کیا عدالت سپیکر کے معاملات میں مداخلت کرسکتی ہے ،ہائی کورٹ نے وزیراعظم نااہلی کیس میں دلائل طلب کرلئے

کیا عدالت سپیکر کے معاملات میں مداخلت کرسکتی ہے ،ہائی کورٹ نے وزیراعظم ...
کیا عدالت سپیکر کے معاملات میں مداخلت کرسکتی ہے ،ہائی کورٹ نے وزیراعظم نااہلی کیس میں دلائل طلب کرلئے

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے وزیر اعظم کی نا اہلی کا ریفرنس مسترد کرنے پر سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف دائر درخواست پرآئندہ تاریخ سماعت پر فریقین کے وکلاءکو عدالتی دائر ہ اختیار پر دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت26دسمبر تک ملتوی کر دی ۔درخواست گزار جسٹس ڈیموکریٹک پارٹی کے سردار عمر فاروق کی درخواست میں حکومت کے وکیل سلمان بٹ نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے اعتراض اٹھایا کہ لاہور ہائیکورٹ کو درخواست پر سماعت کا اختیار ہی نہیں ہے بلکہ یہ معاملہ اسلام آباد کا ہے اور درخواست گزار کا تعلق بھی پنجاب سے نہیں ہے۔لہذا درخواست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست خارج کی جائے ۔دوران سماعت فاضل عدالت نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ سپیکر کس اختیار کے تحت ریفرنس خارج کر سکتے ہیں۔درخواست گزار کے وکلاءنے عدالت کو بتایا کہ سپیکر قومی اسمبلی کو وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس بجھوایا گیا تھاجس میں 15سوالات اٹھائے گئے۔ جس کے مطابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اپنے عہدے کے اہل نہیں رہے جس پر قومی اسمبلی کے سپیکر نے تین سوالوں کی جوابات دے کر ریفرنس کا خارج کر دیا تھا ۔ آئین کے آرٹیکل 69 کے تحت سپیکر کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے ۔لہذا اس معاملہ پر فاضل عدالت نوٹس لے۔ فاضل عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد وزیر اعظم ، سپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی تھی ۔گزشتہ سماعت میں وزیراعظم کی جانب سے عدالت کے روبرو جواب داخل کرایا گیا جس میں ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا ۔درخواست گزار کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کے خلاف ریفرنس مسترد کرکے جانبداری کا ثبوت دیا ہے۔حالانکہ سپیکر قومی اسمبلی 30 دنوں میں ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوانے کے پابند تھے لیکن سپیکر نے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے درخواست پر خودہی فیصلہ بھی کر دیا۔لہذاکہ سپیکر کی جانب سے نواز شریف کے خلاف ریفرنس مسترد کرنے فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے جس پر فاضل عدالت نے مزید سماعت26دسمبر تک ملتوی کردی ۔

مزید : لاہور