سپریم کورٹ یا بھارتی پارلیمنٹ کو جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت بارے کوئی فیصلہ کرنے کااختیار حاصل نہیں، شبیر احمد شاہ

سپریم کورٹ یا بھارتی پارلیمنٹ کو جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت بارے کوئی ...

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکرٹری اور ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے بھارتی سپریم کورٹ کے کشمیر سے متعلق فیصلے کر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی جموں وکشمیرکے متنازعہ حیثیت اس سے متاثر ہوگی ۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق شبیر احمد شاہ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ قوموں کے سیاسی فیصلے عدلیہ اور پارلیمنٹ کے چند مخصوص سوچ رکھنے والے نہیں کرسکتے ۔انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر کے مستقبل سے متعلق فیصلہ کرنے کا حق صرف کشمیری عوام کو حاصل ہے ۔

انھوں نے یاد دلایا کہ بھارت اس طرح کے اقدامات کے زریعے ایک نفسیاتی الجھن پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن اسے یاد رکھنا ہوگا کہ ایک کروڑ تیس لاکھ لوگوں کے مستقبل سے متعلق فیصلہ چند متاثرشدہ ذہنیت کے جج نہیں کرسکتے اور نہ ہی دنیا کی تاریخ میں اسکی کوئی مثال ملتی ہے ۔انھوں نے کہاکہ 1994میں بھارتی پالیمنٹ نے کشمیر بارے ایک قرادادمنظور کی تھی لیکن عالمی رائے عامہ نے اس پرکسی بھی قسم کی رائے کا اظہار کرنا بھی گوارا نہ کیا۔شبیر احمد شاہ نے واضح کیا کہ کشمیری عوام کی بے مثال قربانیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ انہیں بھارتی حاکمیت یا اس کے کسی قانونی ادارے کی رائے قبول نہیں اور بین الاقوامی طوررپ تسلیم شدہ تنازعے سے متعلق بھارت کے کسی ادارے کی کوئی بھی رائے یا فیصلے سے وہ اپنی جدوجہد آزادی سے دستبردار نہیں ہو ں گے ۔حریت رہنماء نے اقوام متحدہ کی کشمیر بارے قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی حکمرانوں کو یاد لایا کہ ان قرادادوں کی موجودگی میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں اور بھارت جتنی جلد کشمیری عوام کا انکا حق خودارادیت دیناہو گا ۔انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق سہ فریقی مزاکرات کے ذریعے ہی حل کیاجاسکتا ہے۔

مزید : عالمی منظر