سیلز ٹیکس فراڈ کے ملزموں کی سزائیں بڑھانے کی کارروائی معطل

سیلز ٹیکس فراڈ کے ملزموں کی سزائیں بڑھانے کی کارروائی معطل

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )سپریم کورٹ نے سیلز ٹیکس ایکٹ 2005ء کے ماضی کے مقدمات پر نفاذ کے خلاف اپیلیں سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں سیلز ٹیکس فراڈ کے ملزموں کی سزائیں بڑھانے کی کارروائی روک دی ۔سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار ، مسٹر جسٹس عمر عطا ء بندیال اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے سعادت علی خان سمیت دیگر ملزموں کی اپیلوں پر سماعت کی، درخواست گزاروں کی طرف سے احمد اویس ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کی جانب سے ملزموں کیخلاف 2002ء میں سیلز ٹیکس فراڈ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں ملزموں پر سیلز ٹیکس اکٹھا کرنے کے بعد قومی خزانے میں جمع نہ کروانے کا الزام عائد کیا گیا تھا، ٹرائل کورٹ نے کئی سالوں تک کیس کی سماعت کرنے کے بعد ملزموں کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے تحت 33 ماہ قید اور جرمانے کی سزا سنائی لیکن ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ایکٹ 2005ء کے نفاذ کے بعد ملزموں کی سزائیں بڑھانے کی اپیل لاہور ہائیکورٹ میں دائر کر دی ہے جبکہ سیلز ٹیکس ایکٹ 2005ء کا اثر 1990ء کے سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت درج کئے گئے مقدمات پر نہیں ہوتا لہٰذا ملزموں کی سزا بڑھانے کی ایف بی آر کی اپیلیں خارج کی جائیں اور درخواستوں کے حتمی فیصلے تک ہائیکورٹ میں سزا بڑھانے کی اپیلوں پر حکم امتناعی جاری کیا جائے، تین رکنی بنچ نے سیلز ٹیکس ایکٹ 2005ء کے ماضی کے مقدمات پر نفاذ کے خلاف اپیلیں سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ میں سیلز ٹیکس فراڈ کے ملزموں کی سزائیں بڑھانے کی کارروائی روک دی ۔

سیلزٹیکس

مزید :

علاقائی -