رومانیہ یورپ کی ساتویں بڑی مارکیٹ ، پاکستانی تاجر سرمایہ کاری کرسکتے ہیں،سفیر نیکوئل گویا

رومانیہ یورپ کی ساتویں بڑی مارکیٹ ، پاکستانی تاجر سرمایہ کاری کرسکتے ...

  

اسلام آباد (آن لائن ) پاکستان میں تعینات رومانیہ کے سفیر نیکوئل گویانے کہا ہے کہ رومانیہ اور پاکستان کے درمیان گزشتہ چار دہائیوں سے سفارتی ،ثقافتی، سیاسی اور عسکری تعلقات قائم ہیں اور رومانیہ پاکستان کے ساتھ باہمی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔رومانیہ اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارتی حجم کو فروغ دینے کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی، پاکستانی سرمایہ کاروں کو ہرممکن سہولیات فراہم کرنے کیلئے رومانیہ کا سفارت خانے کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں،رومانیہ یورپ کی ساتویں بڑی مارکیٹ ہے جہاں پاکستان کے بڑے تاجر سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ رومانیہ نے جی ایس پی پلس سٹیٹس کیلئے پاکستان کو ووٹ کیا، پاکستان اس سے استفادہ حاصل کرکے بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی مانگ بڑھاسکتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارتی حجم 107ملین ڈالرسے تجاوز کرگیا ہے البتہ اسے مزید بڑھانے کیلئے کوششیں جاری ہیں، پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں تاجربرادری کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ دیاجاسکے۔ رومانیہ سیمنٹ ، مشینری، آئی ٹی ، عسکری اور دیگر شعبوں میں تعاون فراہم کررہا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے آن لائن کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ رومانیہ کے سفیر نیکوئل گویا کا کہنا تھا کہ رومانیہ اور پاکستان کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات کو آغاز 1964ء میں ہوا ، گزشتہ چھ دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔

، رومانیہ کی حکومت اور عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے ، اس میں قدرت کے تمام موسم موجود ہیں اور زرخیز زمین ملک کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے اناج پیدا کرتی ہے۔ قدرتی وسائل سے بہتر طور پر استفادہ کرکے پاکستانی مصنوعات کو پورا دنیا میں بھیجاجاسکتا ہے۔ نیکوئل گویا نے بتایا کہ رومانیہ پاکستان سے سبزیاں ، پھل، اناج ، کھیلوں کاسامان اور سرجیکل مصنوعات منگواتا ہے اور پاکستان کو سیمنٹ عسکری آلات، جدید ٹیکنالوجی ، ریفانری اور کینولا فراہم کرتا ہے ۔جی ، ایس ، پی پلس سٹیٹس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رومانیہ کے سفیر نے بتا یا کہ پاکستان کے لیے جی ، ایس ، پی ،پلس سٹیٹس کے رومانیہ نے پاکستان کو ووٹ کیا تھا ، پاکستان اس سٹیٹس کو برقرار رکھتے ہوئے بیرونی ممالک خاص طور پر یورپی ممالک میں اپنی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ رومانیہ سمیت پورے یورپ میں پاکستان کی سبزیاں، پھل، کھیلوں کاسامان اور چاول کی مانگ ہے۔ پاکستان کا باسمتی چاول، کینو ،اور سنگترہ پوری دنیا میں مقبول ہے۔رومانیہ کے سفیر نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان کے تمام بڑے شہروں کراچی، لاہور، پشاور، فیصل آباد، سیالکوٹ ، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں تاجروں سے ملاقاتیں کیں ہیں ، تاجر برادری سے ملاقات کے دوران انہوں نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا ہے کہ اپنے قیام کے دوران وہ ملک بھر سے تما م شہروں کے سرمایہ کاروں کو رومانیہ میں سرمایہ کاری کیلئے معاونت فراہم کرینگے۔پاکستان ، رومانیہ بزنس کونسل دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ دینے کیلئے اہم کردار ادا کررہی ہے۔ رومانیہ پاکستانی سرمایہ کاروں کیلئے بہتر ملک ہے، سیروسیاحت کے لحاظ سے رومانیہ خوبصورت ملک ہے اور بین الاقوامی سیاح رومانیہ کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستانی ثقافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رومانیہ کے سفیر نے بتایا کہ پاکستان اور رومانیہ کی ثقافت میں بہت مماثلت ہے ، دونوں ممالک کو ملکر فلم سازی کرنے کے بہتر ین مواقع موجود ہیں،پاکستان میں قدیم ثافت موجود ہے ، موہنجوڈاروں کو ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہڑپہ اورٹیکسلا میں قبل از مسیح کے نمونے موجود ہیں جو قدیم ثقافتی اثاثہ ہے۔ اس کے علاوہ سندھ اور بلوچستا ن کی ثفافت بہت پرانی ہے۔ جدید سہولیات سے آراستہ اسلام آباد بین الاقوامی طرز کا جدید شہر ہے۔ ملک کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے نیکوئل گویا نے کہا کہ پاکستان میں آنے سے پہلے ان کے خیالا ت بہت مختلف تھے البتہ یہاں کی صورتحال بہت فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک میں پاکستان کے بارے میں غلط تاثر پیش کیاجاتا ہے جبکہ زمینی حقائق بہت مختلف ہیں، پاکستان بہت خوبصورت ملک ہے اور امن وامان کی صورتحال بہتر ہے، بیرونی ممالک کے سرمایہ کاروں کیلئے یہ محفوظ ملک ہے۔ بیرونی ممالک میں موجود پاکستان کے سفیروں کو پاکستان کی بہتر تصویر پیش کرنے کی ضرورت ہے، جس سے پرامن ملک کا تاثر پیش کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگ بہت پیار کرتے ہیں ، ملک کے مختلف شہروں میں انہیں بہت پیار ملا، جس کی مثال نہیں ملتی۔ 22کروڑ آباد ی کے ساتھ پاکستان بہت بڑی مارکیٹ ہے، لہذا وہ رومانیہ کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں ، البتہ دونوں ممالک کے تاجر ملکر سرمایہ کاری کرسکتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا( شمیم محمود)۔#/s#

مزید :

کامرس -