بوسن ٹاؤن کے زیر اہتمام 200 ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈرز کی نیلامی روک دی گئی

بوسن ٹاؤن کے زیر اہتمام 200 ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈرز کی نیلامی روک دی گئی

ملتان ( خبر نگار ) الیکشن کمیشن کے حکم پر بوسن ٹاؤن کے زیر اہتمام 18 کروڑ روپے مالیت کی 200 ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈرز کی نیلامی روک دئی گئی ‘ میونسپل کارپوریشن ملتان کی پی ٹی آئی (بقیہ نمبر46صفحہ12پر )

کی ممبر قربان فاطمہ نے لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ میں رٹ دائر کی تھی کہ موجودہ بلدیاتی نظام 31 دسمبر 2016 کو ختم کیا جا رہا ہے جبکہ 22 دسمبر کو مئیر اور چیئرمین ضلع کونسل کے انتخابات کا شیڈول بھی جاری ہو چکا ہے اور میونسپل کارپوریشن کے فنڈز ضلع کونسل کو بھی شفٹ ہونے ہیں اور الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابی شیڈول جاری ہو نے کے بعد ٹینڈر طلب نہیں کیے جا سکتے جبکہ بوسن ٹاؤن انتظامیہ ملی بھگت کے ذریعے یہ ٹینڈر نیلام کر نا چاہتی ہے جس پر عدالت نے الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق کاروائی کرنے کا حکم دیا جس پر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر ملتان نے گزشتہ روز بوسن ٹاؤن میں ٹینڈرز کی نیلامی کے وقت ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈرز کی نیلامی کا عمل رکوا دیا جبکہ اس دوران جن ٹھیکیداروں نے اپنے ٹینڈر باکس میں ڈال دئیے تھے بوسن ٹاؤن انتظامیہ نے ٹینڈر باکس ضلعی خزانہ کے دفتر میں رکھوا کر سیل کر دیا گیا ہے ‘ میئر اور چیئرمین ضلع کونسل کے انتخابات کے بعد ٹینڈر اوپن کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائیگا ۔ واضح رہے کہ نیلام کی جانیوالی تمام ترقیاتی سکیمیں حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ایم این ایز اور ایم پی ایز کی تجویز کردہ ہیں اور انہوں نے نئے بلدیاتی سیٹ اپ سے قبل ٹینڈرز اوپن کرنے کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں جبکہ دوسری طرف قربان فاطمہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آفیسران لاکھوں روپے کے کمیشن کے لالچ میں یہ ٹینڈر نیلام کرنا چاہتے ہیں اور پولیس لائن میں 25 لاکھ مالیت کی ایک ترقیاتی سکیم کا کام پہلے سے مکمل ہو چکا ہے ۔ انہوں نے ڈی سی او ملتان سے مطالبہ کیا کہ آفیسران کو ضلع بدر کیا جائے ۔

نیلامی

مزید : ملتان صفحہ آخر