پوری دنیا کو شام میں ہونے والے مظالم سے آگاہ کرنے والی 7سالہ ’’ننھی صحافی ‘‘ حلب سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ،ترک صدر کا اپنے محل میں پرتپاک استقبال

پوری دنیا کو شام میں ہونے والے مظالم سے آگاہ کرنے والی 7سالہ ’’ننھی صحافی ...
پوری دنیا کو شام میں ہونے والے مظالم سے آگاہ کرنے والی 7سالہ ’’ننھی صحافی ‘‘ حلب سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ،ترک صدر کا اپنے محل میں پرتپاک استقبال

  

انقرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن )شام کے علاقے حلب میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز سلوک کو مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’’ٹوئیٹر ‘‘ پر تصاویر اور سلگتی تحریروں کے ذریعے پوری دنیا کو ہر خبر سے آگاہ کرنے والی ’’ننھی صحافی ‘‘ بانا العابد کو ’’قیامت زدہ شہر ‘‘ سے بحفاظت نکال لیا گیا ،ترک صدر رجب طیب اردوان کا پوری دنیا کو حلب  میں شامی صدر بشا ر الاسد اور ان کی اتحادی افواج کا اصل چہرہ دکھانے والی ننھی صحافی کا اپنے محل میں پرتپاک استقبال ،7سالہ بانا العابد کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر ترک صدر نے خصوصی طور پر تصاویر اور ویڈیو  بھی بنوائی۔واضح رہے کہ حلب میں ہونے والی بر بریت اور قتل عام کو منظر عام پر لانے والی بانا العابد کو روس ،شام اور ایرانی میڈیا ’’جعلی ‘‘ قرار دیتا رہا ہے ۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق حلب میں شام ، روس اور ایرانی پشت پناہی پر ہونے والی بمباری اور قتل و غارت کی اصل صورتحال کو مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’’ٹوئیٹر ‘‘ پر پوری دنیا کو لمحہ با لمحہ ’’باخبر رکھنے والی ننھی صحافی ‘‘ بانا العابد کو اس کے  خاندان سمیت ہزاروں افراد کوقیامت زدہ شہر سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے  جبکہ  بانا العابد اپنے خاندان سمیت ترکی پہنچ گئیں ہیں ،ترک صدر رجب طیب اردوان نےصدارتی محل میں اپنی اہلیہ اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ بانا العابد کا پر تپاک استقبال کیا ،اس موقع پر ترک صدر شدت جذبات سے آبدیدہ بھی ہوئے اور محبت سے ننھی بانا العابد کا ماتھا بھی چوما ۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے خصوصی طور پر بانا العابد کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔

واضح رہے کہ 7سالہ بانا العابد حلب کے جنگ زدہ علاقے میں رہائش پذیر تھی اور اس نے اپنے ’’ٹوئیٹر اکاؤنٹ ‘‘ سے حلب میں روس،شام اور ایرانی بمباری سے شہید ہونے والے ننھے معصوم بچوں،خواتین اور تباہ شدہ عمارتوں کی نہ صرف تصاویر شیئر کیں بلکہ امریکی صدر باراک اوباما ،روسی صدر ولادی میر پوتن اوراقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کو ٹویٹ کے ذریعے شام میں ’’ جنگ بندی ‘‘ کی متعدد بار  اپیلیں بھی  کر چکی ہیں ،اس ننھی صحافی نے حلب میں ہونے والی خون آشام بمباری روکنے کے لئے ویڈیو پیغام کے ذریعے امریکی صدر کی اہلیہ مشل اوباما سے بھی اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کر چکی ہیں ۔بانا العابد کے ’’ٹوئیٹر اکاؤنٹ ‘‘ سے شیئر کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوعالمی میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں۔

یاد رہے کہ بانا العابد اپنی والدہ فاطمہ کی مدد سے اپنا ٹوئیٹر اکاؤنٹ سنبھالتی ہیں ،جبکہ فاطمہ حلب سے بحفاظت نکلنے سے قبل شام میں جاری بمباری اور خون ریزی سے جڑی ہر پوسٹ، تصاویر اور ویڈیوز ٹویٹر پر اپ لوڈ کرتی رہی ہیں ۔بانا العابد کے ٹوئیٹر پر لاکھوں فالورز ہیں جن میں دنیا کی سینکڑوں مشہور و معروف شخصیات بھی شامل ہیں ۔ حلب سے بانا کے محفوظ نکلنے کی خبر ملتے ہی اس کے ٹوئٹر ہینڈل پر مبارکباد کا تانتا لگ گیا ہے ۔واضح  رہے کہ روس ،شام اور ایرانی میڈیا نہ صرف بانا العابد کی طرف سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تصاویر کو جعلی قرار دیتا رہا ہے بلکہ بانا العابد کے وجود سے بھی انکاری رہا ہے ۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں