نیشنل پاور کنٹرول سنٹر کی چار دیواری کی تعمیر کے نام پر 7کروڑ کی کرپشن کا انکشاف

نیشنل پاور کنٹرول سنٹر کی چار دیواری کی تعمیر کے نام پر 7کروڑ کی کرپشن کا ...

لاہور ( سپیشل رپورٹر )وزارت پانی و بجلی میں نیشنل پاور کنٹرول سنٹر کی چار دیواری کی تعمیر کے نام پر 7کروڑ روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے اس ضمن میں وزارت پانی و بجلی کے ذیلی ادارہ ،این پی سی سی، نے اپنے آفس کی چاردیواری کی تعمیرکا ٹھیکہ خفیہ طریقے سے سرکاری ادارہ نیکاپ کو الاٹ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق جس کا اقرار وزارت پانی و بجلی کے اعلی افسران نے بھی کر لیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل پاور کنٹرول سنٹر کا وفاقی دارالحکومت میں آفس کی چار دیواری کے نام پر متعلقہ ادارہ کے افسران نے قومی خزانہ سے 7 کروڑ روپے کرپشن کی نذر کر نے کے لئے سر گر م تھے تاہم رقوم کی ادائیگی سے قبل ہی یہ افسران رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں اس کرپشن سکینڈل میں مبینہ طور پر ایک و فاقی وزیر اور اہم آفیسر شا مل ہے ، این پی سی سی، کے اعلی افسران نے چار دیواری کی تعمیر کا ٹھیکہ دوسرے سرکاری ادارہ نیکاپ نیشنل الیکٹرانکس کمپلیکس کو دیا ہے جو سول ورک کرنے کا تجربہ بھی نہیں رکھتے ۔7 کروڑ کا ٹھیکہ دیتے وقت افسران نے پیپرا رولز کے مطابق ٹینڈرز بھی نہیں دیا۔ ذرائع کے مطابق معاہدے کی دستاویزات میں سول منصوبہ کا پورا خاکہ بھی تیار نہیں کیا گیا اور دستاویزات میں اصل کام کی وضاحت بھی نہیں کی گئی ۔ صرف 7 کروڑ روپے قومی خزانہ سے وصول کرنے کے منصوبے بنائے گئے ہیں ۔ ذرائع نے مزید بتایا وزارت پانی و بجلی منصوبہ پر کام شروع ہونے سے قبل 7 کروڑ روپے نیکاپ کو فراہم کر دے گی حالانکہ یہ قانون کی واضح خلاف ورزی ہے ۔ منصوبہ کی تکمیل کے بعد متعلقہ حکام کے این او سی جاری کرنے کے بعد رقوم فراہم کی جاتی ہیں۔ معاہدے میں وزارت نے دوسرے سرکاری اداروں سے انشورنس کلیم بھی نہیں مانگا ہے ۔ اس ضمن میں جنرل منیجر محمد الیاس نے کہا کہ سرکاری ادارے جب کوئی منصوبہ مکمل کرتے ہیں تو پیپرا رولز ضروری نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری پانی و بجلی یونس دھاگہ نے خصوصی کمیٹی بنا کر ہمیں اس منصوبہ کی اجازت دی تھی ۔

مزید : صفحہ آخر