4یونیورسٹیوں میں لگائے گئے عبوری وائس چانسلر سرچ کمیٹی کے تجویز کردہ ناموں میں سے لئے گئے: ہائیکورٹ

4یونیورسٹیوں میں لگائے گئے عبوری وائس چانسلر سرچ کمیٹی کے تجویز کردہ ناموں ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور شاہ اور مسٹر جسٹس سید فیصل زمان خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پنجاب یونیورسٹی سمیت پنجاب کی 4جامعات کے عبوری وائس چانسلر مقرر کرنے سے متعلق ترمیمی فیصلہ جاری کردیا ہے جس میں فاضل بنچ نے اپنے 19دسمبر کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت عالیہ نے ان 4یونیوسٹیوں میں عبوری طور پرجو وائس چانسلرز مقرر کئے ہیں ان کا چناؤ حکومت کی قائم کردہ سرچ کمیٹی کی طرف سے تجویز کئے گئے ناموں میں سے کیا گیا تھا ۔فاضل بنچ نے مزید وضاحت کی ہے کہ یہ وائس چانسلرز عبوری انتظام کے تحت تعینات کئے گئے ہیں اور ان کی تقرریاں مقدمہ کے فریقین کی باہمی رضامندی کے بعد کی گئی ہیں ۔فاضل بنچ نے قرار دیا کہ سرکاری یونیورسٹیوں کے قانون مجریہ 2012ء کے تحت حکومت نے وائس چانسلرز کے تقرر کے لئے جو سرچ کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے اسی کے تجویز کئے گئے ناموں کے پینل میں سے عدالت نے حکومت اور دیگر فریقین کی باہمی رضامندی کے بعد یہ عبوری وائس چانسلرز مقرر کئے ۔عدالت نے مزید وضاحت کی ہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کو پہلے سے ہی حکومت نے لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی وائس چانسلر مقرر کررکھا ہے ۔انہیں عارضی طور پر ڈاکٹر رخسانہ کوثر کی جگہ یہ عہدہ دیا گیا ہے ،ڈاکٹر رخسانہ کوثر کا نام بھی سرچ کمیٹی کی مجوزہ فہرست میں شامل ہے ،عدالت کی طرف سے ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی بطور عبوری وائس چانسلر تقرری کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اب ڈاکٹر رخسانہ کوثر وائس چانسلر کی امیدوار نہیں رہی ہیں ۔فاضل بنچ نے مزید قرار دیا ہے کہ پنجاب کی دیگر7سرکاری یونیورسٹیوں کے موجودہ وائس چانسلرز کو عبوری طور پر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔27اگست 2015ء کو تعینات ہونے والے ان 7وائس چانسلرز کی تقرریوں کو بھی عبوری تصور کیا جائے اور ان کی تقرریوں کے نوٹیفکیشن اس انٹرا کورٹ اپیل کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوں گے ۔فاضل بنچ نے 19دسمبر کو پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل پر سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے تعیناتیوں سے متعلق سنگل بنچ (مسٹر جسٹس شاہد کریم )کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے عبوری طور پر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کو لاہور کالج برائے خواتین لاہور یونیورسٹی ،ڈاکٹر اشتیاق احمد کو یونیورسٹی آف سرگودھا ، ڈاکٹر محمد زبیر کو محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور ڈاکٹر ظفر معین ناصر کو یونیورسٹی آف پنجاب کا عبوری وائس چانسلر مقرر کیا ،ان وائس چانسلرز کے علاوہ دیگر 7یونیورسٹیز کے جن وائس چانسلرز کو کام کرنے کی عبوری اجازت دی گئی ان میں فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی ،گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، یونیورسٹی آف لاہور ، بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان ، گورنمنٹ صادق ڈگری کالج فار ویمن یونیورسٹی بہاولپور اور خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈانفارمیشن یونیورسٹی رحیم یارخان شامل ہیں۔مسٹر جسٹس شاہد کریم پر مشتمل سنگل بنچ نے 14نومبر کو اپنے ایک حکم کے ذریعے سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کے تقرر سے متعلق متعدد قانونی شقوں کو کالعدم کرتے ہوئے حکومت کو نئے سرے سے وائس چانسلرز کے تقرر کا حکم دیا تھا ،علاوہ ازیں سنگل بنچ نے مستقل وائس چانسلرز کے تقرر تک سینئر ترین پروفیسروں کو قائم مقام وائس چانسلر تعینات کرنے کا حکم دیا تھا ،اس فیصلے کے خلاف حکومت نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے ،جس کی مزید سماعت کے لئے مدعا علیہان کو 12جنوری کے لئے نوٹس جاری کئے گئے ہیں ۔ڈویژن بنچ نے آئندہ تاریخ سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی معاونت کے لئے طلب کررکھا ہے ۔ڈویژن بنچ نے اپنے 19دسمبر کے فیصلے کی وضاحت کے لئے گزشتہ روز (20دسمبر)کو یہ ترمیمی فیصلہ جاری کیا ہے تاکہ انتظامیہ کے معاملات میں عدلیہ کی مداخلت کے تاثر کی نفی ہوسکے ۔

مزید : صفحہ آخر