ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اوپن یونیورسٹی کو متحرک ادارہ بنادیا

ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اوپن یونیورسٹی کو متحرک ادارہ بنادیا

  

انقلابی اقدامات اُن کی قائدانہ صلاحیتوں ٗ سنجیدہ عزائم اور جذبات سے بھر پور سرپرستی کا کرشمہ ہے

رپورٹ۔۔۔عزیز الرحمن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ درست ہے ڈاکٹر شاہد صدیقی نے تین سال میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی مجمو عی ماحو ل کو یکسر بد ل کر رکھ دیا ہے ٗ آج اِس قو می یو نیو رسٹی میں ریسرچ کلچراور علم وادب کی محافل فر وغ پا رہی ہیں۔ اِن تین سالوں میں جتنے کام ہوئے ہیں اتنے یونیورسٹی کی پوری تاریخ میں نہیں ہوئے ہیں۔ 14ریسرچ جرنل شائع ہوئے اور 25قومی و عالمی کانفرنسسز منعقد کی گئی ہیں۔چند لوگ یہ کریڈٹ یونیورسٹی کے نظام کو دیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ نظام ڈاکٹر شاہد صدیقی کے بطور وائس چانسلر یونیورسٹی آنے سے قبل موجود نہیں تھااور اگر یہ نظام پہلے سے موجود تھا تو پھر سابق وائس چانسلر کے ادوار میں یہ کام کیوں نہیں ہوئے۔ ہمیں ماننا پڑھے گا کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اوپن یونیورسٹی کو ایک متحرک ترین ادارہ بنادیا ہے ٗ اُن کی قائدانہ صلاحیتوں ٗ سنجیدہ عزائم اور جذبات سے بھر پور سرپرستی کا کرشمہ ہے کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی آج ایک کامیاب ترین قومی ادارے کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے جو دیگر جامعات کے لئے ایک رول ماڈل ہے۔آپ کو یہ ماننا پڑھے گا کہ اوپن یونیورسٹی سماجی خدمات میں دیگر تعلیمی اداروں سے آگے ہے ٗ اِ س قومی جامعہ میں ملک بھر کے معزور افراد ٗ ڈراپ آؤٹ گرلز ٗ جیلوں میں مقید افراد اور خواجہ سراؤں کے لئے مفت تعلیمی سہولتیں ہیں ٗ یہاں فاٹا اور بلوچستان بھر کے لوگوں کے لئے میٹرک کی تعلیم مفت ہے۔ملک بھر میں بصارت سے محروم افراد کو ای لرننگ سہولت فراہم کرنے کے لئے یونیورسٹی کے مین کیمپس کی مرکزی لائبریری سمیت ملک کے 44۔اہم شہروں میں یونیورسٹی کے علاقائی دفاتر کی لائبریریوں میں نابینا افراد کے لئے "ایکسسیبلٹی سینٹرز"موجود ہیں۔ ابتدائی عمر میں سکولنگ سہولتوں سے محروم افراد کے لئے یونیورسٹی کے مین کیمپس میں "خواندگی مرکز برائے بالغاں"قائم کردیاگیا ہے اور علاقائی دفاتر میں ایسے سینٹرز کا قیام ائس چانسلر کے زیر غور ہے۔وہی چند لوگ اِن سماجی خدمات کاکریڈٹ بھی ڈاکٹر شاہد صدیقی کی بجائے نظام کو دیتے ہیں لیکن میرا سوال وہی ہے کہ نظام توپہلے بھی تھا۔ پھر اِن کاموں میں اتنی دیر کیوں۔ ہمیں بہر حال سابق تمام وائس چانسلرز کے مقابلے میں ڈاکٹر شاہد صدیقی کی کئی گنا زیادہ اور ہمیشہ یاد رکھنے والی کنٹری بیوشن ماننگی ہوگی ٗ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ طلبہ کی سہولتوں میں جتنا اضافہ اِن تین سال میں ہوا ہے اِس کی مثال یونیورسٹی کی تاریح میں موجود نہیں ہے۔ہمیں ماننا ہوگا کہ اِن سہولتوں ہی کی وجہ سے طلبہ کا یونیورسٹی پر اعتماد بڑھا ہے اور داخلوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ملازمین کی فلاح و بہبود کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے سابق ادوار میں ہڑتالیں اور احتجاج ہوئے ہیں جبکہ اِ س دور میں ملازمین نے سکھ کا سانس لیا ہے اور اُن کے تمام جائز مسائل حل کردئیے گئے ہیں ٗ ایک طو یل عر صے سے محکما نہ تر قی سے محر و م کا رکنو ں ‘ آفیسر ز اور اسا تذہ کی محر ومی دور کر نے کے لئے گذشتہ کم و بیش تین سال کے عرصے میں پانچ (5)سلیکشن بورڈز اور چھ(6) ڈی پی سی کے اجلاس منعقد کرائے گئے ٗ نتیجے میں سینکڑوں اساتذہ ٗ آفیسرز اور کارکن اگلے اسکیلوں میں ترقی حاصل کرسکے ہیں۔اِسی طرح "سروس سٹیچوز"پر نظر ثانی کا کام مکمل ہوگیا ہے چند ضروری مراحل کے بعد عنقریب سالہا سال سے ترقی کے منتظر آفیسرز اور کاکن محکمانہ ترقی حاصل کرسکیں گے۔ ریٹائرڈ ملازمین کی ماہانہ پنشن کی ادائیگی کو آسان بنانے کے لئے" ڈائریکٹ کریڈٹ سسٹم" ٗ اس نئے نظام کے تحت ریٹائرڈ ملازمین کی ماہانہ پنشن کی رقم ان کے بینک اکاؤنٹس میں ٹرانسفرکی جاتی ہے۔ پنشن کی رقم ٹرانسفرہوجانے کے فوراً بعد ہر ریٹائرڈ ملازم کو بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع بھی دی جاتی ہے۔کسی بھی کام سے یونیورسٹی آنے والے ریٹائر ملازمین کے مسائل سننے اور حل کرنے کے لئے اُن کو بہترین ماحول فراہم کیا گیا ہےٗ ریٹائرڈ ملازمین کے لئے "ویلکم ٹو ہوم لاؤنج"کے نام سے دفتر قائم کیا گیا ہے ٗ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ ملازمین جب بھی یونیورسٹی آتے ہیں اِسی ہوم لاؤنج جاتے ہیں جہاں ان کے مسائل حل کرنے کے لئے ہمہ وقت ایک کارکن موجود رہتا ہے ٗ اُن کی خاطر تواضح بھی ہوتی ہے اور باعزت طریقے سے اُن کے مسائل بھی حل کئے جاتے ہیں۔ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یونیورسٹی کے سب ملازمین کا ڈاکٹر شاہد صدیقی پربھر پور اعتمادہے۔ یونیورسٹی کے اِ س تاریخ ساز دور میں سٹوڈنٹ سپورٹ نظام یعنی طلبہ کی سہولتوں میں اضافے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ داخلوں کے بارے میں طلبہ کی راہنمائی کے لئے اور لوگوں کو یونیورسٹی کے تعلیمی نیٹ میں شامل ہونے کی طرف راغب کرنے کے لئے تین سال سے ہر سمسٹر کے دوران "اوپن ڈے "کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اوپن ذے دوران سمسٹر تین چار بار مین کیمپس میں اور علاقائی دفاتر میں بھی اوپن ڈے باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہے۔پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹرسمیت مختلف مقامات پرمنعقد ہونے والے "ایجوکیشن ایکسپو" میں باقاعدگی سے شمولیت نے یونیورسٹی کا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ہمیں تسلیم کرنا چاہئیے کہ داخلوں میں تیزی سے اضافہ انہی اقدامات کی بدولت ہے۔درسی کتب پر نظرثانی کا کام تکمیل کے مراحل میں ہے ۔ 26نئے تعلیمی پروگرامز متعارف کئے گئے ہیں ۔طلبہ کے ساتھ فوری رابطے کے لئے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا گیاہے۔ ملک بھر میں موجود یونیورسٹی کے لاکھوں طلبہ و طالبات کوکتابوں کی ترسیل سے امتحانات اور نتائج تک پھیلے ہوئے پورے تدریسی دورانیہ میں پیش آنے والے تمام امور کی فوری اطلاع دینے کے لئے ایس ایم ایس اورکمپیوٹرائزڈ ٹریکنگ نظام شروع کیا گیا ہے ۔ کمپیوٹرائزڈ ٹریکنگ نظام سے طلبہ گھر بیٹھے اپنا داخلہ ہونے کی تصدیق کرسکتے ہیں ٗ کتابوں کی ترسیل کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں اور اسناد اور ڈگریوں کی معلومات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ اسناد اور ڈگریوں پر طلبہ کی تصاویر لگانے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ 2017ء کے

ٹاف ٹین کلرز پر مشتمل موبائیل فرینڈلی ویب سائٹ بنادی گئی ہے جس میں طلبہ کے" تصویر لگی پروفائلز" بنائے گئے ہیں جس کا فائدہ یہ ہے کہ ہر طالب علم کو داخلے سے لے کرسند/ڈگری تک تمام معلومات ان کی پروفائل میں ان کو دستیاب ہوتے ہیں یعنی کسی طالب علم کو معلومات کے لئے کسی اور جگہ جانا نہیں پڑھتا ہے ٗ انہیں تمام معلومات اور سوالات کا جواب اپنی پروفائل سے مل جاتے ہیں۔ اسناد/ڈگریوں کے اجراء کے عمل کو تیز کرنے کے لئے یونیورسٹی کے مین کیمپس میں "ہیلپ ڈسک"قائم کردیا گیاہے۔ہیلف ڈسک پراسناد کے لئے مطلوبہ کاعذات چیک ہوے ہیں ٗ دستاوایزات میں کمی یا کسی اعتراض کو موقع پر ہی طلبہ کو آگاہ کردیا جاتا ہے۔وائس چانسلر نے اسناد اور ڈگریوں کی معلومات کے لئے ایک مربوط اور منظم "آن لائن"نظام متعارف کیا ہے۔ اس نظام کے تحت ملک بھر میں یونیورسٹی کے طلبہ اسناد اور ڈگریوں کے لئے اپنی ارسال کردہ درخواستوں پر کارروائی کے مراحل سے آگاہی حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے "آن لائن کمپلینٹ مینجمنٹ سینٹر"کا قیام اپنے بطور وائس چانسلر تقرر کے فوراً بعد کردیا تھا تاکہ یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے والے امیدواربھی بنیادی معلومات حاصل کرسکیں اور خصوصاً زیر تعلیم اور فارغ التحصیل طلبہ و طالبات اپنے تدریسی مراحل جن میں داخلہ ٗ امتحانات ٗ نتائج اور ڈگریوں ٗ درسی کتابوں کی فراہمی ٗ اسناد کے حصول کے تمام مراحل میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو کم سے کم وقت میں دور کرسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہیں صرف یونیورسٹی کے کال سینٹر کے یونیورسل فون نمبر (051) 111-112-468پر فون کرنا پڑتا ہے جہاں سوموار سے جمعہ تک روزانہ صبح آٹھ بجے سے چار بجے تک کئی کارکن بیک وقت طلبہ کے مسائل اور مشکلات کو حل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ملک بھر میں موجود اپنے طلبہ و طالبات کی نام کی درستگی ٗ ایڈریس کی تبدیلی یا کورس میں رد و بدل کے لئے ارسال کی گئی درخواستوں پران کے تعلیمی ریکارڈ میں مطلوبہ ترمیم کی فوری اطلاع دینے کے لئے "ای میل اور ایس ایم ایس سروس"کا آغازکیا گیا ہے۔ریسرچ کلچر کے فروغ کے لئے اقدامات میں لائبریری کی آٹومیشن اور اوقات کار میں اضافہ ٗ سکالرز اور فیکلٹی ممبرز کے لئے مراغاتی پیکج ٗ شعبہ فزکس اور کیمسٹری میں نئی لیبارٹریوں کا قیام ٗ پلانٹ ٹشو کلچر لیبارٹری کا قیام اور یونیورسٹی کے مین کمپس میں بوٹینک گارڈن ) نباتاتی باغ( کا قیام شامل ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے یونیورسٹی کو" تحقیقی سرگرمیوں کا مرکز اورماڈل ادارہ" بنادیاہے۔ تحقیق پر مبنی پوسٹرز/ماڈلزکی نمائش ٗ محفل قرآت ٗ نعت خوانی ٗ ملی نغموں اور اہم قومی موضوعات پر اردو اور انگریزی زبانوں میں تقاریرکے مقابلے یونیورسٹی کے مستقل تقریبات میں شامل کردئیے گئے ہیں ٗ ہمیں ماننا ہوگا کہ تین سال قبل تک یونیورسٹی میں ایسی تقریبات نہیں ہوتی تھی۔ درج بالا اقدامات اور کارناموں کی فہرست کو دیکھتے ہوئے ہمیں ماننا ہوگا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا موجودہ دور ایک تاریخ ساز دور ہے ۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -