نواز شریف بوسنیاپہنچ گئے ، آج وزیر اعظم اور صدارتی کمیٹی کے تینوں ارکان سے ملاقات کرینگے

نواز شریف بوسنیاپہنچ گئے ، آج وزیر اعظم اور صدارتی کمیٹی کے تینوں ارکان سے ...

وزیراعظم میاں نواز شریف 3روزہ دورے پر گزشتہ روز بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو پہنچے۔ وزیراعظم بوسنیا کی حکومت کی دعوت پر یہ دورہ کررہے ہیں اور آج وہ سرائیوو میں انتہائی مصروف دن گزاریں گے۔ آج وہ بوسنیا کے وزیراعظم کے علاوہ صدارت کے تینوں ارکان سے بھی ملاقات کریں گے۔ ان میں سے ایک بوسنیائی، ایک کروشیائی اور ایک سرب ہوتا ہے تینوں کو ان کے علاقوں سے منتخب کیا جاتا ہے۔ تینوں کی مدت اقتدار 4 سال ہوتی ہے اور سب سے زیادہ ووٹوں والے کو ان کا چیئرمین منتخب کرلیا جاتا ہے لیکن چیئرمین کی مدت صرف 8 ماہ ہوتی ہے، اس طرح تینوں صدور باری باری چیئرمین بنتے رہتے ہیں۔ ’بوسنیا اور ہرزیگونیا‘ کی کل آبادی میں سے 95 فیصد کا تعلق ان تین قوموں سے ہے، لہٰذا اس نظام کے ذریعے تینوں کو مطمئن رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔زیادہ تر پاکستانی بوسنیا کو 1992ء سے 1995ء تک جاری رہنے والی جنگ کے حوالے سے ہی جانتے ہیں، اس وقت جب بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا تھا تو پاکستان ان چند مسلمان ممالک میں سے تھا جنہوں نے بوسنیا کے مسلمانوں کی بھرپور مدد کی۔ دنیا بھر نے دروازے بند کردئیے تو یہاں سے سینکڑوں مسلمان مہاجرین اُس زمانے میں پاکستان بھی پہنچے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ باقر عزت بیگ اور اس وقت صدارتی کمیٹی کے ممبر ہیں، 1992ء سے 1998ء تک اُن کے والد عالی جاعزت بیگ بوسنیا کے صدر تھے۔ اسی دور میں پاکستان میں وزیراعظم نوازشریف کی بھی حکومت رہی۔ گوکہ پاکستان اور بوسنیا کے درمیان تجارتی تعلقات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن تاریخی طور پر وابستگی بے حد گہری ہے۔ ’بوسنیا اور ہرزیگونیا‘ کی قریباً نصف آبادی مسلمان ہے۔جنوبی مشرقی یورپ میں واقع قریباً 40لاکھ آبادی کا یہ ملک سیاحوں کیلئے بے حد دلچسپی کا مرکز ہے۔ تاریخی مقامات اور جنگ کی نشانیوں میں دنیا بھر کے لوگوں کو بے حد کشش نظر آتی ہے۔ قریباً 20 سال قبل ختم ہونے والی جنگ کے اثرات ابھی بھی یہاں زندگی پر باقی ہیں اور مقامی لوگوں کی گفتگو میں اس کا بے حد تذکرہ ملتا ہے۔ کل صبح وزیراعظم نواز شریف 1995ء کی نسل کشی کے شہداء کی قبروں پر بھی حاضری دیں گے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ 28جون 1914 میں آسٹریا کا ایک شہزادہ فرانز فرڈینیڈ بھی سرائیوومیں مارا گیااور اس قتل کو جنگ عظیم اول کا نقطہ آغاز کہاجاتا ہے، اس وقت دنیا کی طاقتیں مختلف وجوہات کی بناء پر ایک دوسرے کے خلاف نبردآزما تھیں اور ایک پرنس کا قتل پوری دنیا کو خوفناک جنگ کی طرف لے گیا تھا۔ گذشتہ روز ترکی میں روسی سفیر کا ترکی میں قتل بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے اور کئی تجزیہ کار آنے والے دنوں کو گھمبیر قرار دے رہے ہیں۔

مزید : صفحہ اول