6 فیصد شرح نمو کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکے گا،میاں زاہد حسین

6 فیصد شرح نمو کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکے گا،میاں زاہد حسین

  

کراچی(این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ سال رواں کیلئے حکومت کی جانب سے متعین کردہ 6 فیصد شرح نمو کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔موجودہ سال کیلئے شرح نمو 5.6 فیصد یا اس سے بھی کم رہنے کا امکان ہے۔محاصل کی وصولی میں کچھ بہتری، اخراجات پر قابو پانے اور درآمدات کی حوصلہ شکنی کیلئے ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ اور دیگر بعض اقدامات کے باوجود مالی خسارے کو بھی4.1 فیصد کی حد میں رکھنا حکومت کے لئے ناممکن ہو گا۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کو صورتحال بہتر بنانے کی کوششوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔ گزشتہ سال بھی خسارے کا ہدف 3.8 فیصد تھا مگر خسارہ 5.8 فیصد تک جا پہنچا جس سے سنگین مسائل نے جنم لیا۔ایف بی آر کی کارکردگی کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے جو گزشتہ تین سال میں توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکا جبکہ آئی ایم ایف کے خیال میں جی ڈی پی کے 22 فیصد کے برابر ٹیکس کی وصولی ممکن ہے۔

اس سلسلہ میں موجودہ ٹیکس گزاروں پر بوجھ بڑھانے کے بجائے نئے ٹیکس گزار تلاش کرنے کی ضرورت ہے جن کی ملک میں کوئی کمی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو چائیے کہ نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کو مزید نہ ٹالے جو سالانہ کھربوں روپے کے نقصان کا سبب بن رہے ہیں۔ان اداروں سے جتنی جلد جان چھڑائی جائے بہتر ہو گا۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر اہم اصلاحات میں مزید تاخیر کی گئی، درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ نہ کیا گیا اور کرنٹ اکاؤنٹ اور مالی خسارے کو کم نہ کیا گیا تو ملک اپنے پیروں پر کھڑا نہیں رہ سکے گا اور دیوالیہ ہونے سے بچنے کیلئے اسے جلد آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لینا پڑے گا یا عالمی ڈیبٹ مارکیٹ سے مہنگا قرضہ لینا ہو گاجس سے زرمبادلہ کے ذخائر تووقتی طور پر مستحکم ہو جائیں گے اور ادائیگیوں کا متوقع بحران بھی ٹل جائے گا مگر معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو نگے۔

مزید :

کامرس -