سانحہ آرمی پبلک سکول اورپرامن تعلیمی ادارے

سانحہ آرمی پبلک سکول اورپرامن تعلیمی ادارے

  

انسی ٹیوٹ آف کمیو نیکشن سٹڈیز، جامعہ پنجاب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سانحہ آرمی پبلک سکو ل کو تین سال بیت گئے لیکن قوم آج بھی شہید ہونے والے معصوم طلباء کے غم میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ آج بھی ہر چہرہ اداس ہے ،ہر آنکھ اشکبار ہے،ہر دل افسردہ ہے،ہر ذہن سوال کر رہاہے کہ بچے تو معصوم ہوتے ہیں ان بچوں کا کسی فکری اختلاف سے کیا تعلق تھا وہ تو ابھی د نیاوی اونچ نیچ سے بھی آگاہ نہیں تھے ۔ ابھی انہوں نے زندگی میں دیکھا ہی کیا تھا ابھی تو وہ بچپن کی شرارتوں اور لڑکپن کی اٹکھیلیوں میں مگن تھے ۔ اس عمر میں تعلیمی اداروں میں طلباء تعلیم کے سا تھ ساتھ آپس میں جذ باتی وابستگی ر کھتے ہیں ایسی دوستیاں پر وان چڑ ھتی ہیں جو ز ندگی بھر ساتھ ساتھ چلتی ہیں گو یا سکو لوں کے ما حول میں کالجز اور یو نیو ر سیٹیوں کے بر عکس پیا ر محبت زیا دہ ہو تا ہے ۔ بچے ایک دوسر ے کے ساتھ زیا دہ مانوس ہوتے ہیں اسی انس ومحبت کا اظہا ر اپنے اسا تذ ہ سے علم کے حصول کے وقت کسی نہ کسی صورت میں کر تے رہتے ہیں اور سکو لوں میں منعقد ہونے والی ہم نصابی سر گر میاں زندگی کے یاد گار لمحات کے انمٹ نقو ش چھوڑ جاتی ہے 16دسمبر 2014کو بھی بچے آر می پبلک سکول کے آڈیٹوریم میں منعقد کسی ہم نصابی سر گر می میں شامل تھے اسا تذ ہ سٹیج پر تشر یف فر ما تھے بچے پروگرام کی سر گر میو ں میں مصروفِ عمل تھے کہ یکایک چند مسلح دہشت گردوں نے آڈیٹور یم میں موجود بچوں کو یر غمال بنا لیا اور پھر بچوں کو چن چن کر شہید کر نا شروع کر دیا المختصر ذرائع ابلاغ کے مطابق پر نسپل، اساتذ ہ اور طلباء سمیت 142شہادتیں ہو ئیں اور سکول کی عمارت مکمل طور پر کھنڈر بن گئی۔یہ دہشت گر کون تھے ِ ؟ یہ درندہ صفت لوگ کہاں سے اآئے؟ ان میں اتنی سفاکیت کیوں تھی کہ انہوں نے خواتین اور بے گناہ بچوں کا بھی خیال نہ کیا اور انہیں گو لیوں سے چھلنی کر دیا ۔ دراصل یہ ہمارے تیس ،پینتیس سالہ ایسے عمل کا نتیجہ ہیں جس نے پورے عالمِ اسلام کو ہلا کے رکھ دیا ہم نے وقتی طور پر کہیں غلبہ حاصل کرنے کے لئے ایسے مسلح گروہ تیار کئے جو بعد میں ہمارے لئے ہی عذاب بن گئے جنہیں’’ طالبان‘‘ کہا جاتا ہے ۔انہیں ہم نے امر یکہ کے سا تھ ملکر روس کے ساتھ لڑایا یہاں تک تو ایک مناسب جدوجہد تھی ۔جس میں پاکستان نے اپنے برادر ملک افغانستان کی آزادی کے لئے نمایاں کردار ادا کیا لا کھوں مہاجر اٖفغا نیوں کو پناہ دی لیکن روس کا اٖفغا نستان سے نکل جانے کے بعد ہمیں اپنے گھر یعنی ’’پاکستان ‘‘ کی صفائی ضرور کر نا چاہیے تھی ۔وہ افغان مجاہدین جن میں عرب،ازبک اور افر یقی ممالک کے لوگ شامل تھے انہوں نے پوری دنیا کو فتح کر نے کے خوب دیکھتے ہوئے پا کستان کے قبائلی علا قوں کو اپنی سر گرمیوں کا مر کز بنا لیا ۔وہاں پر ’’معسکر‘‘ تیا ر کئے جن میں د نیا کے مختلف ممالک سے نام نہاد جہا دی جذبہ کے حامل نو جوانوں کو جنگ لڑ نے کی تر بیت دی جاتی تھی ۔بد قسمتی سے اس سارے عمل میں اس وقت کے حکمرانوں نے ایک مخصوص مکتبہ فکر کے مدارس کو اس ٹر یننگ کے لئے ’’ فر ی ہینڈ‘‘ دیا ہوا تھا انہوں نے نوجو انو ں کی فر قہ وارونہ ذ ہنی تربیت کر کے پا کستان کی بنیا دوں کو ہلا کے ر کھ دیا جگہ جگہ پر خود کش حملے، بمب بلاسٹنگ، اور بے گناہ معصوم شہر یوں کو نشانہ بنایا جانے لگا مسجدوں میں نمازیوں کو شہید کیا گیا ۔سینکڑوں سکولوں کی عمارات کوبم سے اڑا دیا گیا ۔ یہ مخصوص مکتبہ فکرحقیقت میں پا کستان کی بنیادکو تسلیم نہیں کر تے اور عامتہ المسلمین کا قتلِ عام جائز سمجھتے ہیں۔حکومتیں آتی جاتی رہیں لیکن ان سے صر فِ نظر کیا گیا ۔ ہمارے بعض مذ ہبی ر ہنما طالبان کی دہشت گر دی کا جواز پیش کر نے کی کو شش کر تے ہیں با ایں وجہ حکو متیں بھی ان کے خلاف آپر یشن کرنے سے گر یزاں رہی ۔ لیکن دیر آید درست آید۔ سابق آر می چیف جنر ل راحیل شر یف نے ان دہشت گر دوں کے خلاف ’آپر یشن ضربِ عضب ‘‘ کا اعلان کیا جو آج ’’ آپریشن رد الفساد ‘‘ کی صورت میں جاری ہےْ ۔ افواج پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ہر کسی کی پر واہ کئے بغیر آپریشن اپنی منزل کی جانب ہے ۔سینکڑوں دہشت گر د مارے جا چکے ہیں اورہر روز طلوع ہونے والے آفتاب ملک میں امن کی نوید دے رہا ہے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کچھ دہشت گرد بارڈر کراس کر کے افغا نستان میں پنا ہ گز یں ہو کر پاکستان میں سفا کانہ کار وائیاں کر رہے ہیں ۔یہ دہشت گرد مخصوص مکتبہ فکر کے مختلف جامعات سے فارغ التحصیل ہیں جہاں ہاسٹلز میں انہیں باقاعدہ تر بیت فرا ہم کی جاتی ہے اور تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مخصوص ذہن کا حامل بھی بنا یا جاتا ہے ۔ اس معاملہ میں پہلی ذ مہ داری تو اداروں کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ طلبا ء کو بھی اپنی ذ مہ داریوں کا احساس کر تے ہو ئے تعلیمی اداروں پر کڑ ی نظر رکھنی چاہیے کہ کو ئی غیر طا لبعلم ان میں شا مل نہ ہو اور کو ئی شدت پسند گروہ انہیں اپنا آلہ کا ر نہ بنا لے اس کے ساتھ تعلیمی اد اروں میں موجود سیاسی جماعتوں کی بغل بچہ طلبا ء تنظیموں کی سر گر میوں کو ہر زاویہ سے ما نیٹر کیا جانا چاہیے۔اگر کسی طلباء تنظیم کا تھوڑا سا بھی تعلق کسی کالعدم جماعت یا دہشت گرد تنظیموں سے ثا بت ہو جائے تو اسے نشانِ عبر ت بنا یا جائے ۔سانحہ پشاور کا بنظرِ غا ئر مطالعہ کیا جائے تو یہ با ت واضح ہو تی ہے کہ دہشت گر دوں کا اتنے اندر تک چلے جانا کسی اندرونی حمایت اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔اس تمام صورتحال میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو دیر پا پائیدار پر امن تعلیمی ماحول کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ آج تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی منفی اور شدت پسندانہ رویوں کے حامل گروہوں کی زد میں ہے ۔ تعلیم یافتہ جامعات کے طلباء کا اس لہر سے متاثر ہونا لمحہ فکریہ ہے ۔ تعلیمی اداروں میں طلباء کی غیر تدریسی مثبت سرگرمیوں اور کھیلوں میں شمولیت طلباء میں منفی رجحانات کم کرنے کیلئے معاون ہوسکتی ہے ۔ نصاب کا از سر نو جائزہ لے کر سوک ایجو کیشن اور سماجی علوم سے متعلق مضامین شامل کئے جانے چاہئے ۔ امن و رواداری کے حوالے سے مضامین بھی جامعات کے نصاب کا لازمی حصہ ہوں۔ کتاب بینی کی روایت کوزندہ کرنے کیلئے ریاستی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے ۔ کتاب میلے ہماری جامعات کا لازمی جزو ہیں۔ نوجوان جتنا زیادہ وقت تعلیم کے بعد مذکورہ غیر نصابی سرگرمیوں میں گزاریں گے یہی سرگرمیاں طلباء کی تعمیری صلاحیتوں کو اجا گر کرنے اور ان میں مثبت سوچ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی وگرنہ ہر طالبعلم تک سیکیورٹی اداروں کی رسائی ہر لمحہ ان میں خوف اور بے چینی کی صورت پیدا رکھی گی ۔ طلباء کو آذادانہ طور پر تعلیم حاصل کرنے دیں کوئی پاکستانی طالبعلم دہشت گرد نہیں ہے یہ در حقیقت مسلسل متشدد اور انتہا پسند سوچ کا نام دہشت گردی ہے جو تعلیمی امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے جس کے خاتمے کیلئے ہمیں اجتماعی طور پر اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آئندہ کسی کو پر امن تعلیمی ماحول تباہ کرنے اور ننھے پھولوں کو مسلنے کی جرات اور موقع نہ مل سکے ۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -