فٹ پاتھ علم کے خزانوں سے مالا مال

فٹ پاتھ علم کے خزانوں سے مالا مال

  

کتابوں کے اتوار بازار میں سستی اور پرانی کتابوں کی فروخت کے لئے ، کسی دکان یا اسٹال کی ضرورت نہیں۔ بس، یوں کہئے کہ، دکان کے آگے بنے فٹ پاتھوں پر پرانی چادر بچھا کر اْن پر کتابیں سجا دیتے ہیں

زلیخا اویس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہتے ہیں اچھی کتاب سے بہتر کوئی دوست نہیں، اکثر اس اچھے دوست کی تلاش بڑی مشکل ہوجاتی ہے۔ کتاب پڑھنے والے کو آجکل کے مہنگائی کے دور میں اگر سستی، نایاب و معیاری کتابیں میسر آجائیں؛ تو صاحب، سودا مہنگا نہیں!

میں کتنے دنوں سے ایک کتاب ڈھونے کی کوشش کر رہی تھی لیکن شہر کے تمام اچھے بک سٹالز چھاننے کے باوجود مجھے کہیں سے اپنی مطلوبہ کتاب نہیں مل رہی تھی‘ اس وجہ سے میں بہت پریشان تھی‘ کیو نکہ مجھے اس کتاب کی اشد ضرورت تھی۔ ایک دن میں اسی پریشانی میں چلی جا رہی تھی کہ میری نظر فٹ پاتھ پر قائم ایک بک سٹال پر پڑی۔ میں یہ سوچ کر وہاں پڑی ہوئی کتابیں دیکھنے لگی کہ چلو ایک نظر یہاں بھی دیکھتی چلوں‘ ہوسکتا ہے کہ گوہر مقصود ہاتھ آ ہی جائے۔اوہ‘یہ ہی تو وہ کتاب ہے‘ جسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر میں پاگل ہو گئی تھی۔ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اپنی مطلوبہ کتاب مجھے فٹ پاتھ پر قائم ایک بک سٹال سے مل جائے گی۔ میں نے فوراً ہی اپنی مطلوبہ کتاب خرید لی‘ اس کے بعد تو میرا یہ معمول بن گیا کہ اگر کہیں آتے جاتے مجھے فٹ پاتھ پر ایسا کوئی بک سٹال نظر آ جاتا تو میں کچھ دیر وہاں رکے بغیر آگے نہیں بڑھتی تھی۔

ایسے بک سٹالز پر نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بڑی عمر کے افراد بھی دکھائی دیتے ہیں جو ان کتابوں کی تلاش میں یہاں آتے ہیں۔ ویسے تو اگر کسی نوجوان کو کوئی کتاب خریدنی ہو گی تو وہ باقاعدہ کسی بک سٹال پر جائے گا۔ لیکن فٹ پاتھ کے بک اسٹالز کے حوالے سے یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ یہاں سے گزرتے ہوئے اکثر لوگ رک جاتے ہیں کہ چلتے چلتے ایک نظر ان کتابوں پر بھی ڈال لیتے ہیں۔ دراصل یہ ان کی کتابوں سے محبت کا ایک ثبوت بھی ہوتا ہے کہ وہ کتابوں کا سٹال دیکھ کر آگے نہیں بڑھ پاتے‘ چاہے انہیں کوئی کتاب نہ خریدنی ہو‘ تب بھی ایک نظر ان پر ضرور ڈالتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بک سٹال پر کھڑے ایک طلبہ سے میری بات ہوئی تو وہ کہنے لگی کہ یہ میری روز مرہ معمولات کا حصہ ہے کہ میں اکثر ایسے سٹالز پر آتی رہتی ہوں اور اب تک یہاں سے درجنوں کتابیں خرید چکی ہوں‘ جن میں سے بعض کتب تو بہت ناد رونایاب ہیں‘ جس کا علم شاید کتابیں فروخت کرنے والوں کو بھی نہیں ہوگا۔

یوں تو اس طرح کتابیں فروخت کرنے والے کہیں بھی کتابیں رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن چند ایک جگہیں اس حوالے سے خاصی شہرت رکھتی ہیں۔ سڑک پر چلتے چلتے ریگل کے فٹ پاتھ پر ہمیں کتابیں رکھی دکھائی دیتی ہیں‘ پہلے حسن سکوائر پر بھی کتابوں کے ٹھیلے نظر آتے تھے‘ آج کل ممتاز منزل پر آپ کو کتابوں کے اسٹال ملیں گے‘ جہاں ہر وقت لوگوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے۔

پرانی انار کلی ویسے تو یہ سڑک ، پورا ہفتہ ہی کھچا کھچ بھری نظر آتی ہے۔ شہر کے اس مصروف ترین بازار میں پورا ہفتہ گاڑیوں اور انسانوں کے رش کے باعث 'تل دھرنے' کی جگہ نہیں ہوتی، مگر 'اتوار' وہ واحد دن ہے جب یہاں کاروباری طبقہ نہیں بلکہ 'کتاب دوست انسانوں' کا رش لگا رہتا ہے۔ وہ لوگ جنہیں پرانی اور سستی کتابوں کا خریدنے کا شوق ہے، اتوار کا انتظار کرتے ہیں، اور اِدھر کا رخ کرتے ہیں۔علی الصبح لگنے والی پرانی کتابوں' کی اس 'اتوار بازار' میں آپ کو کئی شہری کتابیں کھنگالتے نظر آئیں گے، بشمول خواتین، بچے، بوڑھے اور جوان۔

ایک اتوارمیں نے کتابوں کے اس بازار کا رخ کیا، جہاں ایک نوجوان ہاتھ میں 4 سے 5 کتابیں پکڑے ہوئے کئی کتابوں کے عنوانات کو غور غور سے پڑھ رہا تھا۔دیکھنے میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کئی کتابیں خریدنے کے بعد بھی اس کی تلاش جاری ہے۔پوچھنے پر بتایا کہ ’میں نے کئی کتابیں خرید لی ہیں۔ مگر، ایسا لگتا ہے ہر کتاب اپنی اہمیت کی کہانی سنا رہی ہے۔ اس لئے فیصلہ کرنے میں دشواری ہو رہی ہے کہ کیا لیا جائے اور کیا نہیں‘‘۔

کتابیں خریدنے والے ایک اور شہری نے بتایا کہ ’کتابیں تو اردو بازار میں بھی مل جاتی ہیں۔ مگر، اتوار بازار کی بات ہی کچھ اور ہے۔ یہاں پرانی کتابوں کی قیمت نصف سے بھی کم ہوتی ہے، جس وجہ سے ہم یہاں سے کتابیں خریدتے ہیں۔‘‘

ایک کتاب فروخت کرنے والے نے بتایا کہ وہ پچھلے 30 برس سے یہاں کتابیں فروخت کررہے ہیں۔ بقول اْن کے، یہ وہ دور تھا جب یہاں کمپیوٹر اور انگریزی کی کتابیں زیادہ فروخت ہوا کرتی تھیں۔ کتابیں فروخت کرنے والے ایک اور فرد نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے یہ بازار میں روڈ پر لگتا تھا۔ مگر، اب ایک گلی میں لگاتے ہیں۔ یہ برسوں سے چلا آرہا ہے۔ بازار بند ہوتا ہے تو ہم یہاں کتابیں بیچ لیتے ہیں۔نہ دکان کی ضرورت نہ اسٹال کی اور نہ ہی صفائی کی،کتابوں کے اس اتوار بازار میں سستی اور پرانی کتابوں کی فروخت کیلئے ، کسی دکان یا اسٹال کی ضرورت نہیں۔ بس، دکان کے آگے بنے فٹ پاتھوں پر پرانی چادر بچھا کر، اْن پر کتابیں سجا دیتے ہیں۔

جبکہ، بعض دکاندار اضافی کتابوں کو بند دکانوں کے شٹر سے لگا کر بھی سجا دیتے ہیں۔ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ اگر انتظامیہ کی جانب سے صفائی نہ ہونے پر اس سڑک پر کوڑا کرکٹ بھی موجود ہو تو پھر بھی خریداروں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ پھر بھی کتابیں ڈھونڈنے میں مگن دکھائی دیں گے۔

ہر عنوان پر کتاب دستیاب ہے۔ جس میں، مشہور و معروف مصنفوں کی کتابیں رکھی جاتی ہیں۔اْن میں عصمت چغتائی کے ناول،100 نامور خواتین، شیکسپیئر، علامہ اقبال، فیض، اکبر بگٹی، ایدھی،جواہر لال نہرو اور گاندھی کی انگریزی ترجموں کی کتابیں بھی دستیاب ہیں۔اس کے علاوہ، سائنس، فکشن، شاعری، انسائیکلوپیڈیا، عربی، بزنس، بینکنگ، ڈاکٹریٹ، کمپیوٹر ٹیکنالوجی، انگریزی زبان کی مختلف کتابیں رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کی نظمیں، کہانیاں اور مختلف عنوانات کی کتابیں موجود ہیں، جنھیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں ہر پڑھنے والے کے ذوق کے مطابق کتابیں موجود ہیں۔

ایک کتاب فروش نے بتایا کہ ’یہاں سستی کتابیں فروخت کرتے ہیں، جسکی قیمت عام بازار کی قیمتوں سے نہایت کم ہوتی ہیں۔ جبکہ میرے پاس500 روپے والی کتاب کی قیمت 100 روپے ہے۔ سستی کتابوں کی وجہ سے گاہک یہاں کا ہی رخ کرتے ہیں۔

سستی کتابیں دیکھ کر ذہن میں خیال آیا کہ اتنی سستے داموں بکنے والی کتابوں کا ذریعہ کیا ہے اور یہ کہاں سے لائی جاتی ہیں؟ اس کاروبار سے منسلک ایک فرد نے بتایا کہ ’یہاں کتابیں لاکر فروخت کرنے کے مختلف ذرائع ہیں‘‘۔

ایک ذریعہ پرانے سامان اور کباڑ کی دکانیں ہیں، جہاں ہم خود جاکر اپنے حساب سے کتابیں نکال کر یہاں فروخت کیلئے لاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنی پڑھی ہوئی کتابیں بھی ہمیں یہاں لاکر بیچ دیتے ہیں۔ایک اور کتاب فروش کا کہنا تھا کہ یہ سستا بازار، کتاب کلچر کو فروغ دینے کا سبب ہے۔

ویسے کچھ کتابیں انٹرنیٹ پر مل جاتی ہیں مگر پڑھنے والا کتاب کا مطالعہ ہی کرتا ہے، جس کے بغیر اسکی تسلی نہیں ہو سکتی۔

دو بچوں کے ہمراہ، ایک شہری کتابیں خریدنے میں محو تھا۔اْن کا کہنا تھا کہ چھوٹے بچوں میں کتابوں کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے، اچھا ہے کہ انھیں ڈرائنگ اور تصاویر والی کتابیں دلائی جائیں، تاکہ یہ چھوٹی عمر سے ہی پڑھنے کی جانب راغب ہوں۔

ہر اتوارکوانار کلی میں لگنے والا کتابوں کا یہ بازار بھی خوب ہے۔ یہاں اکثر ایسی کتابیں میسر آجاتی ہیں جو بازار یا لائبریری میں با آسانی دستیاب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عمر اور ہر ذوق کے افراد یہاں کا رخ کرتے ہیں۔دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہاں ایسی کتابیں بھی مل جاتی ہیں جنہیں عام آدمی کی جیب خریدنے کی اجازت نہیں دیتی جبکہ کاروبار کے ساتھ علم دوست افراد سے مل کر بھی بہت خوشی ہوتی ہے۔ کتابوں کی خریداری کیلئے یہاں آنے والوں کا کہنا ہے کہ شہر کا یہ بازارعلم کے متوالوں کے لئے ایک چشمہ ہے جو کسی حد تک ان کی پیاس بجھانے کا ذریعہ ہے۔ البتہ بعض نوجوان یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ اب ایسے بک سٹالز اور اتوار بازار میں بھی کتابیں مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں اور اگر دکان دار کو یہ پتہ چل جائے کہ ہم کوئی مخصوص کتاب خریدنا چاہتے ہیں تو وہ ایک دم سے بہت زیادہ نرخ بتا دیتا ہے کیو نکہ اسے علم ہوتا ہے کہ اب خریدار اسے خریدے بغیر نہیں جا سکتا۔ دوسری طرف دکان داروں کا کہنا ہے کہ اب انہیں کتابیں مہنگے داموں ملتی ہیں‘ اس لیے وہ کتابیں مہنگے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

جدید دور میں بھی کتابوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، جس کا ثبوت انار کلی میں لگنے والے اس بازار میں لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد ہے۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -