تحریک انصاف پیپلز پارٹی نے ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کو مسترد کردیا

تحریک انصاف پیپلز پارٹی نے ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کو ...

اسلام آباد(آن لائن) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ریگولیٹرز اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کے حکومتی فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے سے خودمختار اداروں کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تحریک انصاف حکومتی فیصلے کو مسترد کرتی ہے، فیصلہ وزیراعظم کی جانب سے جمہوری نظام کو بادشاہت میں بدلنے کی کوشش ہے، ریگولیٹر اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کے حکومتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ حکومتی فیصلے جمہوریت کو بادشاہت میں تبدیل کرنے کی کوشش ہیں، فیصلے کے ذریعے شفافیت اور احتساب کے نظام پر کاری ضرب لگانے کی کوشش ہے، تحریک انصاف حکومت کے غیر جمہوری فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف جمہوریت اور احتساب نہیں چاہتے، نواز شریف کے فیصلے بادشاہت کی عکاسی ہیں، تحریک انصاف حکومت کے مذموم ارادوں کا ہر سطح پر ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔

عمران خان

اسلام آباد(اے این این) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کی جانب سے ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کئے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرے گی، ہم اس معاملے کو پارلیمینٹ سمیت ہر فورم پر چیلنج کریں گے، پارلیمینٹ میں حکومتی اکثریت کے باعث کچھ نہ ہوا تو عدالت جائیں گے کیوں کہ حکومت کا یہ فیصلہ وفاق کو کمزور کرنے کے مترادف ہے اور اس فیصلے کے پیچھے کرپشن کی داستانیں ہیں۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز اسلام آباد میں انتخابی اصلاحات سے متعلق پیپلز پارٹی کی قانونی ٹیم کا مشاورتی اجلاس خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا ۔اجلاس کے بعد قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی پر آج تک ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہیں کی جا سکی،ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ حساس ہونے کے باعث جاری نہیں کی گئی،چوہدری نثار اب اسے پبلک کر دیں کس نے روکا ہے ،حکومت کا ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کا فیصلہ ہر فورم پر چیلنج کریں گے، ضرورت پڑی تو عدالت جائیں گے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے انتخابی اصلاحات کا مسودہ ایوان میں پیش کردیا جائے جبکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے عوامی حلقوں میں مکمل بحث ہونی چاہئے اس کے ساتھ ساتھ انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی بھی اپنا کام جاری رکھیں انہوں نے کہا کہ حکومت انتخابی اصلاحات کا مسودہ فی الوقت قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی بجائے بحث کے لئے عام کرے۔خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی پر آج تک ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہیں کی جا سکی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جب مشکل میں تھے تو ہمارے گلے کیوں لگے تھے، ہم نے جیلیں کاٹیں، ہماری جماعت کے رہنماؤں کی زبانیں کاٹی گئیں لیکن آج تک پیپلز پارٹی پر ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہیں کی جا سکی۔وزیر داخلہ کی جانب سے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ منظر عام پر لانے کے مطالبے پر خورشید شاہ نے کہا کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ سکیورٹی صورتحال کے باعث پبلک نہیں کی گئی تھی، ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ اب حکومت کے پاس ہے، وہ اسے پبلک کر دے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ڈلیور کیا تو کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں ایسی باتیں کیوں کی گئیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہم ، کرپٹ تھے تو حکومت نے ہمیں گلے کیوں لگایا ، وزیر داخلہ کی کارکردگی بہتر ہوتی تو کمیشن سانحہ کوئٹہ پر ایسی رپورٹ کیوں دیتا ۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید کے بعد سیاسی منظر نامے کے نقشہ تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے ۔خورشید شاہ نے کہا کہ آصف زرداری کوگیارہ سال جیلوں میں ڈال کر کیا ثابت کیا گیا ۔

خورشیدشاہچ

مزید : کراچی صفحہ اول