قائد اعظمؒ ہمارے لئے بہترین رول ماڈل

قائد اعظمؒ ہمارے لئے بہترین رول ماڈل
قائد اعظمؒ ہمارے لئے بہترین رول ماڈل

  

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ ہمارے محسن اور قوم کے لئے رول ماڈل ہیں۔زندہ قومیں اپنے محسنوں کو نہیں بھولتیں۔ انہیں نہ صرف ہمیشہ یادرکھتی ہیں، بلکہ ان کے اصولوں پر عمل بھی کرتی ہیں۔

پاکستانی قوم ایک زندہ قوم ہے جو پاکستان کو ایک مستحکم ،مضبوط ملک بنانے اور ایک فلاحی معاشرے کی تشکیل کے لئے بانی پاکستان کے خواب کو پوراکرنے کا عزم رکھتی ہے۔

قائد اعظمؒ نے بچپن سے لے کر اپنی سیاسی زندگی تک جو جدوجہد کی، اس جدو جہد نے ہمیں آزاد ملک میں سانس لینے کا حق دیا ۔ قائد اعظم ؒ کی مثالی قیاد ت میں ہمیں کرۂ ارض پر پاکستان کی صورت میں نمایاں شناخت ملی۔ انہوں نے ہمیشہ ملک و قوم کے لئے کام کیا، جس کے لئے اپنی صحت کی بھی پروا نہ کی۔ قائد اعظم ؒ کے سنہری اصول ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔

بابائے قوم پاکستان کو مکمل اسلامی نظریاتی مملکت بنانے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے۔ سفارش اور بدعنوانی سے انہیں ہمیشہ نفرت رہی۔ ایک بار ان کے بھائی نے اپنے تعارفی کارڈ پر "گورنرجنرل کا بھائی " کے الفاظ درج کروائے، جس کا علم قائد اعظمؒ کو ہو ا تو وہ سخت خفا ہوئے اور تمام کارڈ اپنے سامنے تلف کروانے کے بعد اپنے بھائی سے کہا۔۔۔ ’’یہ کسی طرح درست نہیں کہ آپ میری ذات کواپنے لئے استعمال کریں‘‘۔۔۔ ان کا یہ عمل ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔

قائد اعظم ؒ کی جرات اورپختہ عزم نے لاکھوں افراد کو ان کا گرویدہ بنا دیا۔قائد اعظمؒ کے کردارکی طاقت ہم سب کے لئے روشن مثال ہے، جسے سامنے رکھتے ہوئے ملک میں انتہا پسندی اورعسکریت پسندی کی قوتوں کو شکست دینے، جمہوریت، آئین اورقانون کی حکمرانی اور بالادستی کی کوششوں کے لئے قومی اتحاد قائم کیا جاسکتا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت ہم سب کے لئے روشن مینار ہے۔ بانی پاکستان کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کریں ۔

قائد اعظمؒ کا یوم پیدائش اتحاد ،تنظیم اورایمان کا درس دیتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے فلسفے کے مطابق پاکستان سے عدم برداشت کے رویے کو ختم کیا جائے گا، جن کی پرعزم قیادت نے برصغیرکے مسلمانوں کوایک لڑی میں پرودیا ۔

قائد اعظم ؒ کی پچاس سال پر محیط سیاسی زندگی کی جدوجہد کا مرکز اور محوریہ اعلیٰ و ارفع نظریہ تھا کہ بر صغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو سیاسی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی حقوق سے بہرہ ور کر کے ان کو آزادی کی نعمت سے ہمکنار کرنے کے ساتھ ساتھ باوقار شہری بنایا جائے۔

کانگریس کا رکن ہونے کے باوجود آپ نے قانون ساز کونسل میں جس طرح مسلمانوں کے حقوق کے حق میں آواز بلند کی، وہ آپ کی ملت اسلامیہ بر صغیر جنوبی ایشیا کے ساتھ گہری وابستگی کی مظہر ہے۔

مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد بھی آپ نے بھرپور کوشش کی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر بحیثیت ایک قوم زندہ رہنے کا حق دیا جائے۔ کانگریس کا سر کردہ رکن اور لبرل رہنما ہونے کی حیثیت سے آپ کو ہندو ذہنیت کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا تھا، لہٰذا ہندوقیادت سے مایوس ہونے اور نہرو کمیٹی کی مسلم کش دستوری سفارشات کو مسترد کرنے کے بعد آپ نے اپنے مشہور چودہ نکات کا جنوری 1929ء میں اعلان کر دیا۔

آپ نے یہ نکات پیش کر کے ہندوؤں پر حتمی طور پر یہ بات واضح کر دی کہ ان مطالبات کو کلی طور پر تسلیم کئے بغیر ہندوستان میں کوئی بھی دستوری ڈھانچہ نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔

آل انڈیا مسلم لیگ کونسل نے 28مارچ1929ء کو اپنے اجلاس منعقدہ دہلی میں گہرے غور و فکر کے بعد قائد اعظمؒ کے چودہ نکات کا تسلیم کرکے جماعتی پالیسی قرار دے دیا۔

ان نکات نے برصغیر کی جدوجہد آزادی کے لئے مسلمانوں کے موقف کو واضح کر دیا تھا۔ مسلمانان برصغیر نے چودہ نکات کی مکمل تائید و حمایت کی ،جبکہ انڈین نیشنل کانگریس نے ان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کی قومی سیاست پر گہرے اثر ات مرتب کئے اور بر صغیر جنوبی ایشیا میں ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہوا۔

قوم بانی پاکستان کے فرمودات پر عمل کرے۔ ان کے بتائے ہوئے اصول اتحاد، تنظیم اوریقین محکم پرعمل کرے، یہ قوم ایک متحد قوم ہے، اور کڑی سے کڑی آزمائش پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آج وطن عزیز جن مشکلات سے گزر رہا ہے، اس میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قائد کے فرمودات پر عمل کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد ، تنظیم اور جہد مسلسل کو مکمل طورپر رائج کریں، تاکہ پاکستان کو قائد کے خوابوں کی حقیقی تعبیر سے روشناس کروایا جاسکے۔

آج پاکستان دنیا میں ایٹمی قوت بن چکا ہے، اسی لئے دشمنوں کی نظریں ہمارے ملک پر ہر سمت سے پڑ رہی ہیں۔ ہمیں اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے قائد اعظمؒ کے رہنما اصولوں کے مطابق زندگی کی راہیں متعین کرتے ہوئے عملی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

قائد اعظمؒ کے کردار سے واقف ہر شخص کا کہنا ہے کہ قائد اعظمؒ کے قول و فعل میں کہیں تضاد نہیں تھا۔یہی میرے قائدکا کر دار تھا۔ اس بات سے ان کا بڑے سے بڑا مخالف بھی انکار نہیں کر سکتا ہے تو پھر ہم کیوں اپنے معصوم رہنما پر بہتان طرازی پر اتر آئے ہے۔

خدارا پاکستانی قوم پرظلم مت کیجئے۔ اس پر رحم کھایئے، یہ بہت معصوم ہے۔اس کو اس کے ٹریک سے ہٹانے کی کوشش مت کیجئے۔ میرا قائد سیکولر ہر گز نہیں تھا۔میرے قائد کے لئے جھوٹ اور ڈھٹائی کا سہارا مت لیجئے۔

مزید :

رائے -کالم -