نواز شریف تحریک چلائیں گے مگر کیسے؟

نواز شریف تحریک چلائیں گے مگر کیسے؟
 نواز شریف تحریک چلائیں گے مگر کیسے؟

  

با خبر لوگ حیران ہیں اور قدرے خوش بھی ہیں کہ حدیبیہ پیپر ملز کا فیصلہ شریف برادران کے حق میں آنے کے باوجود میاں نواز شریف عدلیہ کا قصور معاف کرنے کو تیار نہیں۔میاں نواز شریف نے لندن سے واپسی پر ایک بار پھر عدلیہ کے خلاف اور اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے حوالے سے تحریک چلانے کے عزم کو دہرایاہے۔یار لوگ حدیبیہ کیس کے فیصلے پر شہباز شریف کی خوشی کے اظہار اور اور میاں نواز شریف کی طرف سے تحریک کے اعلان کا مطلب یہ نکال رہے ہیں کہ اب وہ وقت آن پہنچا ہے جسکا شدت سے انتظار تھا۔میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف کے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے موقف میں90 ڈگری سے تبدیلی آچکی ہے۔ ایک ہی وقت میں میاں شہباز شریف عدلیہ کے حدیبیہ کے حوالے سے فیصلے کو اپنی سیاسی زندگی کا اہم ترین فیصلہ اور تاریخ ساز لمحہ قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کر رہے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی عدلیہ یا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف گفتگو نہیں کی اور نہ ہی وہ آئندہ ایسی کسی حکمت عملی کاحصہ ہونگے ۔ جبکہ میاں نواز شریف اپنے موقف پر قائم ہیں شہباز شریف کس کو پیغام دے رہے ہیں ؟ کہ میری طرز سیاست مفاہمت پر مبنی ہے اس کے بارے زیادہ تفصیل سے بات کرنے کی ضرورت نہیں جبکہ دوسری جانب میاں نواز شریف اور انکی بیٹی مریم کونسی قوتوں کو پیغام دے رہی ہیں کہ ہر صورت میں تحریک چلائیں گے۔

اس کے بارے میں بھی ابہام کے بغیر نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے؟ لیکن دونوں طرف کے ڈیزائن کی خوبصورتی ملاحظہ فرمائیں پیغام دینے والے بھی ابھی تک اشاروں کنایوں میں بات کر رہے ہیں جن قوتوں کو پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ اشاروں کی بات سمجھنے کے موڈ میں بالکل نہیں۔ حدیبیہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد سیاستدانوں اور با خبر لوگوں کے درمیان یہ بحث جاری ہے کہ شریف برادران کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں بار آور ہو چکی ہیں یا اپنے اپنے بچاو کے لیے کشتی میں سوار افراد نے کوششیں تیز کر دی ہیں؟ان حالات میں جب یہ دعوے سامنے آنے لگے ہیں کہ میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف میں اختلافات پیدا ہو چکے ہیں ۔کیا میاں نواز شریف پنجاب میں میاں شہباز شریف کے تعاون کے بغیر کسیُ قسم کی تحریک چلا سکتے ہیں؟ ن لیگ کے اندر میاں شہباز شریف کے موقف کے حامیوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔اگر میاں شہباز شریف آگے بڑھ کر مفاہمت کے فارمولے پر عمل کا آغاز کردیتے ہیں تو اس صورت میں ن لیگ سے دوسری جماعتوں میں جانے کے لیے تیار ممبران اپنا ارادہ ملتوی کر کے 2018ء کا انتخاب مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے ہی لڑینگے۔بہت کم لوگ ادھر ادھر جائیں گے، لیکن اگر ن لیگ پر میاں نواز شریف اور انکے نظریاتی ساتھیوں کی پالیسی غالب آجاتی ہے تو اس صورت میں ن لیگ میں بہت توڑ پھوڑ ہوگی، میاں نواز شریف کا ساتھ دینے والوں کی تعداد پارٹی میں بہت زیادہ نہیں ہے۔آج بھی ن لیگ کے ارکان کی اکثریت میاں نواز شریف کی طرف سے اعلان جنگ کی پالیسی کے خلاف ہیں لیکن یہ حضرات میاں نواز شریف کی پوزیشن کو شاید نہیں سمجھ پا رہے ہیں کیونکہ میاں نواز شریف کے پاس لڑائی کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا۔وہ سمجھتے ہیں کہ انکی بقاء تصادم اور ٹکراؤ کی سیاست میں ہے۔یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ میاں نواز شریف ایسے وقت میں تحریک چلانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جب ایک طرف ملک کی سب سے بڑی عدالت انکو گارڈ فادر ،مافیا اورنا اہل قرار دے چکی ہے،اور دوسری طرف عدلیہ انکی شخصیت کو صادق اور امین نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کر چکی ہے۔

جبکہ ججزصاحبان ان کے مخالف عمران خان کو ایمان دار کرپشن سے پاک صادق اور امین قرار دے چکے ہیں۔ میاں نواز شریف کو احتجاجی تحریک میں سپریم کورٹ سے سندیافتہ صادق اور امین کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ ساتھ ہی ساتھ ختم نبوت جیسے حساس ایشوپر مولا نا سیالوی ، خادم رضوی سمیت مختلف گدی نشینوں ،علماء اور مشائخ سے بھی سامنا ہو گا۔ میاں نواز شریف کا طاہر القادری، پی پی پی ، پی ٹی آئی ،ق لیگ اورعوامی مسلم لیگ سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں کے دھرنوں سے بھی ٹاکرہ ہوگا۔ پنجاب میں حکومتی پالیسیوں پر بپھرے کسانوں کے غیظ و غضب کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جماعت اسلامی ملی مسلم لیگ سمیت دیگر کئی جماعتوں سے بھی سامنا کرناہو گا۔ یہ ملین ڈالر سوال ہے کہ میاں نواز شریف ایسی حالت میں تحریک چلا سکیں گے؟ اگر ن لیگ اپنی ان تمام مشکلات کے باوجود عوام میں اپنے موقف کے حوالے سے رائے عامہ ہموار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی پوزیشن کیا ہوگی؟

آپ نے یہ بھی پہلی بار دیکھا ہو گا کہ آرمی چیف جموریت کو بچانے اور جموریت پسند جموریت کی رخصتی کی باتیں کر رہے ہیں ۔

مزید :

رائے -کالم -