سعودی کابینہ کا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت اجلاس، 2018ء کا قومی بجٹ جاری

سعودی کابینہ کا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت اجلاس، 2018ء کا قومی بجٹ ...

  

جدہ ( محمد اکرم اسد ) سعودی کابینہ نے منگل کو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت اجلاس میں 1439۔1440ھ(2018ء )کا قومی بجٹ جاری کر دیا۔ واس کے مطابق یہ سعودی عرب کی تاریخ میں اخراجات کے حوالے سے سب سے بڑا بجٹ ہے۔ آمدنی کا تخمینہ 783ارب ریال ، اخراجات کا اندازہ 978ارب ریال اور خسارہ 195ارب ریال متوقع ہے۔ اس بجٹ میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈز اور قومی ترقیاتی فنڈز 1.110ارب ریال سے زیادہ اخراجات کے حصے دار ہوں گے۔ سعودی حکومت بجٹ 2017ء میں علانیہ اخراجات بڑھ جانے کے باوجود بجٹ خسارہ کم کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ خسارہ 230ارب ریال ریکارڈ کیا گیا۔ 2017ء کے بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ890ارب ریال تھا۔حقیقی اخراجات بڑھ کر926ارب ریال تک پہنچ گئے۔ 2017 کے بجٹ کی آمدنی 696ارب ریال ہوئی۔ 2018ء کے بجٹ کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس میں تیل کے ماسوا ذرائع سے ریکارڈ آمدنی دکھائی گئی ہے۔ 2015ء کے مقابلے میں 2018ء کے بجٹ میں تیل کے ماسوا ذرائع سے آمدنی میں 130فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ کامیابی اقتصادی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ وزارت خزانہ نے نئے مالیاتی سال 1439۔1440ھ کیلئے جاری کردہ قومی بجٹ کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ 2018ء4 میں حقیقی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 2.7فیصد تک متوقع ہے۔ 2017ء کے دوران منفی شرح نمو 0.5فیصد تھی۔ 2017ء کی پہلی ششماہی کے دوران تیل کے ماسوا شعبے میں 0.6فیصد شرح نمو حاصل کی۔ مجموعی شرح نمو1.5فیصد تک جا سکتی ہے۔ 2018ء کے دوران اقتصادی کارکردگی کو موثر بنانے کیلئے متعدداقدامات کئے جائیں گے۔ 2017ء کے بجٹ میں خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے لحاظ سے 8.9فیصد متوقع ہے۔ 2016ء کے مقابلے میں خسارہ کافی کم ہوا ہے۔ 2016ء کے دوران مجموعی قومی پیداوار کے لحاظ سے بجٹ خسارہ 12.8فیصد تھا۔ وزارت خزانہ نے بتایا کہ سرکاری سودوں اور مسابقتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔ سعودی حکومت نے 2018ء کے بجٹ میں خسارہ 7.3فیصد تک کم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ 2017ء4 کے مقابلے میں 2018ء کے بجٹ میں مجموعی آمدنی میں 12.6فیصد اضافہ ہو گا۔ تیل کے ماسوا آمدنی 4فیصد بڑھے گی۔ مالیاتی توازن کے پروگرام جاری رکھے جائیں گے۔5 فیصدویلیو ایڈیڈ ٹیکس جنوری 2018سے لاگو کر دیا جائے گا۔ پٹرول کے نرخوں میں اصلاحات کا دوسرا مرحلہ نافذ کیا جائیگا۔ پٹرول کے نرخ رفتہ رفتہ حقیقی درجے تک لائے جائیں گے۔ تارکین وطن سے لی جانیوالی فیسوں کا دوسرا مرحلہ 2018ء میں نافذ ہوگا۔ تیل کے ماسوا آمدنی کے ذرائع کو فروغ دیا جائیگا۔ سرکاری اخراجات کو موثر بنایا جائیگا۔ مالیاتی توازن پروگرام کے نظام الاوقات پر نظر ثانی کی گئی ہے۔ 2020ء کی بجائے 2023ء تک مالیاتی توازن پیدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ نے تجارتی لین دین کے حوالے سے واضح کیا کہ 2017ء کے دوران سعودی برآمدات کا سب سے بڑا مرکز پہلی بار جاپان بنا ہے۔ چین کا نمبر دوسرا رہا۔ چین درآمدات کے سلسلے میں اول اور امریکہ دوسرے نمبر پر ہے۔ سعودی عرب نے سب سے زیادہ 5ممالک جاپان ، چین ، ہندوستان ، امریکہ اور جنوبی کوریا کو سا مان برآمد کیا۔محکمہ شماریات کے جاری کر دہ اعداد و شمار کے مطابق 2017ء4 کی پہلی ششماہی کے اختتام پر سعودی بیروزگاروں کی شرح 12.8فیصد ریکارڈ کی گئی۔ 2016ء کے اختتام پر یہ شرح12.3فیصد تھی۔ 2017ء کی آخری سہ ماہی کے دوران سرکاری و نجی اداروں کے اخراجات سے افراطِ زر کی منفی کمی کی شرح کم ہو سکتی ہے۔ سعودی عریبین مانیٹرنگ اتھارٹی( ساما )کے اعداد و شمار کے مطابق 2017ء کی پہلی ششماہی کے اخیر تک توازن ادائیگی میں خوشگوار بہتری آئی۔ 4.4ارب ریال فاضل ریکارڈ کئے گئے۔ 2017ء4 کے دوران آمدنی کے حوالے سے کئی مالیاتی تبدیلیاں ریکارڈ کی گئیں۔ دسمبر 2016 ء کے دوران شروع کئے گئے مالیاتی توازن پروگرام کے تحت متعدد اصلاحات روبہ عمل لائی گئیں۔ ویزوں کی فیس ، بلدیاتی خدمات کی فیس ، تارکین وطن سے وصول کی جانیوالی فیس ، منتخب اشیاء پر ٹیکس وغیرہ سے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا ہوئے۔ وزارت خزانہ نے توقع ظاہر کی کہ 2017ء4 کے دوران ٹیکس سے 97ارب ریال کی آمدنی ہو گی۔ 2019ء4 کے مقابلے میں 19فیصد زیادہ رہے گی۔ 2017ء کے دوران اشیاء و خدمات پر ٹیکس سے 47ارب ریال کی آمدنی متوقع ہے۔ یہ 2016ء4 کے مقابلے میں 54فیصد زیادہ ہو گی۔ یہ کامیابی منتخب اشیاء4 پر ٹیکس ویزوں کی فیس میں تبدیلی کی بدولت حاصل ہوئی۔ اضافے کے باوجود 2017ء کیلئے اس حوالے سے جو ہدف مقرر کیا گیا تھا، اسکے مقابلے میں آمدنی 16فیصد کم ہو گی۔ ایسا اسلئے ہوگا کیونکہ ٹیکس پر عملدرآمد میں تاخیر کی گئی۔ وزارت خزانہ نے توقع ظاہر کی کہ 2017ء4 کے اختتام تک کسٹم ڈیوٹی سے 21ارب ریال کی آمدنی ہو گی۔ یہ 2016ء کے مقابلے میں 3فیصدزیادہ ہو گی البتہ بجٹ کے ہدف سے 31فیصد کم رہے گی۔ وزارت خزانہ نے توجہ دلائی کہ 2017ء4 کے دوران دیگر ذرائع سے بھی آمدنی ہو رہی ہے۔ 2016ء کے مقابلے میں 37فیصد زیادہ ہو گی۔ بجٹ میں مقرر ہدف سے 4.7فیصد زیادہ ہو گی۔ تیل سے 440ارب ریال کی آمدنی متوقع ہے۔ یہ 2016ء4 کے مقابلے میں 32فیصد زیادہ ہے۔ یومیہ 9.9ملین بیرل تیل اوسطاً نکالا گیا۔نومبر 2017ء تک ایک بیرل پٹرول 53.3ڈالر میں فروخت ہوا۔ 2016ء کے دوران ایک بیرل تیل کا اوسط 43.5 ڈالررہا۔ 2017ء کے بجٹ میں تیل آمدنی کا جو ہدف مقرر کیا گیا تھا اس سے آمدنی 8فیصد کم ہو گی۔ وزارت خزانہ نے بتایا کہ 2017ء کے دوران مجموعی سرکاری اخراجات 926ارب ریال تک پہنچ سکتے ہیں جو مجموعی قومی پیداوار کا 36فیصد ہیں۔ وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ وہ قرضہ بانڈز اور قومی خزانہ سے اثاثے نکالنے میں توازن کی پالیسی پر قائم ہیں۔ وزارت خزانہ نے 134ارب ریال مالیت کے بانڈز اندرون و بیرون مملکت جاری کئے۔ ان میں سے 53.6ارب ریال کے داخلی اور 33.7ارب ریال کے خارجی جاری کئے۔ 46.8ارب ریال کے خارجی بانڈز جاری کئے۔ وزارت خزانہ نے توقع ظاہر کی کہ2017ء کے مقابلے میں 2018ء کے دوران بیشتر اقتصادی اشاریئے اچھے رہیں گے۔ نجی ادارے تیل کے ماسوا شعبوں میں زیادہ بڑا کردار ادا کریں گے۔ سرکاری ادارے تیل کے ماسوا شعبوں کی شرح نمو میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ اقتصادی سرگرمیوں کا محور معاون صنعتیں ، تعمیرات ، معدنیات ، مالیاتی خدمات ، انشورنس ، غیر منقولہ اثاثے ، تجارتی خدمات ، مواصلاتی شعبہ ہونگے۔ وزارت اقتصاد و منصوبہ بندی نے توقع ظاہر کی ہے کہ 2017ء کے دوران معاشی اخراجات میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی تھی۔ 2018ء4 میں معاشی اخراجات بڑھیں گے۔ متعدد اقتصادی اصلاحات مثال کے طور پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس ، پٹرول اور بجلی کے نرخوں اور تارکین سے وصول کی جانیوالی فیسوں کے باعث اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ 2018ء4 میں افراطِ زر کا اوسط 5.7فیصد تک پہنچ جائیگا۔ پھر 2020ء4 میں 2فیصد کمی شروع ہو گی۔ امید ظاہر کی گئی ہے کہ 2018ء کے دوران سعودیوں میں بیروزگاری کی شرح کم ہو گی، 12فیصد تک رہ جائے گی۔ وزارت خزانہ نے توجہ دلائی کہ امسال بجٹ کی تیاری کیلئے نئی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ اجمالی گوشواروں پر اکتفا کرنے کی بجائے تفصیلات فراہم کرنے کا اہتمام کیا گیا جبکہ اخراجات کی کارکردگی کو بہتر بنایا گیا۔وزارت خزانہ نے مالیاتی منصوبہ بندی اور اقتصادی اہداف کے حوالے سے متعدد پروگرام مقرر کئے ہیں۔ ان کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کی ادا شدہ فیس واپس ہو گی۔ انہیں بلواسطہ قرضے دئیے جائیں گے۔ مشکلات سے دوچار کمپنیوں کو سہارا دیا جائیگا۔ منصوبہ جات کیلئے فروغ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ اعلیٰ درجے کے ائیرکنڈیشن پر سبسڈی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مکانات کیلئے رعایتی قرضے دئیے جائیں گے۔ برآمدات کی فنڈنگ کے نظام کو بہتر بنایا جائیگا۔ چھوٹے او ر درمیانے درجے کے اداروں میں حکومت کی سرمایہ کاری کافنڈ قائم کیا گیا ہے۔ بھاری انویسٹمنٹ پروگرام شروع کیا جائیگا۔ شہروں اور دوردراز مقامات پر انٹرنیٹ کی رفتار تیز کرنے اور انٹرنیٹ کو عام کرنے کیلئے خصوصی فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ نجی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ جات کیلئے انٹرنیٹ اسٹینڈ تیار کیا گیا ہے۔ نجی اداروں کے ورکشاپس کا فارمولا جاری کیا گیا ہے۔ ایوانہائے صنعت و تجارت کونسلز میں سرکاری کانفرنسوں کا اہتمام کیا جائیگا۔ سعودی حکومت نے سبسڈی کو موثر بنانے کیلئے حساب المواطن سٹیزن پروگرام قائم کیا ہے۔ اسکے تحت پٹرول ، بجلی ، پانی وغیرہ پر سے اٹھائی جانیوالی سبسڈی کے باعث اضافی اخراجات کا بوجھ سعودی خاندانوں سے کم کیا جائیگا۔ مستقبل میں عوام کیلئے سرکاری سبسڈی کا بنیادی نظام اسی پر قائم ہو گا۔ سعودی حکومت نے سرکاری آمدنی بڑھانے کیلئے 5نئے فارمولے مقرر کئے ہیں۔ تارکین وطن سے مالیاتی معاوضہ وصول کرنے کا پروگرام (المقابل المالی علی الوافدین ) کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔ یہ کثیر المقاصد پروگرام ہے۔ اس کا اہم ہدف سعودائزیشن کی حوصلہ افزائی ہے۔ سعودی اور غیر ملکی ملازمین کے درمیان اخراجات کی خلیج کو پاٹنا ہے۔ اسکے تحت کسی بھی ادارے میں کام کرنیوالے سعودیوں کے مقابلے میں غیر ملک

مزید :

عالمی منظر -