کے الیکٹرک میں سیاسی مداخلت نہیں پھر اتنے نقصانات کیوں؟خورشید شاہ

کے الیکٹرک میں سیاسی مداخلت نہیں پھر اتنے نقصانات کیوں؟خورشید شاہ

  

اسلام آباد (آئی این پی )پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو ایم ڈی کے الیکٹرک طیب ترین نے خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کے الیکٹرک نے مختلف اداروں اور صارفین سے 97 ارب روپے وصول کرنے ہیں،کراچی میں لائن لاسز اور چوری 21.5 فیصد ہیں ، ایک فیصد نقصانات 2.5 ارب روپے کے مساوی ہیں۔آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ کے الیکٹرک اپنے توانائی پلانٹ سے بجلی پیدا نہیں کی جس کی وجہ سے صارفین پر 14ارب56 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان کا بوجھ ڈالا جاتا ہے،چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ کے الیکٹرک میں جو بھی تبدیلیاں کی گئیں وہ ہمیں باہر نظر نہیں آتیں، کے الیکٹرک میں سیاسی مداخلت نہیں ہے، واپڈا میں سیاسی مداخلت ہے مگر پھر بھی نقصانات کے الیکٹرک کے زیادہ ہیں، ایم ڈی کے الیکٹرک طیب ترین نے جواب دیا کہ بن قاسم پلانٹ کی استعداد ایک ہزار میگاواٹ تک بڑھائی ہے، گیس سے بجلی کی پیداوار اسوقت ایک ہزار میگاواٹ ہے، کے الیکٹرک نے 13 اضافی گرڈ اسٹیشن بنائے ،کے الیکٹرک کراچی میں کنڈا سسٹم پر قابو نہیں پا سکی،کنڈا کلچر میں کمی ضرور آئی لیکن مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا،چوری پر قابو پانے کیلئے انسولیٹڈ کیبلز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ بدھ کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزارت توانائی،وزارت کابینہ ڈویژن کے مالی سال 2016-17کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، ایم ڈی کے الیکٹرک طیب ترین نے پی اے سی کو خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کونڈہ کراچی کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تاہم اس میں کمی آئی ہے، ٹرانسمیشن کے شعبے میں بہتری لائی ہے۔ مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔شنگھائی الیکٹرک آئندہ دس سال میں کراچی میں 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے، کے ای ایس سی سے کے الیکٹرک تک کا سفر مشکل تھا۔ ایم ڈی کے الیکٹرک جس وقت نجکاری ہوئی لوڈشیڈنگ بہت زیادہ تھی، ادارہ کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں تھی۔

کے الیکٹرک

مزید :

صفحہ اول -