ریگولیٹرز کا کنٹرول وزارتوں کو دینا جدید تقاضوں سے انحراف ہے

ریگولیٹرز کا کنٹرول وزارتوں کو دینا جدید تقاضوں سے انحراف ہے

کراچی (غلام مرتضیٰ)حکومت کی جانب سے نیپرا ،اوگرا ،پیپرا سمیت پانچ ریگولیٹرز کا انتظامی کنٹرول کابینہ ڈویژن سے وزارتوں کو منتقل کرنا اختیارات کا ارتکاز اور جدید دور کے تقاضوں سے انحراف کے مترادف ہے ۔ذرائع کے مطابق دنیا بھر میں قیمتوں کے تعین کا اختیار خود مختار اداروں کو دیا جارہا ہے تاکہ صارفین ،سرمایہ کار اور حکومت کو مفادات کو تحفظ فراہم کیا جاسکے ۔قیمتوں کے تعین یا دیگر انتظامی معاملات کے حوالے سے یہ ریگولیٹرز عوامی سماعت بھی کرتے ہیں جس میں تمام فریقین اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہیں پھر اس کے بعد قابل قبول راستہ نکال لیتے ہیں اور حکومت کو بھی زیادہ تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاتا ۔لیکن ریگولیٹرز سے اختیارات واپس لینے سے صورت حال یکسر تبدیل ہوجائے گی اورشکایات کا نیا سلسلہ شروع ہوجائے گا ۔اس ضمن میں روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صنعتکار میاں زاہد حسین نے کہا کہ ریگولیٹرزکا قیام ایک بین الاقوامی تصور تھا جس پر پوری دنیا میں عمل کیاجارہا ہے ۔پاکستان میں وزیراعظم شوکت عزیز کے زمانے میں اس کو وزارتوں سے الگ کیا گیا تھا ۔موجودہ حکومت کے اقدام سے اختیارات کا ارتکاز ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ریگولیٹرز کے سربراہوں کی تقرری میں اصول و ضوابط کو مدنظررکھا گیا جس کی وجہ سے یہ اپنے مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے تاہم ان کو وزارتوں کو زیر انتظام دینے کافیصلہ حکومت کا غیر مناسب فیصلہ ہے ۔پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے صدر زبیر موتی والا نے کہا کہ حکومت انتہائی غلط اقدام کیا ہے ۔ریگولیٹرز کے وزارتوں کے زیر انتظام جانے سے عوامی شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے کوئی فورم موجود نہیں ہوگا ۔پوری دنیا میں حکومتیں اداروں کا انتظام ریگولیٹرز کے حوالے کررہی ہیں جبکہ ہماری حکومت اس کے بالکل برعکس قدم اٹھایا ہے ۔انہوں نے اب ان اداروں میں پہلے سے زیادہ تنقید ہوگی حکومت کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے کہا کہ اوگرا کو ڈی ریگولیٹ کرنا ہمارا بہت پرانا مطالبہ تھا ۔ہم حکومت اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔سی این جی کا شعبہ پہلے براہ راست وزیراعظم کے پاس تھا لیکن اب وزارت کے ذمہ ہونے سے ہم باآسانی تحفظات اور شکایات متعلقہ وزارت تک پہنچاسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری اتھارٹی کی وجہ سے ہمارا منافع کا تناسب انتہائی کم تھا اور بارہا اس جانب توجہ مبذول کرانے کے بعد ہماری کوئی سنوائی نہیں ہوئی ۔سابق وزیر مملکت خزانہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا حکومت ریگولیٹری باڈیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کی بجائے بند کردے ۔ ریگولیٹری اداروں کو مکمل آزادی اور خو مختاری دی جائے۔ آزاد اداروں کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں ہے ۔ رات کی تاریکی میں جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جائے۔

مزید : کراچی صفحہ اول