پاکستان ، انڈونیشیا اور ترکی معاشی استحکام کیلئے اتحاد قائم کریں ‘ پاکستان انڈونیشیا بزنس فورم

پاکستان ، انڈونیشیا اور ترکی معاشی استحکام کیلئے اتحاد قائم کریں ‘ پاکستان ...

  

لاہور (ا ین این آئی) پاکستان ، انڈونیشیا اور ترکی کو چاہیے کہ وہ معاشی استحکام کیلئے باہمی اتحاد قائم کریں جس سے نہ صرف ان تینوں ملکوں کی معیشت میں بہتری آئے گی بلکہ ان ممالک کے درمیان دیرپا تعلقات کو ایک نئی جہت میسر آئے گی۔ ان خیالات کا اظہار خصوصی طور پر منعقد کئے گئے پاکستان انڈونیشیا بزنس فورم کے شرکاء نے کیا جس میں وزیراعلی پنجاب کے خصوصی مشیر خواجہ احمد حسان، انڈونیشیا کے صدر کے نمائندہ خصوصی برائے مشرقِ وسطی اور او آئی سی علوی شہاب، پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانزیب برانہ، انڈونیشی سفیر آئیون سیودھی امری، معروف بزنس مین پیر سعد احسان الدین، انوسٹمنٹ کلائمنٹ ریفارمز یونٹ کی سربراہ ملیحہ بنگش، انڈونیشیا کے سابق وزیر اور بڑے سرمایہ کار سوغیہارتو، انوسٹمنٹ بنکر ذکی منصور، یاسمین یوریسکی، ووئی سوہانتو اور پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہارون شوکت، شرقی احمد ٹیپو، راشد ترابی سمیت دیگر نے شرکت کی۔ فورم کے آغاز میں وزیراعلی کے مشیر خواجہ احمد حسان نے مہمان وفد کو گرم جوشی سے خوش آمدید کیا اور کہا کہ انڈونیشیا نے جس طریقے سے اپنی معیشت کو دوبارہ قدموں پر کھڑا کیا ہے وہ پوری دنیا کیلئے ایک مثال ہے۔ انہوں نے پاکستان اور انڈونیشیا کے دیرپا تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں میں بہت سی قدریں مشترک ہیں ایسے میں ہمارے درمیان معاشی تعاون بہت کم ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی تعلقات میں اضافہ کر کے ہم نہ صرف دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکیں گے بلکہ معاشی و معاشرتی میدان میں خودمختاری کی اس منزل کو حاصل کر سکیں گے جس کیلئے ہم پچھلی کئی دہائیوں سے کوشش کر رہے ہیں۔

انڈونیشی وفد کے سربراہ علوی شہاب نے خواجہ احمد حسان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے باہمی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور ہم نے ہر سرد و گرم میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے تاہم اب نوجوان نسل اس طریقے سے ایک دوسرے سے واقف نہیں اور نہ ہی باہمی انسیت کا وہ عالم ہے جو پچھلی نسل تک ہمارا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تعلقات کو لوگوں کے باہمی رابطوں تک پھیلانا ہو گا تاکہ دونوں ملکوں کی عوام کو معلوم ہو کہ ہم بحیثیت قوم ایک دوسرے کے آئیڈیل ساتھی ہیں۔انڈونیشین سفیر نے گفتگو کرتے ان کا کہنا تھا کہ باہمی تعلقات میں اضافہ کر کے ہم نہ صرف دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکیں گے بلکہ معاشی و معاشرتی میدان میں خودمختاری کی اس منزل کو حاصل کر سکیں گے جس کیلئے ہم پچھلی کئی دہائیوں سے کوشش کر رہے ہیں۔ انڈونیشی سفیر آئیون سیودھی امری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا ایک دوسرے کے قدرتی حلیف ہیں ہمیں باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے صرف باہمی رابطوں میں اضافہ کرنا ہو گا اور نتیجے کے طور پر ہمارے باہمی تعلقات معاشی و معاشرتی ہر سطح پر خود ہی مضبوط ہوتے چلے جائیں گے۔ پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت کے سربراہ جہانزیب برانہ نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی وجہ سے پاکستان عالمی طور پر سرمایہ کاروں کیلئے سونے کی چڑیا بننے جا رہا ہے اور انڈونیشی سرمایہ کاروں کیلئے پنجاب سونے کی کان ثابت ہو سکتا ہے۔ پیر سعد احسان الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے باہمی تعلقات ہر مشکل گھڑی میں سرخرو ہوئے ہیں ہم نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور آج وہ موقع ہے جب ہم ایک دوسرے کا ساتھ دے کر نہ صرف معاشی طور پر استحکام حاصل کر سکتے ہیں بلکہ دنیا کو دکھا سکتے ہیں کہ باہمی اتحاد کی صورت میں کیسے ناقابل یقین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔

*****

مزید :

کامرس -