اداروں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ، جذبات سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، فضل الرحمن

اداروں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ، جذبات سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، فضل ...

  

اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام ( ف) کے قائدمولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر برصغیر سے جڑا ہے ۔ بھارتی مظالم کا مقابلہ کشمیر کی چوتھی نسل کر رہی ہے ٗہمیں کشمیر کے مسئلہ کو تحریک کی شکل میں دیکھنی چاہیے ٗ بیت المقدس متنازع علاقہ ہے بیت المقدس نہ اسرائیل کا دارلحکومت بن سکتا ہے نہ ہی وہاں سفارتخانہ بنایا جا سکتا ہے۔کشمیر پر ہمارا دعوی ہے کہ وہ شہہ رگ ہے پانی ہماری معاشی سپلائی لائن ہے آلو ٹماٹر کی بات عام آدمی کے لئے ہے کشمیر کا مسئلہ ریاست کا ریاست سے ہے مسئلہ کشمیر پر ہم دعوی تو کرے ہیں مگر ہماری دلیل کی بنیاد مفاد پر ہے ہمیں مسئلہ کشمیر کو لے کر تجارت نہیں بند کرنی چاہیے تنازعات ریاستوں کے درمیان ہوتے ہیں عوام کے درمیان نہیں تجارت عوامی مسئلہ ہے اسکو مسئلہ کشمیر کی نذرنہیں کرنا چاہیے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کے مقصد کے لیے جنگ کا لب و لہجہ نہیں ہونا چاہیے تمام اداروں کو ایک پیج پر ہونا ضروری ، صرف جذبات کے تحت مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا اقتدار کی جنگ لڑنے والے آزادی کا بیس کیمپ نہیں بنا سکتے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں میسیج ریسرچ سنٹر کے زیر اہتمام کشمیر پر گو ل میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں امیر جماعت اسلامی سینٹر سراج الحق ، مولانا فضل الرحمن خلیل اورعبداللہ گل ، شامل تھے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ تحریک کے لیے کوئی مدت تعین نہیں کی جاسکتی تحریک سمندر کی لہروں کا نام ہے اس میں مد و جزر آتا ہے ہمیں کشمیر کے مسئلہ کو تحریک کی شکل میں دیکھنا چاہیے تحریک کے لیے حکمت عملی بہت ضروری ہے امریکی اور مغربی دنیا نے اپنے مفادات کے لئے پوری دنیا میں آگ لگائی آج اسرائیل فلسطینیوں کی آزادی کی جنگ کو ریاستی دہشت گردی قرار دے رہا ہے، دنیا کشمیر کی آزادی کی تحریک کو ریاستی دہشتگردی سے تعبیر کر رہی ہے آج کے دور میں جنگ کے لیے حکمت عملی جدید طریقہ سے ہوگی پہلے جنگ میں جنگجو نشانہ بنتے تھے آج کے دور میں عام انسان جنگ کا نشانہ بن رہے ہیں نئی نسل کے پاس صرف جذبات ہیں مسئلہ کا ادراک نہیں ہم غیر یقینی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔مربوط نظام کا فقدان اور سیاسی جنگوں میں کشمیر کے تحریک کو نقصان پہنچا .سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے لوگ سول نافرمانی تک چلے جاتے ہیں ستر سال پہلے امریکہ ہمارے ساتھ تھا اب وہ بھارت کے ساتھ کھڑا ہے موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہمیں حالات کی بہتری کا انتظار کرنا ہوگا سو سال پہلے انگریز نے دنیا پر حکومت کی پہلے معیشت پر قبضہ کرنے کے بعد ملکوں پر قبضہ کر لیا جاتا ہے انگریز چلا گیا مگر ہماری ذہنیت اب بھی وہی ہے چین امریکہ اور مغرب کے نظام معیشت کے برعکس بات کر رہا ہے سی پیک چین کے نئے اقتصادی نظریہ کی پہلی سیڑھی ہے سی پیک کا پہلا زینہ پاکستان ہے امریکہ بھارت کے متنازع علاقے سے سی پیک گزرنے کے بیانیہ کی حمایت کر رہا ہے۔ بیت المقدس کو دارلحکومت تسلیم کرنے میں امریکہ بھی تنہائی کا شکار ہے مسئلہ کشمیر ایک رات میں حل ہونے والا مسئلہ نہیں ہمارے پاس تحریک کے تصور کو زندہ رکھنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہم تحریک کو منظم کر کے اس مسئلہ کو زندہ رکھ سکتے ہیں مشرق وسطی کی صورتحال ہمارے سامنے ہے ،ایران کے ساتھ تعلقات میں ہمیں مستقبل میں فکر مند ہونا پڑے گا ہمارا پڑوسی ملک افغانستان بھارت کی حمایت میں بول رہا ہے پڑوس کے معاملات بہتر کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے کشمیر کے مسئلہ پر دو طرفہ مزاکرات ہمیں عالمی فورم پر لے جا سکتے ہیں کیا ہم موجودہ عالمی صورتحال میں کشمیر کا مسئلہ عالمی فورم پر لے جانے کے قابل ہیں؟

مزید :

صفحہ آخر -