وزیر اعظم کے یارِ غار کے نام

وزیر اعظم کے یارِ غار کے نام
وزیر اعظم کے یارِ غار کے نام

  

پاکستان کی سیاست بھی دوسرے ممالک کی طرح اپنے دامن میں کئی رنگ رکھتی ہے۔ بعض سیاستدان اپنی سیاست کو چمکانے کے لئے عجیب و غریب بیانات داغتے ہیں۔ اُنکا مطمعِ نظر ہر وقت اخبارات کی سُرخیوں میں رہنا ہوتا ہے۔ وُہ شہرت حاصل کرنے کے لئے محیر العقول قسم کے بیانات دیتے ہیں۔ جن سے ایسے سیاستدانوں کی فر است پر آنسو بہانے کو جی چاہتا ہے۔ ان سیاستدانوں میں جناب محمود اچکزئی صاحب کا بھی نامِ نامی شامل ہے۔ وُہ ا کثر فوج کے خلاف بیانات دیتے ہیں۔ جنرل راحیل کی قیادت کے دورمیں انہوں نے ا یوان میں فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی۔ وُہ متنازع بیان دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ وُہ ہمارے وزیر اعظم نواز شریف کے یارِ غار ہیں۔ بلکہ بعض حلقوں کے نزدیک نواز شریف اُنکو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جو بات وُہ خود نہیں کرنا چاہتے وُہ بات وُہ محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان جیسے سیاستدانوں سے کہلوا دیتے ہیں۔ یہ با ت کوئی ڈھکی چھُپی نہیں کہ شریف خاندان اورافواج پاکستان کے درمیان ٹسل سی رہتی ہیں ۔اُنکی اور انکے دوستوں کی نجی محفلوں میں مبینہ طور پرفوج کو غاصب قرارد یا جا تاہے۔ کیونکہ فوج نے پہلی دفعہ وزیر اعظم نواز شریف کوگھر بھیجا تھا۔ جنرل کر امت اور جنرل آصف کے ساتھ بھی نواز شریف کے تعلقات مثالی نہیں رہے۔وہ جنرل راحیل شریف کی شہرت سے بھی خاصے خائف تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ جنرل اُن سے زیادہ عوام میں مقبول ہیں اِس کے علا وہ دوسرے ممالک کے سر براہان بھی اُن کو زیادہ پسند کرتے تھے۔ کیونکہ وُہ اپنے ارادے میں مصمم تھے۔ انہوں نے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے بیڑا اُٹھا رکھا تھا۔ لہذا وُہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے مخلص تھے۔ اُن کا کام حکومت کے علاوہ دوسرے ممالک کو بھی نظر آتا تھا۔ علاوہ ازیں، نواز شریف کو ڈر تھا کہ جنرل راحیل شریف کہیں دوسرے جنرل پرویز مشرف ثابت نہ ہوں۔ کیو نکہ دونوں کے تعلقات کافی قریبی تھے۔ جس کی خبر نواز شریف کو پہلے سے تھی۔ قصہ مختصر یہ ہے پاکستان میں یہ انداز ہ لگانا بہت مُشکل ہے کہ کون مُلک کے ساتھ مخلص ہے۔ ہر شخص اپنے مُفادت کا غلام ہے۔اور اپنا ایک مخصوص ایجنڈا رکھتا ہے۔

جناب محمود اچکزئی کے تازہ بیان کے مُطابق اُنکا مطالبہ ہے کہ پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کو اُنکے وطن واپس نہ بیھیجا جائے بلکہ اُن کو پاکستان کی شہریت دیکر سرحد، اٹک اور میانوالی جیسے علاقوں میں بسایا جائے۔ حالانکہ پاکستان ، ا افغا نستان اور ا قوامِ متحدہ کے درمیان یہ طے پایا ہے کہ افغان مہاجرین کو 2017 کے آخر تک پاکستان میں رہنے دیا جائے۔ اِس کے علاوہ افغان حکومت اُنکو واپس لینے پر بخوشی راضی ہے۔ پھر اُنکو یہا ں پاکستان میں بسانا کیوں ضروری ہے؟ یہ بات ہم سمجھنے سے عاری ہیں۔

پاکستان ایک ایسا مُلک ہے جس نے طویل مُدت کے لئے افغان بھا ئیوں اور بہنوں کی میزبانی کی ہے۔ دُنیا کی تاریخ میں اتنی کثیر تعداد میں نقل مکانی کبھی نہیں ہوئی۔ افغا ن مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کی اپنی معیشت اور معا شرت مسخ ہو چُکی ہے۔ بیشک دوسرے ممالک نے بھی بارِ میزبانی میں پاکستان کا ہاتھ بٹایا ہے لیکن اُنہوں نے اِن مہاجرین کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا سامنا نہیں کیا۔ اِن مہاجرین کی وجہ سے ہمارے اپنے شہریوں کے لئے ملازمتوں کا کال پڑ گیا۔ افغان مہاجرین کے آنے سے ہمیں کلا شنکوف اور منشیات کا کلچر تحفے میں ملا۔ نا جائیز اسلحے کا کاروبار سرعت کے ساتھ شروع ہوا۔ ہر قسم کی سمگلنگ کی ا بتدا ہوئی۔ منشیات کے استعمال نے ہماری نسلوں کو تباہ کر دیا۔ اور نشے کی لعنت پر آج تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ کیونکہ آپ لوگ اِس حقیقت سے واقف ہیں کے ہیروئین کی پیداوار افغانستان میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اسکو سمگل کرنے کے لئے زیادہ لمبی چوڑی ٹرانسپورٹ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اِسکو آسانی سے چھُپایا جا سکتا ہے۔ تھوڑی سی مقدار سے لاکھوں ڈالر آسانی سے کمائے جا سکتے ہیں۔ اِس طرھ کلاشنکوف کو پاکستان میں کھُلے بندوں بیچ کر افغان بھاؤں نے اپنے لئے روزگار کا بندوبست کیا۔ لیکن انہوں نے پاکستان میں جرائم کو بڑھانے میں خاطر خواہ کردار ادا کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ تمام افغان بھائی ایسے گھناؤنے کاموں میں ملوث نہیں تھے لیکن اکثر افغان بھائیوں نے یہی دھندہ اختیار کیا۔ جس سے مُلک میں جرائم کی شرح بہت بڑھ گئی جو آج تک تما متر کوشش کے باوجو کنٹرول نہیں کی جا سکی۔ ایسے حالات میں افغانیوں کو مزید اپنے مُلک میں پناہ دینا اپنے مُلک کے ساتھ دُشمنی ہوگی۔ اب افغانستان میں حالات بالکُل بدل چُکے ہیں۔ افغنستان میں کاروبارِ زندگی معمول کے مُطابق رواں دواں ہے۔ ہم بطور مُلک بہت دیر تک اُنکی میز بانی کا شرف نہیں اٹھا سکتے۔ جقیقت یہ ہے کہ ہمارے اپنے وسائل اِس قدر محدود ہیں کہ ہم اپنے نوجوانوں کو مُلاز متیں نہیں دے سکتے۔ پھر اتنی تعداد میں مہاجرین کو تعلیمی، رہائشی اور طبی سہولتیں فراہم کرنا خالہ جی کاباڑہ نہیں۔ پھر اتنی بڑی آبادی کو محفوظ کرنے کے لئے مزید پولیس کی نفری کی ضرورت ہوگی۔ اُنکو پاکستانی شہریت دینے سے محمود اچکزئی صاھب کی پارٹی کا ووٹ بینک تو بڑھ جائے گا لیکن مُلک کے مسائل میں اور اضافہ ہو جائے گا۔ ہم مزید کسی بھی بُوجھ کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ ایسی تجاویز دینے سے کیا فائدہ جو نا قابلِ عمل ہوں۔ ایسے بیانات دیکر ہم اپنے معاشرے کو تقسیم در تقسیم کرنے کے جُرم کا ارتکاب کر تے ہیں۔ اوّل خویش بعد درویش۔ سب سے پہلے پاکستان۔ ہم ایسے لوگوں کے لئے قُربایناں نہیں دے سکتے جو ہمار ی کھا کر ہمیں جوتے ماریں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ