جمہوریت سے وفا!

جمہوریت سے وفا!
 جمہوریت سے وفا!

  

سینٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی ایک کھرے( اپ رائت) انسان ہیں اور انہوں نے کبھی بھی اپنے خیالات و نظریات کو مخفی نہیں رکھا، ملک اور جمہوریت سے ان کی محبت عیاں ہے اور انہوں نے ہر قدم پر اپنے موجودہ منصب کی لاج بھی رکھی ہے، یوں بھی ان کا تعلق تحریک پاکستان کے لئے سرگرم ترین خدمات انجام دینے والے خاندان سے ہے وہ تو پیپلز پارٹی میں بھی رورعائت سے کام نہیں لیتے تھے، جبکہ چیئرمین سینٹ کی حیثیت سے انہوں نے خود کو زیادہ سے زیادہ غیر جانبدار اور غیر متنازعہ رکھنے کی کوشش کی ہے اور یہ انہی کی کاوش کا نتیجہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پھر مثال قائم ہوئی اور سپہ سالار اعظم نے سینٹ کمیٹی (فل) میں آکر برملا جمہوریت سے وفا کا اعادہ کیا اور ساتھ ہی ایک بڑی بات کہی کہ جو الزام تراشی فیض آباد والے دھرنے کے حوالے سے ہورہی ہے اگر وہ ثابت ہوجائے یعنی یہ ثبوت دیا جائے کہ اس میں فوج کا کوئی ہاتھ تھا تو وہ (جنرل قمر جاوید) مستعفی ہوجائیں گے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک اور بڑی بات کی کہ اس پہلو پر بہت زیادہ تنقید ہوتی ہے، کہا جاتا ہے کہ فوج (جی، ایچ، کیو) ملک کی دفاعی اور خارجہ پالیسی میں دخیل ہے بلکہ اپنی مرضی اور پسند کی پالیسیاں چاہتا ہے، یہی تنازعہ ڈان لیکس کے حوالے سے تھا، ان کی زبردست پیش کش ہے کہ حکومت اور پارلیمان خارجہ اور دفاع کی پالیسیاں بنائے فوج( جی، ایچ، کیو) اس پر عمل کرے گی، اس کے ساتھ ہی ساتھ پھر اعادہ کیا کہ فوج ملکی آئین کی پابند ہے اور اسی کے مطابق عمل پیرا ہے، دلچسپ رائے تو یہ ہے کہ ملک کے لئے صدارتی نہیں پارلیمانی نظام ہی بہتر ہے۔

سینٹ میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی کھلی ڈلی بریفنگ اور سوالوں کے جوابات اور اس سے قبل قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ایک مثبت رد عمل کے طورپر سامنے آیا اور کئی شکوک رفع ہوئے اور منفی پروپیگنڈے کا بھی موثر جواب ملا ہے، ہم نے اس نوعیت کے حالات کی ہمیشہ وکالت کی اور اس پر اطمینان ہی ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ ایسی باتیں واضح ہوئیں توقع ہے کہ یہ سلسلہ آگے بھی بڑھے گا اور قومی سلامتی کے مشیر لیفٹینٹ جنرل(ر) ناصر جنجوعہ کے سپرد جو قومی فرض ہوا وہ اسے نبھائیں گے اور جلد سے جلد قومی سلامتی پالیسی کو ازسر نو ترتیب دے کر مشترکہ اجلاس میں پیش کردیں گے کہ اس کی شدید ضرورت ہے شاید اسی طرح قومی امور پر قومی اتفاق رائے سامنے آجائے، اس حوالے سے بات فی الحال یہیں تک رہنے دی جائے ورنہ کہنے کے لئے بہت کچھ ہے۔

اب اس تناظر میں ہمیں وزیر اعلیٰ پنجاب اور چودھری نثار کا نقطہ نظر بہتر نظر آتا ہے اور ہر صائب الرائے پسند کرتا ہے کہ ادارے آئین کے مطابق کام کریں اور ان کے ساتھ محاذ آرائی نہ کی جائے لیکن یہ شاید ہماری ہی بدقسمتی ہے کہ سترسال گزر جانے کے باوجود ایسا ہونہیں پایا کہ 1958ء سے قبل سیاسی چکر سنبھالے نہیں جاتے تھے کہ اس کے بعد فوجی حکمرانوں کو نہ روکا جاسکا اور مجموعی طور پر ملک میں جنرل راج زیادہ عرصہ رہا اور اب یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی پسند کا نظام اور ڈھانچہ چاہتی ہے، تاہم سینٹ بریفنگ سے جو بھی ظاہر ہوا اسے جمہوریت کے لئے غنیمت جان کر آگے بڑھنا چاہئے لیکن کیا کیا جائے کہ یہاں تو تحریک اور جوابی تحریک کا ہنگامہ شروع ہوگیا ہے، سابق وزیر اعظم اپنی نااہلی اور وزارت عظمیٰ سے فراغت کے فیصلے سے زود حس ہوچکے ہیں اور اب احتساب عدالت کا سامنا کرتے ہوئے بھی غصہ میں رہتے ہیں، وہ کہتے ہیں، انصاف کے لئے تحریک چلاؤں گا، اس سلسلے میں ہم خود ذہنی طور پر یہ قبول نہیں کرپارہے کہ اس سے ان کی مراد کیا ہے اس وقت وفاق، پنجاب اور بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے، وفاق میں اسے بہت واضح اکثریت حاصل ہے، سینٹ میں وہ کام چلا لیتی ہے جیسے اب حلقہ بندی والی ترمیم منظور کرائی گئی ہے ان کے لئے کیا امر مانع ہے کہ وہ انصاف کے حوالے سے جو غلط قانون و قواعد ہیں ان کو درست کیا جائے، اگر مسلم لیگ (ن) نااہل سیاستدان کو جماعتی عہدے کا اہل بنانے کے لئے ترمیم کراسکتی ہے تو قوانین و قواعد میں تبدیلی کے لئے تو اتنے بڑے جھنجھٹ کی بھی ضرورت نہیں کہ رائج الوقت قوانین میں تصحیح کے لئے تو سادہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم اگر سابق وزیر اعظم یہ چاہتے ہیں کہ ان کی نااہلیت ختم کردی جائے تو یہ کیسے ممکن ہے؟ عدالت عظمیٰ سے نظرثانی اپیل بھی خارج ہوچکی ہے، اب تو اسی طرح ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) ان کے نام پرووٹ حاصل کرے اور اتنی بھاری اکثریت حاصل کرلے کہ آئین میں بھی پسند کی ترامیم کراسکے، اس کے لئے تو انتخابات کا انتظار کرنا ہوگا اور تحریک پھر کیا ہوگی؟ بہتر عمل تو انتخابی مہم ہی ہوسکتی ہے۔

جہاں تک ملک کے منصف اعلیٰ کا تعلق ہے تو فاضل محترم نے لاہور میں خود اپنے فیصلے کی وضاحت کرکے پنڈورا بکس کھول لیا ہے اور اب تنقید کا میدان کھلا ہے کہ یہ فیصلہ نہیں، پبلک تقریر ہے جو عوام نے بھی ٹیلیویژن کے ذریعے سنی انہوں نے اچھی باتیں کیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا وہ آئین اور قانون کی بات کرتے لیکن انہوں نے خود موضوع چھیڑا اب اس پر بات تو ہوگی، ورنہ یہ اصول ہے کہ عدالتی فیصلے پرنیک نیتی سے تنقید بھی کی جاسکتی ہے، ہم نے ایک طویل مدت تک سیاسی کے علاوہ کورٹس رپورٹنگ بھی کی ہے بلکہ 1963ء سے 1970ء تک تو ہم بھی اعزازی طور پر بار ہی کے ایک رکن تصور ہوتے تھے، تب یہ اصول تھا کہ جو معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہو اس پر باہر بات نہیں ہوسکتی تھی بلکہ ایسا کئی بار ہوا کہ بعض حضرات اپنا دکھ لے کر اخبارات کے پاس آئے تو زیر سماعت معاملے کی وجہ سے خبر نہ شائع ہوسکی، کہا جاتا ہے، یہ ’’سب جو ڈیس‘‘ ہے اور اسی بنا پر فیصلوں پر بھی تنقید بہت احتیاط سے ہوتی تھی لیکن یہاں معاملہ بالکل دوسرا تھا کہ فاضل عدلیہ نہ صرف خود ریمارکس دیتی بلکہ عدالتی کارروائی کے حوالے سے ٹی، وی مذاکرے بھی جاری تھے اور کبھی روکا نہیں گیا، پہلی مرتبہ حدیبیہ پیپرز والی اپیل کے سلسلے میں یہ ہدائت دی گئی کہ صرف خبر چلے گی بحث اور مذاکرے نہیں ہوں گے۔

اب اگر فاضل منصف اعلیٰ خود بات چھیز لیں تو پھر بات کہاں تک پہنچے گی؟ اور ایسا ہی ہورہا ہے۔ احتیاط لازم ہے تو پھر سب کے لئے اور آئین و قانون کی پابندی بھی سب کو کرنا چاہئے معاشرے میں چین بھی اصولوں پر چل کر ہی ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -