ٹریڈ مارک کے لئے انٹلکچول پراپرٹی رائٹ پر سختی سے عمل کیا جائے،ملک نیاز محمد

ٹریڈ مارک کے لئے انٹلکچول پراپرٹی رائٹ پر سختی سے عمل کیا جائے،ملک نیاز محمد

  

پشاور ( آن لائن )سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے برانڈ کی رجسٹریشن کا عمل جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ کاپی رائٹ ،پیٹنڈ ، ٹریڈ مارک اور انڈسٹریل ڈیزائن کی رجسٹریشن اور اْن کے تحفظ کے لئے انٹلکچول پراپرٹی رائٹ کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ جعل سازوں اور دھوکہ دہی سے جعلی برانڈ بنانے والوں کیخلاف بروقت اور سخت کارروائی کی جاسکے اورجو لوگ آئی پی او قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اْن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔تفصیلات کے مطابق انٹیلکچول پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان کی پہلی انفورسٹمنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس کسٹمز ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سرحد چیمبر کے نائب صدر ملک نیاز محمد اعوان ، پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر فیض محمد فیضی ، پاک افغان جائنٹ چیمبر کے ڈائریکٹر ضیاء الحق سرحدی ،ڈائریکٹر جنرل آئی پی او پاکستان ،کلکٹر کسٹمز پشاورگل رحمان ، ایف آئی اے پشاور کے ڈائریکٹر ، محکمہ صحت کے ایڈیشنل سیکرٹری ،محکمہ پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن پشاور اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے راشننگ کنٹرولر سمیت ڈائریکٹر انفورسٹمنٹ محمد اسماعیل اور دیگر محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔سرحد چیمبر کے نائب صدر ملک نیاز محمد اعوان نے کہا کہ آئی پی او کے تحت برانڈ کی رجسٹریشن میں 3سے 5 سال تک کاطویل وقت لگتا ہے ۔

جس سے کاروباری حلقوں خصوصاً صنعتکاروں کو انتہائی مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹریڈ مارک میگزین میں صفحات کا اضافہ کیا جائے تاکہ صارفین اپنے اشتہارات جلد از جلد میگزین میں شائع کریں۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ IPO اور IPRکو رائٹ ٹو پبلک سروس ایکٹ 2014ء4 کے تحت نافذ کیا جائے تاکہ مخصوص وقت میں صارفین کی درخواستوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے برانڈز کی رجسٹریشن کا عمل کم از کم مدت میں مکمل ہوسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمپنیاں برانڈ رجسٹریشن کے طریقہ کار سے لاعلمی اور رہنمائی نہ ہونے کے باعث بھاری معاوضے کے عوض وکیلوں کی خدمات لینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ آئی پی او اپنی ویب سائٹ پر رجسٹریشن کے مرحلہ وار طریقہ کا ر کو شائع کرے تاکہ کمپنیاں وقت اور پیسوں کے ضیاع سے بچ سکیں۔انہوں نے کہا کہ ویب سائٹ پر IPO قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی چارہ جوئی کا طریقہ کار بھی شائع کرنا چاہئے اور اس کے ساتھ آئی پی او کو صارفین کی سہولت کے لئے نہ صرف صوبائی اور مقامی سطح پر دفاتر کھولنے کے چاہئیں بلکہ سہ ماہی تربیتی ورکشاپوں کا اہتما م بھی کرنا چاہئے۔سرحد چیمبر کے وفد نے پولیس ، ایف آئی اے اور کسٹمز افسران کے لئے آئی پی او کے قوانین سے مکمل آگاہی کیلئے تربیتی ورکشاپس کے اہتمام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اجلاس میں پاکستان میں انٹیلکچول پراپرٹی رائٹس کی مینجمنٹ ، اْس کا نفاذ ، نفاذ کی حکمت عملی ، نفاذ کے اعداد و شمار اور مخصوص ذمہ داریوں ،نقل کی اقسام ،بین الاقوامی تاثر اور مستقبل کے لائحہ عمل کے علاوہ ایف آئی اے ،پاکستان کسٹمز اور پولیس کے عملی نفاذکے لئے ہدایات سمیت سہ ماہی اعداد و شمار ، صوبائی محکمہ صحت اور محکمہ خوراک کی جعلی ادویات اور خوراک کے خلاف اٹھائے جانیوالے اقدامات اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے حوالے سے تفصیلات پیش کیں گئیں۔ ۔#/s#

مزید :

کامرس -