بات کا تعین ضروری ہے کہ پالیسی کی تشکیل وفاقی سطح پر ہونی چاہیے یا کہ صوبائی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل اپنے ادبی و ثقافتی ورثہ سے نا بلد ہے سب سے پہلے اس کا قومی تشخص سے روشناس کروایا جانا ضروری ہے۔اٹالین کونسلیٹ البرٹو گلائیڈ نے ثقافتی پالیسی میں عجائب خانوں کی اہمیت اجاگر کرنے پر زور دیا جبکہ پاکستان کونسل آف آرکیٹیکٹس کے ممبر پرویز قریشی نے ٹورازم کے فروغ کے ذریعے کلچرل اکانومی کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ آخر میں مقررین اور شرکاء کے مابین آراء اور تجاویز کا تبادلہ ہوا۔ ورکشاپ کے دیگر شرکاء میں ڈاکٹر تحسین فراقی، پروفیسر بلال احمد ، پروفیسر فہد کاظمی، پروفیسر نوید اخترڈائریکٹر پنجاب لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر انسٹیٹیوٹ ڈاکٹر صغریٰ صدف، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ اطلاعات و ثقافت شاہد اقبال اور پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات اور سول سوسائٹی کے نمائندگان شامل تھے۔ شرکاء اسلامی تہذیب و تمدن کے احیاء کے لیے صوفیانہ تعلیمات کی تشہیر و ترویج کو بہترین حکمت عملی قرار دیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4