بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے انسانی سمگلنگ کا گھناﺅنا کاروبار عروج پر، بیشتر پاکستانیوں کی لاشیں سرحدوں پر پڑے ہونے کا انکشاف

بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے انسانی سمگلنگ کا گھناﺅنا کاروبار عروج پر، بیشتر ...
بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے انسانی سمگلنگ کا گھناﺅنا کاروبار عروج پر، بیشتر پاکستانیوں کی لاشیں سرحدوں پر پڑے ہونے کا انکشاف

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے انسانی سمگلنگ کا گھناﺅنا کاروبار عروج پر ہے اور 4 سے 5 لاکھ روپے کے عوض لوگوں کو سمگل کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ابتدائی مرحلے میں مسلح افواج ، ارکان پارلیمنٹ اور میڈیا نمائندوں کو اسلحہ لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے انسانی سمگلنگ کا گھناﺅنا کاروبار عروج پر ہے اور 4 سے 5 لاکھ روپے لے کر لوگوں کو یورپ سمگل کیا جانے لگا ہے لیکن ان میں سے بیشتر افراد راستے میں ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور یورپ جانے کی خواہش لئے اس دنیا سے ہی رخصت ہو جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انسانی سمگلرز اس مقصد کیلئے پنجگور، تربت اور گوادر کے ساحلی و خشکی کے راستے استعمال کرتے ہیں اور ترکی اور ایران پہنچتے ہیں جہاں بیشتر لوگ مارے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ بارڈر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر پاکستانیوں کی لاشیں سرحدوں پر بے گورو کفن پڑی ہیں۔

حکومت نے سیکرٹری ایوی ایشن عرفان الہیٰ کو پی آئی اے کا قائم مقام چیئرمین بنانے کا فیصلہ کر لیا

تشویشناک امر یہ ہے کہ اب تک ایسا کوئی بھی انسانی سمگلر گرفتار نہیں کیا جا سکا جو لوگوں کو یورپ جانے کا جھانسہ دے کر درحقیقت ”موت کے سفر“ پر روانہ کر دیتے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے باعث اکثر ممالک نے سرحدوں پر سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی ہے اور بہت سے لوگوں کو دہشت گرد سمجھ کر ہی گولیوں کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں