لاہور میں جدید چائلڈ کورٹ کا قیام

لاہور میں جدید چائلڈ کورٹ کا قیام

  

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی جدید چائلڈ کورٹ کا افتتاح کرتے ہوئے اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بچوں کے کھیل کود کا وقت جیل کی نذر نہیں ہونا چاہئے۔ چائلڈ کورٹ کے قیام کا بنیادی مقصد ماہرین نفسیات کی مدد سے اُنہیں سنگین نوعیت کے نفسیاتی مسائل سے بچانا ہے۔اِس کے لئے بچوں کے مقدمات کے فیصلے جلد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے چائلڈ کورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جلد ہی بزرگ شہریوں کے لئے بھی الگ عدالت قائم کی جائے گی۔بچے کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ نئی نسل کو مختلف مسائل سے تحفظ مہیا کرتے ہوئے پروان چڑھانا ہمارا مشترکہ فریضہ ہے، جو بچے حالات کے تھپیڑوں کی وجہ سے مقدمات میں ملوث ہو جاتے ہیں اور اُنہیں عدالتوں میں پیشیاں بھگتنا پڑتی ہیں،اُن کا ذہن بُری طرح متاثر ہوتا ہے اور انہیں زندگی بھر نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چیف جسٹس منصور علی شاہ نے درست کہا ہے کہ جو وقت بچوں کو آزادی کے ساتھ کھیل کود میں گزارنا چاہئے،اگر وہی وقت عدالت اور جیل کی نذر ہو جائے تو اُن کے ذہنوں پر اِس کے منفی اور نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چائلڈ کورٹ بنانے کے بعد فوری طور پر نفسیاتی ماہرین کی خدمات حاصل کر کے بچوں کے ذہنوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کی جائے گی، بہت جلد پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کی سربراہی میں شعبۂ نفسیات کے طالب علم ایک خاص مدت تک اُن بچوں کی کونسلنگ کیا کریں گے۔عدالتی نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے بچوں کے سیشن اور کریمنل کیسز کو علیحدہ علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ یہ بہت اہم اور ضروری اقدامات ہیں جو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی پلاننگ کے مطابق ہو رہے ہیں۔چائلڈ کورٹ فی الحال لاہور میں شروع کی گئی ہے،دیگر اضلاع میں بھی مرحلہ وار ایسی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔بچوں کو حالات کی وجہ سے نفسیاتی طور پر نقصانات سے بچانے کے لئے نہایت مفید اور شاندار نتائج کے حامل پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔حوالاتی اور قیدی بچوں کی بہتری اور اصلاح کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات کو اطمینان بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔پاکستان بھر میں بچوں کے لئے صرف ایک جیل بہاولپور میں نصف صدی قبل بنائی گئی تھی۔بعدازاں سرکاری کوششیں محض بیانات تک محدود رہیں، ضرورت اِس بات کی ہے کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات لا کر اِس جیل کو بھی مثالی بنایا جائے۔چائلڈ کورٹ کے قیام سے اصلاحات کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہُوا ہے تو حالات کا شکار ہونے والے بچوں کی بہتری اور اصلاح کی توقع بھی پیدا ہوئی ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ قوم کے اثاثے (بچوں کے لئے) کو تحفظ دے کر جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اُن کی تربیت اور ذہنی نشوونما کا بندوبست کیا گیا ہے ، اللہ کرے اِس کام میں کامیابیاں حاصل ہوں اور یہ سلسلہ بزرگ شہریوں کے لئے بھی ایک جیل بننے کے بعد بھی احسن طریق سے آگے بڑھتا رہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -