باہر جانے میں پاک فوج اور راحیل شریف نے مدد کی ،آصف زرداری حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے:پرویز مشرف

باہر جانے میں پاک فوج اور راحیل شریف نے مدد کی ،آصف زرداری حقیقی اپوزیشن کا ...
باہر جانے میں پاک فوج اور راحیل شریف نے مدد کی ،آصف زرداری حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے:پرویز مشرف

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ میرے ملک سے باہر جانے میں پاک فوج اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے میری مدد کی ، فوج ابھی بھی میری حمایت کرتی ہے کیسے ہو سکتا ہے کہ فوج مجھے بھول جائے ، تحریک انصاف کی مقبولیت پانامہ کیس کے فیصلے پر منحصر ہے ، آصف زرداری اب حکومت کے خلاف حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے ، ملک میں (ن) لیگ اور پی پی کے علاوہ تیسری سیاسی قوت کی ضرورت ہے ، انصاف کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم تبدیل کیا جائے ۔

نجی ٹی وی چینل ’’ایکسپریس نیوز ‘‘ کے پروگرام ’’تکرار ‘‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی مقبولیت پانامہ کیس کے فیصلے پر منحصر ہے ،کیسے ہو سکتا ہے فوج بھول جائے ، فوج میں ابھی بھی میری حمایت ہے ، میرے لک سے باہر جانے میں فوج اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مدد کی، آصف زرداری اب حکومت کے خلاف اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے،پیپلزپارٹی حقیقی اپوزیشن بن سکتی ہے ۔ پرویز مشرف نے کہا کہ (ن) لیگ اور پی پی کے علاوہ کوئی تیسری نیشنل قوت کی ضرورت ہے ، کراچی کو زبانوں کی تقسیم سے پاک کرنے کی ضرورت ہے اورمیری ہمدردیاں مہاجرین کے ساتھ ہیں مگراس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ایم کیو ایم سنبھالنا چاہ رہا ہوں بلکہ میں تمام چھوٹی سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کر کے ایک نیشنل لیول کی تیسری سیاسی قوت تیار کرنا چاہ رہا ہوں تاکہ 2018کے الیکشن میں (ن) لیگ اور پی پی کو ٹکر دے سکیں ۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار ایماندار آدمی ہیں اور کوشش کرتے ہیں اچھا کام کریں،سیکیورٹی لیکس کی خبر پر ایکشن ہونا چاہیے۔ سابق صدر نے کہا کہ کشمیر ی حریت پسند ہیں دہشت گرد نہیں ہیں،کشمیری آزادی کے لئے جانیں قربان کر رہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے جن میجر جنرلز کو ہٹانے کا کہا ان کا نام نہیں بتا سکتا ، دونوں افسران اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔پرویز مشرف نے کہا کہ (ن) لیگ کے وزراء کو پانامہ کیس سے الگ رہنا چاہیے کیونکہ یہ کیس شریف خاندان کا ذاتی معاملہ ہے ،شریف خاندان کے قطر سے رابطے تھے مگر ان کا زیادہ تعلق ان کے ساتھ 2008کے بعد بنا ۔ نوازشریف کو رہا کروانے میں قطر کا کوئی رول نہیں تھا،انصاف کا تقاضہ ہے کہ وزیراعظم تبدیل ہونا چاہیے کیونکہ پوری دنیا میں ان کو کرپٹ کہا جا رہا ہے ۔

مزید : قومی /اہم خبریں