کچھ نہ سمجھے، خدا کرے کوئی

کچھ نہ سمجھے، خدا کرے کوئی
کچھ نہ سمجھے، خدا کرے کوئی

  

پروفیسر ساجد میر کا تعلق ہمارے شہر سیالکوٹ سے ہے۔ ان کے لئے میرے دل میں بہت احترام ہے۔ لیکن جس ڈھب اور طرز کی ان کی سیاست ہے۔

اس سیاست کے حوالے سے خود پروفیسر ساجد میر کی رائے بھی شاید یہی ہوکہ ’’اس اسلوبِ سیاست کی کسی کو کچھ سمجھ نہیں آسکتی‘‘۔ پروفیسر ساجد میر مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر ہیں۔

وہ سینٹ کے ممبر بھی ہیں اور جب بھی وہ سینٹ کے ممبر منتخب ہوتے ہیں، ان کا سینیٹر ہونا مسلم لیگ (ن) کا مرہونِ منت ہوتا ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ پروفیسر ساجد میر ہمیشہ مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پر سینٹ کے ممبر منتخب ہوتے ہیں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان ایک الگ سیاسی جماعت ہے۔

اس جماعت کا اپنا ایک منشور اور آئین بھی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ مزکزی جمعیت اہل حدیث کا آئین کیا اس امر کی اجازت دیتا ہے کہ اس جماعت کا مرکزی امیر ایک دوسری سیاسی جماعت کی طرف سے سینٹ یا قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوسکتا ہے۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد تو قائم ہوسکتا ہے اور اس اتحاد کی طرف سے مشترکہ طور پر کوئی فرد امیدوار کے طور پر قومی اسمبلی یا سینٹ کے الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے۔

لیکن پروفیسر ساجد میر شاید پورے پاکستان میں واحد مثال ایسی ہوں گے جو سربراہ تو مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ہیں، لیکن سینیٹر وہ ایک دوسری اور بالکل الگ سیاسی جماعت کی طرف سے منتخب ہوتے ہیں۔

سینٹ کے ممبر کے طور پر کسی آئینی ترمیم یا بجٹ کی منظوری کے موقع پر پروفیسر ساجد میر ووٹ دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے فیصلوں کے مطابق ووٹ نہیں دیتے تو وہ سینٹ کی رکنیت سے محروم بھی ہوسکتے ہیں۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث کا بجٹ کے موقع پر یاکسی آئینی ترمیم کے حوالے سے موقف یا نقطۂ نظر مختلف بھی ہوسکتا ہے، لیکن پروفیسر ساجد میر اپنی جماعت کے سربراہ ہونے کے باوجود ذاتی طور پر مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کی پابندی کرنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ وہ سینٹ کے ممبر مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مرکزی جمعیت اہل حدیث ایک آزاد اور الگ سیاسی جماعت کے طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہے، اگر مرکزی جمعیت اہل حدیث ایک الگ اور آزاد سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹرڈ ہے توکیا اس جماعت کا مرکزی لیڈر بیک وقت ایک دوسری رجسٹرڈ سیاسی جماعت کا ممبر بن سکتا ہے۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جب مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان کوئی اتحاد قائم ہوتا ہے تو پھر اس متحدہ سیاسی محاذ کو ایک جماعت کے طور پر الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ کروایا جاتا ہے اور اس کا ایک مشترکہ انتخابی نشان ہوتا ہے۔ پروفیسر ساجد میر کی سربراہی میں قائم مرکزی جمعیت ماضی میں بھی ایم ایم اے کا حصہ تھی اور اب پانچ مذہبی جماعتوں نے ایم ایم اے کو ازسرنو تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) اپنے سابقہ انتخابی نشان کتاب پر 2018ء کے الیکشن میں حصہ لے گی۔ متحدہ مجلس عمل میں جماعت اسلامی، مولانا فضل الرحمن کی جمعیت العلماء اسلام، مرکزی جمعیت اہل حدیث، جے یو پی اور علامہ ساجد نقوی کی جماعت بھی شامل ہوگی۔

متحدہ مجلس عمل کے امیدوار 2018ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں کا مقابلہ کریں گے۔ اب یہاں میرا ایک سوال اور ہے کہ پروفیسر ساجد میر ایک طرف تو مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ہیں۔ دوسری طرف وہ متحدہ مجلس عمل کے لیڈر ہوں گے۔ ظاہر ہے مسلم لیگ (ن) تو متحدہ مجلس عمل میں شامل نہیں جو پانچ مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے۔

کیا پروفیسر ساجد میر مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت سے اجازت لے کر متحدہ مجلس عمل کا حصہ بنے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا انہیں اخلاقی طور پر مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پر حاصل ہونے والی سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی نہیں ہوجانا چاہیے۔

متحدہ مجلس عمل جب ایک الگ پارلیمانی پارٹی کے طور پر قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی حاصل کرے گی تو اس وقت بھی اگر پروفیسر ساجد میر سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی جماعت کا حصہ ہوں گے تو پھر پروفیسر ساجد میر متحدہ مجلس عمل کا ساتھ کیسے نبھائیں گے۔

میری سمجھ سے تو یہ بالا ہے اور میں یہ سطور اسی نکتے کو سمجھنے کی خاطر لکھ رہا ہوں کہ جب تک پروفیسر ساجد میر مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سینیٹ کے ممبر ہیں، وہ مسلم لیگ (ن) کے فیصلے کے بغیر کسی ایسے متحدہ سیاسی محاذ میں شامل ہی کیسے ہوسکتے ہیں۔ جس متحدہ محاذ میں خود مسلم لیگ (ن) شامل نہ ہوئی ہو۔ متحدہ مجلس عمل میں جماعت اسلامی بھی شامل ہے۔

جماعت اسلامی موجودہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی شدید طور پر سیاسی مخالف ہے۔ پروفیسر ساجد میر مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ہیں۔ جماعت اسلامی نے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کو بطور وزیر اعظم پاکستان نااہل کروانے کے لئے سپریم کورٹ میں قانونی جنگ لڑنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ پروفیسر ساجد میر اب بھی جس مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ہیں۔ نااہل قرار پانے کے باوجود نواز شریف اُسی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ ہیں۔

سینیٹر پروفیسر ساجد میر جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ مل کر متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا فیصلہ بھی کرچکے ہیں۔ وہ جماعت اسلامی جو اس وقت بھی مسلم لیگ (ن) کی سخت ترین مخالف ہے اور نواز شریف کے خلاف تو تحریک انصاف سے بھی چند قدم آگے بڑھ کر جماعت اسلامی اپنا سیاسی کردار ادا کررہی ہے۔

اس صورت حال میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ساجد میر جب جماعت اسلامی کے ساتھ سیاسی اتحاد قائم کرنے کے لئے پیش قدمی کرتے ہیں تو مجھے پروفیسر ساجد میر کی سیاست ایک گورکھ دھندا معلوم ہوتی ہے۔

کیا کوئی سیاسی دانشمند، کوئی سیانا تجزیہ نگار اس گتھی کو ہمارے لئے سلجھا سکتا ہے کہ یہ کس طرح کی سیاست ہے، جسے پروفیسر سینیٹر ساجد میر رواج دینے کے لئے عرصہ دراز سے کوشاں ہیں۔ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا یہاں کچھ سوالات مسلم لیگ(ن)کی قیادت پر بھی اٹھائے جاسکتے ہیں۔

جمعیت اہل حدیث جیسا کہ اپنے نام سے ظاہر ہے وہ اہل حدیث مکتبِ فکرتک محدود ہے، جبکہ مسلم لیگ کسی ایک مسلمان فرقے کی جماعت نہیں ہے۔ تمام مکاتبِ فکر کے مسلمان مسلم لیگ (ن) میں شامل ہیں۔

پھر مسلم لیگ (ن) ایک فرقے تک محدود جماعت کے سربراہ کو اپنی ٹکٹ پر سینیٹ کا ممبر منتخب کروا کر دوسرے فرقوں کے مسلمانوں کو کیا پیغام پہنچانا چاہتی ہے سیاسی جماعتوں کی سوچ فرقہ واریت سے بالاہی ہوتو یہ ایک مثبت اور صحت مند سیاست کی علامت ہوگی اور اگر کوئی سیاسی جماعت فرقہ وارانہ سوچ نہیں رکھتی تو پھر اُس کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ کسی مخصوص مسلمان فرقے کی جماعت کی طرف اپنا جھکاؤ ظاہر کرے۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث کو بھی ایک فیصلہ کرلینا چاہیے کہ اگر یہ جماعت اپنا الگ سیاسی تشخص قائم رکھنا چاہتی ہے تو پھر وہ اپنے مرکزی امیر کو کسی دوسری سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہ دے اور یہ بات تو اور بھی مضحکہ خیز ہے کہ پروفیسر ساجد میر مرکزی امیر تو مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ہیں، سینٹ کے ممبر وہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ہیں اور مرکزی جمعیت اہل حدیث اب جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں سے مل کر متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا فیصلہ بھی کرچکی ہے۔ اس طرح پروفیسر ساجد میر ایک ہی وقت میں تین سیاسی کردار ادا کررہے ہیں اور ہر کردار ایک دوسرے سے مختلف بھی ہے اور بڑی حد تک متضاد بھی:

اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے

مزید :

رائے -کالم -