بجلی سستی کرنے کی حکمت عملی بنا رہے ہیں ، ترقی کیلئے جمہوری نظام بہتر آپشن ہے : وزیر اعظم

بجلی سستی کرنے کی حکمت عملی بنا رہے ہیں ، ترقی کیلئے جمہوری نظام بہتر آپشن ہے ...

  

فیصل آباد( سٹاف رپورٹر+ایجنسیاں) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ترقی کیلئے جمہوری نظام کو بہترین آپشن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے اور فیصلہ عوام کریں گے، مختلف شعبہ جات میں غیر ملکی سرمایہ کاری حکومت کی مثبت پالیسیوں پر اعتماد کی مظہر ہے، حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہی ہے، حکومت کی مثبت پالیسیوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔انہوں نے یہ بات بدھ کو یہاں ہنڈائی کار پلانٹ کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وزیر تجارت پرویز ملک، وزراء مملکت عابد شیر علی، طلال چوہدری، ارکان پارلیمان، ممتاز صنعت کار اور کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی مثبت پالیسیوں کے نتائج سامنے آرہے ہیں، ہنڈائی اور نشاط گروپ کی سرمایہ کاری پر ان کے مشکور ہیں، یہ حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسی پر اعتماد کی عکاسی ہے، حکومت کی مستحکم پالیسیوں میں تسلسل کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نجکاری کی پالیسی خاصی کامیاب رہی ہے، حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں، اس تناظر میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں نجکاری کا عمل شروع کیا، آج ہر کوئی اس کی بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں میں عدم تسلسل کی وجہ سے مسائل کا سامنا رہا لیکن اب پالیسیوں کے استحکام اور تسلسل کے نتیجہ میں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور مختلف شعبہ جات میں غیر ملکی سرمایہ کاری آرہی ہے، یہ وہ اصل پاکستان ہے جہاں سرمایہ کاری آرہی ہے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کار حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کیلئے جمہوری نظام ہی بہترین آپشن ہے، حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، انتخابات آئندہ سال اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے اور عوام فیصلہ کریں گے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ہنڈائی کی سرمایہ کاری مقامی صنعتی شعبہ کی ترقی کیلئے مفید ثابت ہو گی، حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے بحران پر قابو پا لیا ہے،دریں اثنا ہنڈائی نشاط موٹر کے کاراسمبلی پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے فوراً بعد فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا توانائی کی فراہمی سے صنعتکاری کے عمل میں تیزی آنے سے ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جبکہ حکومت بجلی اور گیس کی فراہمی کے بعد اب صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نواز شریف نے 2013 ء میں بجلی اور گیس کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا جسے حکومت نے کامیابی سے پورا کر دیا ہے۔ تاہم اب ہم صنعتوں کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے اور گیس سے چلنے والے نئے بجلی گھروں سے 7سے6 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی پیدا ہو رہی ہے جس کا فائدہ صنعتوں کو دینے کیلئے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ توانائی بحران کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ماضی کی حکومت کی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم موجودہ حکومت بجلی کی قیمت کو کم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ نئی صنعتوں کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو چلانا نجی شعبہ کا کام ہے جبکہ حکومت ان کیلئے ہر ممکن سہولتیں مہیا کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی صنعتوں کیلئے ایم تھری جیسی سٹیٹ آف دی آرٹ انڈسٹریل ایسٹیٹس قائم کی جا رہی ہیں جبکہ موٹرویز سمیت بنیادی ڈھانچے میں بھی بہتری لائی جا رہی ہے۔ فیصل آباد میں ایئرپورٹ کی تعمیر کے مطالبہ پر وزیر اعظم نے کہا کہ اس کیلئے پنجاب حکومت نے زمین مختص کر دی ہے جبکہ مقامی سرمایہ کاروں کو اسے سیالکوٹ کے ماڈل کی طرز پر کمرشل بنیادوں پر تعمیر کرنا چاہیئے۔ اسی طرح ایکسپو سنٹر کو بھی اسی ماڈل پر تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے صوبے کی ترقی کیلئے انتھک کوششیں کی ہیں۔ دوسرے صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو بھی ان کی تقلید کرنی چاہیئے۔ ایف بی آر کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس کے اہلکاروں کارویہ بہتر بنانے کیلئے طریق کار کو سادہ اور آسان بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسوقت 20 بلین ڈالر کی برآمدات کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں حالانکہ پاکستان کا پوٹینشل 50 سے 60 بلین ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات میں اضافہ کی وجہ سے درآمدی اور برآمدی خسارے میں اضافہ ہوا لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے بجلی گھروں کے علاوہ دیگر مشینری کی درآمد پر ساڑھے آٹھ ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی۔ ریگولیٹری ڈیوٹی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وزیر تجارت پرویز ملک اس کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم درآمد و برآمد میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے غیر ضروری اشیاء کی درآمد کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ایس ایم ای سیکٹر پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس سلسلہ میں پاور لوم سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے فیصل آبادچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سے کہا کہ وہ مسائل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا حل بھی تجویز کریں تاکہ ان کیلئے آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ آئندہ عام انتخابات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اگلے سال جولائی میں انتخابات ہونگے۔ عوام آئندہ 5 سالوں کیلئے جس حکومت کو منتخب کریں گے انہیں اس کو آئندہ مدت کیلئے بھگتنا بھی ہوگا۔ اس لئے وہ انتہائی سوچ سمجھ کر فیصلہ کر یں گے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے صدر چیمبر شبیر حسین کی طرف سے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورہ کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ آپ تاجروں کے بڑے اجتماع کا اہتمام کریں تا کہ وہ یہاں آکر بزنس کمیونٹی کے مسائل سن کر ان کو حل کرنے کیلئے ہدایات بھی دے سکیں۔ اس سے قبل خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شبیر حسین چاولہ نے کہا کہ آئندہ چند سالوں میں فیصل آباد کی شرح نمو بڑھ کر 5.7 فیصد ہو جائیگی اور یہ وطن عزیز کیلئے زرمبادلہ کمانے کے حوالے سے نمبر ون ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فی الوقت فیصل آباد ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 55 فیصدکا حصہ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی کاوشیں تعریف کے قابل ہیں جن کی وجہ سے نئی سڑکیں، ہسپتال، سکول اور نئی یونیورسٹیاں بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر اپنی خصوصیات کے باوجود فیصل آباد کو وفاقی اور صوبائی پول سے اس کا پورا حصہ نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگاری کے خاتمے میں بھی اس شہر کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو چند گزارشات بھی پیش کیں جن کے پورے ہونے سے فیصل آباد مزید تیزی سے ترقی کر سکتا ہے ان میں نئے سویلین ایئرپورٹ کی تعمیر، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی، ریگولیٹری ڈیوٹی کے مئلے کا فوری حل اورٹیکسیشن کی شق نمبر 38 اے اور 40 بی کا فوری خاتمہ شامل ہیں۔ انہوں نے برآمدی ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے بجلی کا زیادہ سے زیادہ ٹیرف 7 سینٹ جبکہ گیس کی قیمت 460 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے زیادہ نہیں ہونی چاہیئے۔ اس موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر میاں محمد ادریس، فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر فاروق یوسف ، نائب صدر عثمان رؤف ، میاں جاوید اقبال ، میاں محمد لطیف، شیخ عبدالقیوم، مزمل سلطان ، انجینئر رضوان اشرف، انجینئر سہیل بن رشید، انجینئر احتشام جاوید، اظہر وحید، میاں گلزار احمد ، سید خالد محمود شاہ، حلیم اختر ملک ، چوہدری محمد نواز، سید ضیاء علمدار حسین، رانا وقار احمد امجد علی امجد، رانا سکندر اعظم ، مرزا توصیف احمد، حاجی طالب حسین رانا، محمد یعقوب اعوان، چوہدری محمد بوٹا، شاہد ممتاز باجوہ، میاں محمد طیب ، محمد اصغر، مرزا محمد افضل، ذیشان علی نورانی، حاجی شوکت ، قیصر محمود شیخ، میاں آفتاب احمداوررانا محمد افضل ایم این اے بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -