’’گوگل،ٹویٹر اور فیس بک نے ان 50 افراد کو قتل کروایا‘‘

’’گوگل،ٹویٹر اور فیس بک نے ان 50 افراد کو قتل کروایا‘‘
’’گوگل،ٹویٹر اور فیس بک نے ان 50 افراد کو قتل کروایا‘‘

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) رواں سال جون میں امریکی شہر اورلینڈو میں ہم جنس پرستوں کے ایک کلب میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں 50افراد ہلاک اور 53زخمی ہو گئے تھے۔ اب اس واقعے میں ہلاک شدگان کے لواحقین نے گوگل، ٹوئٹر اور فیس بک کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ لواحقین کا موقف ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش نے ان سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے ذریعے عمر متین کو شدت پسندی کی طرف راغب کیا، لہٰذا یہ کمپنیاں شدت پسندی کے فروغ میں معاونت کی مرتکب ہوئی ہیں۔ اس لیے ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ مشی گن کے مشرقی ڈسٹرکٹ کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے اور واقعے میں ہلاک ہونے والے تین افراد تیوین کراسبے، جیویئر جارج ریز اور جوان ریمن گیوریرو کے لواحقین اس مقدمے کے مدعی ہیں۔ درخواست میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ”تینوں ویب پلیٹ فارمز نے داعش کے شدت پسندوں کو اکاﺅنٹ بنانے کی اجازت دی جن کے ذریعے وہ اپنا شدت پسندانہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں، فنڈز جمع کرتے ہیں اور نئے لوگوں کو اپنی تنظیم میں بھرتی کرتے ہیں۔ اگر ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل(یوٹیوب)نہ ہوتیں تو داعش چند سالوں میں کبھی دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم نہ بن پاتی۔شدت پسند تنظیم اپنا پراپیگنڈہ مواد ان ویب سائٹس پر پوسٹ کرتی ہے اور یہ کمپنیاں اس مواد سے حاصل ہونے والی آمدنی میں داعش کے ساتھ حصہ دار ہوتی ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس