پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی نیٹ ورک نہیں، امن قربانیوں سے قائم ہوا، بارڈر مینجمنٹ بہتر بنائیں گے، 2020ءتک صرف 6 کنٹرولڈ روٹس ہوں گے : وزیر داخلہ

پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی نیٹ ورک نہیں، امن قربانیوں سے قائم ہوا، بارڈر ...
پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی نیٹ ورک نہیں، امن قربانیوں سے قائم ہوا، بارڈر مینجمنٹ بہتر بنائیں گے، 2020ءتک صرف 6 کنٹرولڈ روٹس ہوں گے : وزیر داخلہ

  

لنڈی کوتل (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں اس خطے میں دہشت گردی کا کوئی نیٹ ورک نہیں ہے۔ پاک فوج، ایف سی اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں سے امن قائم کیا گیا ہے اور قبائلی عوام نے سب سے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ جنرل راحیل شریف دہشت گردی کے خلاف ہمیشہ اگلے مورچوں پر رہے، ان کے اچھے کاموں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ بارڈر مینجمنٹ کو بہتر کریں گے اور 2020ءتک صرف 6 کنٹرولڈ روٹس ہوں گے۔

حکومت نے سیکرٹری ایوی ایشن عرفان الہیٰ کو پی آئی اے کا قائم مقام چیئرمین بنانے کا فیصلہ کر لیا

تفصیلات کے مطابق لنڈی کوتل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف 90 فیصد جنگ جیت لی اور بچ جانے والے دہشت گرد سرحد پار چلے گئے ہیں۔ پاکستان میں امن یونہی نہیں آ گیا بلکہ اس کے پیچھے ہزاروں قربانیاں ہیں۔ صرف ایف سی کے 1284 جوان اور افسر شہید ہوئے جبکہ 3 ہزار سے زائد زخمی اور 282 معذور ہوئے۔ قربانیاں دینے والے بہادر بیٹوں اور جوانوں کو یاد رکھنا چاہئے۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کا گراف اوپر جا رہا ہے اور پاکستان میں یہ گراف نیچے آیا ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ لنڈی کوتل آنے پر آج بہت خوشی ہوئی، آپ سب کو اسلام آباد آنے کی دعوت دیتا ہوں اور آپ سے بہت سے معاملات پر رہنمائی لینا چاہتا ہوں ۔ یہاں آ کر اس سے بھی زیادہ خوشی امن قائم ہونے اور یہاں کے لوگوں کا امن کے قیام میں حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون پر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی جی ایف سی نے بتایا کہ امن قائم کرنے میں بہت بڑا کردار یہاں کے قبائل اور عوام کا ہے جنہوں نے سیکیورٹی فورسز، ایف سی اور پاک فوج کیساتھ بہت بڑا تعاون کیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی ایف سی نے بتایا کہ اس علاقے کے لوگوں کی پاکستان کے ساتھ محبت کا یہ عالم ہے کہ کچھ عرصہ پہلے یہاں معاملہ گڑبڑ ہوا اور لڑائی ہوئی تو اس علاقے کے عوام آئے اور کہا کہ آپ پیچھے ہٹیں، ہم پاکستان کا دفاع کریں گے، تو میں نے کہا کہ یہ نئی بات نہیں جب ہمارے پاس فوج نہیں تھی تو اس خطے کے قبائل نے کشمیر کی جنگ لڑی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 15 سال سے جو دہشت گردی کی لہر آئی اس نے سب سے زیادہ قبائل کی زندگی کو نقصان پہنچایا اور ان کا امن تباہ کیا۔ آہستہ آہستہ اس تشدد نے سرایت کرتے ہوئے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے طول و عرض میں اور اس خطے میں بہت بہتری آئی ہے۔ میں اپنے ساڑھے تین سالہ دور وزارت میں ایف سی کی دعوت پر تین دفعہ یہاں آ چکا ہوں اور اظہار کر چکا ہوں کہ جب پہلی بار پشاور آیا تو مجھے یہاں آنے کی خصوصی دعوت تھی لیکن کسی وجہ سے نہ آ سکا لیکن آج مجھے ا س تاریخی علاقے میں آنے پر بہت خوشی ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام مطمئن رہیں کیونکہ پاکستان کی فوج، پولیس اور سیکیورٹی فورسز پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس جنگ میں ہزاروں قربانیاں دی گئی ہیں اور بہادری اور شجاعت کی مثالیں قائم کی گئی ہیں اور ایف سی کے جوانوں اور بہادروں کی شجاعت پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف اب آرمی چیف نہیں ہیں لیکن جو چلا جائے اس کے اچھے کاموں کو یاد کرنا چاہئے۔ جنرل راحیل شریف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ اگلے مورچوں پر رہے اور حکومت نے بھی اس معاملے پر ان کیساتھ بھرپور تعاون کیا۔ ان کے اچھے کاموں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دنیا میں دہشت گردی کا گراف بڑھا ہے اور پاکستان واحد ملک ہے جہاں کم ہوا ہے لیکن ابھی یہ ختم نہیں ہوئی البتہ گزشتہ 15 سال سے جو دہشت گردی کی لہر جاری تھی اس میں پاک فوج کے بہادر بیٹوں کی قربانیوں کے باعث بہت بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضرب عضب کے تاریخی آپریشن کے بعد یہ لوگ یا مارے گئے یا بھاگ کر سرحد پار چلے گئے۔ یہ لوگ چھپ کر سرحد پار کر کے آتے ہیں اور پھر گیدڑوں کی طرح ہمارے عوام پر وار کرتے ہیں۔ ہم نے ان کا راستہ روکنا ہے اور اس کیلئے ہم نے بہت ساری کوششیں کی ہیں۔ افغانستان کے ساتھ بارڈر 2400 کلومیٹر سے زیادہ ہے، اس کی حفاظت کرنی ہے۔ طورخم سے 30 ہزار لوگ روزانہ ادھر سے ادھر آ جا رہے تھے، افغان ہمارے بھائی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی آئیں اور ہم بھی ادھر جائیں۔

جب وہ مشکل میں تھے تو پاکستان نے دل کھول کر انہیں خوش آمدید کہا اور آئندہ بھی کہیں گے لیکن اس طرح بغیر جانچ پڑتال کے کھلم کھلا آنے جانے کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا فائدہ دہشت گرد اٹھا رہے تھے اور عام لوگوں کے ساتھ آ جاتے تھے۔ اس لئے حکومت اور فوج نے فیصلہ کیا ہے کہ بارڈر مینجمنٹ بہتر کی جائے اور ایک جانب ایف سی تعینات کی جائے گی تو دوسری جانب بارڈر مینجمنٹ کی جائے گی۔ 2020ءتک صرف 6 کنٹرولڈ راستے ہوں گے جہاں سے آمدورفت ہو سکے گی۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستانیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، اگرچہ دہشت گرد پاکستان میں نہیں لیکن وہ دوسرے ملک میں ہیں اور یہ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور اس صورتحال کا تمام تر دباﺅ سیکیورٹی ایجنسیز برداشت کر رہی ہیں۔

ابتدائی مرحلے میں مسلح افواج ، ارکان پارلیمنٹ اور میڈیا نمائندوں کو اسلحہ لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ

اس موقع پر انہوں نے افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سے ہمارے ناکردہ گناہوں کی بھی تشریح کر دی جاتی ہے۔ ہمارا افغانستان کے عوام سے ایک مذہبی رشتہ ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا مگر میں افغانستان کے بالکل سامنے کھڑا ہو کر افغان حکومت کو کہتا ہوں کہ وہ اس مذہبی رشتے کا پاس رکھیں اور پاکستانی عوام کا افغانستان کے عوام سے جو تاریخی اور مذہبی رشتہ ہے اس کا پاس رکھیں، بہکاوے میں نہ آ کر کسی اور کا کھیل مت کھیلیں۔ پاکستان، افغانستان کے بارے میں انتہائی اچھے جذبات رکھتا ہے اور پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے مشروط ہے، ہم دونوں طرف امن چاہتے ہیں اور بے دریغ ایک دوسرے کے ملک آنا جانا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آمدورفت آسانی سے ہو اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں آئیں۔ ہم ایک مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، ایک اللہ کی عبات کرتے ہیں اور ایک رسول ﷺ کے ماننے والے ہیں۔

میں افغانستان پر واضح کرتا ہوں کہ ہم دوستی کے حوالے سے ہر بات ماننے کیلئے تیار ہیں مگر گیدڑ بھبکیاں اور غیروں کی ڈور ہلانے پر الزامات لگا دینا قابل قبول نہیں۔ پاکستانی حکومت نہ پہلے دباﺅ میں آئی اور نہ اب آئے گی، پاکستانی قوم میں غیرت، بہترین لڑاکا فوج اور سب سے بڑھ کر ایمان کی دولت ہے اس لئے اس قوم کا جرات، بہادری اور شجاعت میں نہ کوئی مقابلہ کر سکتا ہے اور نہ پاکستانی فوج کا کوئی مقابل ہو سکتا ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں