قومی معیشت مضبوط اور پاکستان کو مسائل اور چیلنجز سے نکالنے کے لئے صنعتکاروں اور تاجر برادری کا کلیدی کردار ہے:میاں شہباز شریف

قومی معیشت مضبوط اور پاکستان کو مسائل اور چیلنجز سے نکالنے کے لئے صنعتکاروں ...
قومی معیشت مضبوط اور پاکستان کو مسائل اور چیلنجز سے نکالنے کے لئے صنعتکاروں اور تاجر برادری کا کلیدی کردار ہے:میاں شہباز شریف

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی معیشت کو مضبوط بنانے اور پاکستان کو مسائل اور چیلنجز سے نکالنے کے حوالے سے ملک کے صنعتکاروں اورتاجر برادری کا کلیدی کردار ہے ، قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈ ی کی حیثیت رکھنے والے صنعتکارو اور تاجر برادری کے جائز مسائل حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ، تاجر برادری کے وفاق سے متعلقہ مسائل کے حل کیلئے ان کا وکیل بن کر تاجربرادری کے ساتھ اسلام آبادجانے کیلئے تیار ہوں ، پاکستان چار اکائیوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل ملک ہے ،پاکستان ہم سب کا ہے اور ہمیں مل بیٹھ کر ایسی پالیسیاں بنانی ہیں جس سے پورے پاکستان کو فائدہ پہنچے اور ملک کی صنعت ترقی کرے،ایسے فیصلے اور اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو اور یہی پاکستان کی بہتر خدمت ہو گی، آئندہ سال کے آخر میں متعدد توانائی منصوبوں کی تکمیل سے ملک سے لوڈ شیڈنگ کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو جائے گا، صنعتوں اور گھریلو صارفین کیلئے نہ صرف وافر بجلی دستیاب ہو گی بلکہ انہیں بجلی سستی بھی ملے گی۔

ایوان وزیر اعلی میں’’ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ‘‘کے پہلے ایکسیلنس ایوارڈز 2016 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قومی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے حوالے سے صنعتکاروں اور تاجربرادری کے اہم کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں توانائی بحران کے خاتمے کیلئے بے پناہ کام کیا گیا ہے ، ملک بھر میں بجلی کے منصوبوں پر تیزرفتاری سے کام جاری ہے ، پنجاب میں گیس کی بنیاد پر 3600 میگا واٹ کے پاور پلانٹ لگ رہے ہیں اور نیپرا بھی اپنا ٹیرف ساڑھے دس سے کم کر کے ساڑھے چھ روپے پر لے آیا ہے جس کا فائدہ یقیناًگھریلو اوصنعتی صارفین کو ہو گا، ساہیوال اور پورٹ قاسم سندھ میں-1320 1320 میگاواٹ کے کول پاور منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں،دوسری جانب نیلم جہلم کا منصوبہ 2003 ء میں شروع ہوا اور 14 سال گزرنے کے باوجود آج بھی نامکمل ہے ، اس کا ابتدائی تخمینہ 800 ملین ڈالر تھا اور اب ساڑھے 4 ارب ڈالر تک اس کی لاگت پہنچ گئی ہے اور اس منصوبے سے 990 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی ، منصوبے میں تاخیر سے بڑھنے والی لاگت بھی پاکستان کے غریب آدمی کو ادا کرنا پڑ رہی ہے جو انتہائی تکلیف دہ عمل ہے،ماضی میں گیس کی بنیاد پر لگنے والے منصوبے کے مقابلے میں آج یہ منصوبے آدھی قیمت پر لگ رہے ہیں ،اس کا فائدہ بھی صارفین کو ہی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ 12 ارب ڈالر کی لاگت سے توانائی کے منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں ، چین نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا پیکیج دے کر اپنا حق ادا کر دیا ہے اور اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع صدیوں بعد میسر آتے ہیں اور ہم اسے ضائع کرنے کا کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں کے تحت پاکستانی صنعت کو بھی فروغ ملے گا اس مقصد کیلئے ہمارے صنعتکاروں اور تاجروں کو آگے بڑھنا ہو گا، ہمیں ملکر پاکستان کو مضبوط معاشی قوت بنانا ہے ۔

مزید : لاہور