نجی سرمایہ کاری سے تھر کی آبادی پر مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں، سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی

نجی سرمایہ کاری سے تھر کی آبادی پر مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں، سندھ اینگرو ...

  

اسلام آباد (اے پی پی)کوئلے کی کان کنی اور توانائی کے منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری سے تھر کی مقامی آبادی پر مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں۔تھر فاؤنڈیشن سماجی خدمات سر انجام دینے والے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر اب تک بلاک تھری کے عوام کی فلاح و بہبود کی مد میں 4 ارب روپے خرچ کرچکی ہے جن میں علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی،تعلیم،بہبود، صلاحیتوں کی ترقی اور تھر کی سماجی و تہذیبی رنگ کو برقرار رکھنا شامل ہیں۔

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے میڈیا اور اطلاعات کے انچارج محسن بابر نے بدھ کو جاری ایک اعلامیہ میں کہا کہ تھر فاؤنڈیشن کو ایس ای سی ایم سی ، اینگرو پاورجن تھرلمیٹڈ(EPTL)اور حکومتِ سندھ نے باہمی اشتراک سے قائم کیا ہے جس کے اغراض و مقاصد میں تھر کوئلے کے بنیادی اسٹیک ہولڈرز یعنی تھری عوام کی فلاح و بہبود ہے ۔مستقبل قریب کے منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے محسن بابر نے کہا کہ2018ء کے آخرمیں حکومتِ سندھ ،شاہد آفریدی فاؤنڈیشن اور انڈس اسپتال کے تعاون سے 250 بستروں سے آراستہ ہسپتال اسلام کوٹ میں تعمیر کیا جائے گاجس پر 15ملین ڈالر کی لاگت آئے گی۔ہسپتال کا تعمیری خاکہ تیار کرلیا گیا ہے، یہ ہسپتال مقامی آبادی کوعلاج معالجہ کی مفت سہولیات فراہم کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ویمن ڈمپ ٹرک پروگرام کے تحت 28مقامی خواتین کو ٹرک چلانے کی تربیت دی جاچکی ہے، نئے گروپ میں شمولیت کے لئے ہمیں 100سے اوپر درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں گلوبل ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ اور انڈس ہسپتال کے ساتھ اشتراک میں تھر بلاک II میں ٹی بی اور امیونائزیشن کے کیمپ لگادئیے گئے ہیں جن میں آنکھ،جلد دانت اورایمرجنسی کی سہولیات دی گئی ہیں یہ کیمپ 2018ء سال بھر اپنا کام کرتے رہیں گے۔اس کے ساتھ اسلام کوٹ تھر میں موبائل کلینک کے سسٹم کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔بلاک IIمیں پیدائشی حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام بھی جلد شروع کردیا جائے گاجس کا احاطہ دو سالوں میں اسلام کوٹ تک پھیلادیا جائے گا۔ یہاں یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ اینگرو کوئل مائننگ کمپنی اور اینگرو پاورجن تھر لمیٹڈ اپنے پارٹنرز کے ساتھ مل کر تھر بلاک IIمیں لگنائٹ کوئلے کی کان کنی اورکوئلے سے توانائی پیدا کرنے والے 660میگا واٹ کے پلانٹس لگارہی ہیں۔ یہ منصوبے پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہے جس کی مشترکہ لاگت تین ارب ڈالر ہے ۔یہ پاک چین اقتصادی راہداری کا بھی بڑا منصوبہ ہے جس میں مقامی سرمایہ کاروں کا شیئر زیادہ ہے۔

مزید :

کامرس -