ماریہ خان اور احمد جمیل کی سات سال بعد ملاقات

ماریہ خان اور احمد جمیل کی سات سال بعد ملاقات
 ماریہ خان اور احمد جمیل کی سات سال بعد ملاقات

  

لاہور(فلم رپورٹر)اداکارہ ماریہ خان اور اداکار احمد جمیل کی سات سال بعد ملاقات ہوئی .یہ ملاقات گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں ہوئی.احمد جمیل کا شمار ٹیلی ویڑن کے لیجنڈ فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کوئٹہ اور کراچی سمیت دیگر مراکز سے بھی کام کیا لیکن اب وہ گوجرانوالہ شفٹ ہوچکے ہیں.ماریہ خان اور احمد جمیل ایک دوسرے کو ہالی ووڈ کے نام سے پکارتے ہیں جس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی جب انہوں انے ایک ساتھ کام شروع کیا تو وہ ہر سین کو حقیقت سے قریب تر کرنے کی کوشش کرتے تھے جس پر انہوں نے ایک دوسرے ہالی ووڈ کہنا شروع کردیا اور یہ عادت آج تک برقرار ہے ۔آج بھی احمد جمیل کی یادداشت بہت اچھی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ہم ان سے ملنے وہاں پہنچے تو احمد جمیل نے خود گیٹ پر استقبال کیا اور ماریہ خان کو گلے لگاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہماری ملاقات سات سال چھ ماہ اور ایک دن بعد ہوئی ہے جس پر ماریہ بہت حیران ہوئیں۔ماریہ خان نے بتایا کہ وہ دونوں بہت سے ڈراموں میں اکٹھے کام کرچکے ہیں جن میں شکیل خان کا ارتقا،فہیم شاہ کا آہنگ،فہیم شاہ کا ہی تپش سائے کی جبکہ بہت سے سنگل پلے بھی ہم نے ساتھ کئے۔میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا.احمد جمیل نے غیر رسمی گفتگو کے دروان بتایا کہ ان کا تعلق وزیر آباد کے نواحی گاؤں سوہدرہ سے ہے ،میرے دادا ایک سو پندرہ سال پہلے کوئٹہ چلے گئے تھے۔میں پنی مٹی سے وابستگی کے باعث میں واپس آیا ہوں لیکن یہاں اچھا دوست اور اچھا فروٹ نہیں ملتا ،زیادہ تر لوگ مطلبی ہیں. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میں اپنی مرضی سے کام نہیں کررہا ۔جب فہیم شاہ لاہورسنٹرپر تھے تو انہوں نے کئی بار مجھ سے رابطہ کیا۔

کوئٹہ سنٹر سے میرا پہلا ڈرامہ "تیگا’’ جس کا مطلب حد بندی ہے اور آخری خاطر تھا. میں رات کو صرف سات سے نو تک ٹی وی دیکھتا ہوں.ڈرامہ بہت کم دیکھتا ہوں. ایسالگتا ہے کہ نہ تو فنکار محنت کررہے ہیں اور نہ ہی تکنیک کار نہ کیمرہ ورک نظر آتا ہے اور نہ لائٹ سب لوگ جاہل اور ان پڑھ لگتے ہیں۔

مزید :

کلچر -