کلبھوشن یادیو حاضر سروس بھارتی افسر،اس بارے مزید شواہد اکٹھے کررہے ہیں،سرتاج عزیز کی سینیٹ قائمہ کمیٹی کوبریفنگ

کلبھوشن یادیو حاضر سروس بھارتی افسر،اس بارے مزید شواہد اکٹھے کررہے ...
کلبھوشن یادیو حاضر سروس بھارتی افسر،اس بارے مزید شواہد اکٹھے کررہے ہیں،سرتاج عزیز کی سینیٹ قائمہ کمیٹی کوبریفنگ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو حاضر سروس بھارتی افسر،اس بارے مزید شواہد اکٹھے کررہے ہیں۔

جیو نیوز کے مطابق مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے بارے میں ڈوزئیر تیاری کے آخری مراحل میں ہے، شروع میں اس کی ویڈیو جاری کی، جلد مزید اطلاعات آئیں گی۔

سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ ایل او سی پر بھارتی خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ میں آواز اٹھائی ہے،بھارت ایل اوسی پرفائرنگ کا جوازدیتا ہے کہ سرحد پارسے دہشت گرد آرہے تھے،پڑوسی جس طرح دہشت گردی کی حمایت کررہا ہے اسے سامنے لانا زیادہ اہم ہے۔

مشیر خارجہ اور سیکریٹری خارجہ نے ان خیالات کا اظہار سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا،سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ کلبھوشن یادیو کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں،میں نے کہا اضافی معلومات چاہییں، میڈیا نے اسے شواہد کہہ کر رپورٹ کیا۔

دورے کی دعوت قبول، بوسنیا کے ہم منصب سے دفاع ،صنعت ،تعلیم اور زراعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پرگفتگو ہوئی :وزیراعظم نواز شریف

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سوال اٹھایا کہ کلبھوشن مارچ میں گرفتار ہوا، اتنا عرصہ گزرگیا ہے، ہمارا کیس کمزور ہو رہا ہے۔

سرتاج عزیز نے بتایا کہ ہمارا کیس ہرگزکمزور نہیں، کلبھوشن ایک حاضر سروس افسر ہے، اس سے واضح ہے کہ بھارت مداخلت کر رہا ہے، کیس کے ڈوزئیر کی تیاری حتمی مراحل میں ہے، شروع میں اس کی ویڈیو جاری کی، جلد مزید اطلاعات آئیں گی۔

سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال بھارت کی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے دوران 45 شہری شہید ہوئے، اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے صدر اور سیکریٹری جنرل کو تحریری طور پرآگاہ کیا ہے۔

اعزاز چوہدری نے کہا کہ افغانستان میں مداخلت نہیں اس کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو واضح پیغام دیا ہےکہ ہم افغانستان میں تشدد نہیں چاہتے، پاکستان میں بیٹھ کرایسا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، ان نیٹ ورکس کا زیادہ حصہ افغانستان میں ہی ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں