عمر سیف نے شہباز شریف سے پہلی ملاقات کا واقعہ سنایا،وزیراعلیٰ کے اشعار پر حاضرین کی بھر پور داد

عمر سیف نے شہباز شریف سے پہلی ملاقات کا واقعہ سنایا،وزیراعلیٰ کے اشعار پر ...

  

لاہور(جنرل رپورٹر)انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر سیف نے وزیراعلی شہبازشریف کے ساتھ پہلی ملاقات اور یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے واقعہ سناتے ہوئے کہاکہ مجھے ایک ایوارڈدیا گیا جس کا میڈیا پربھی ذکر آیا ، میں اس وقت لمز میں پڑھا رہاتھا ۔کچھ دیر بعد ایک کال آئی اور کہا گیا کہ وزیراعلی شہبازشریف بات کریں گے ۔مجھے یقین نہ آیا او رمیں نے سمجھا کوئی مذاق کر رہا ہے تاہم جب بات ہوئی تو مجھے وزیراعلی شہبازشریف نے ایوارڈ حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور اگلی صبح ناشتے پر بلایا او رانہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے قیام کی بات کی اور کیونکہ پہلے بھی 2002میں اس یونیورسٹی پر کام کرنا چاہتا تھا لیکن اس وقت معاملہ آگے نہیں بڑھا ۔شہبازشریف نے مجھ سے کہاکہ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی ورلڈ کلاس ہونی چاہیے اور اس یونیورسٹی کے قیام کے لئے مجھے حقیقت میں جو تعاون وزیراعلی شہبازشریف نے فراہم کیا وہ نا قابل بیان ہے او ریہی وجہ ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا خواب حقیقت بنا اور آج اس یونیورسٹی کے مین کیمپس کا سنگ بنیاد رکھا گیاہے ۔انہوں نے کہاکہ2002اور اس وقت فرق صرف شہبازشریف کا تھا کیونکہ چین بھی منصوبوں کو تیز رفتاری سے تکمیل کرنے پر وزیراعلی شہبازشریف کی رفتار کو پنجاب سپیڈ کہتا ہے اور بلاشبہ یہ شہبازسپیڈ ہے او راسی شہباز سپیڈ سے آئی ٹی یونیورسٹی کا قیام عمل میںآیا اور اب اس کے مین کیمپس کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔وزیراعلی شہبازشریف نے اپنی تقریر میں یہ اشعار سنائے اور ان کی تشریح بھی کی جسے حاضرین نے بہت پسند کیا۔

تمنا آبرو کی ہے اگر گلزار ہستی میں۔۔۔تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے

نہیں یہ شان خود داری چمن سے توڑ کر تجھ کو۔۔۔کوئی دستار میں رکھ لے کوئی زیب گلو کر لے

وزیراعلی نے ایک موقع پر یہ اشعار بھی پڑھے:۔

جب اپنا قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا۔۔۔جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا

وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے۔۔۔مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

تقریر کے اختتام پر وزیراعلی نے یہ اشعار سنائے:۔

خوشبوؤں کا اک نگر آباد ہونا چاہیئے۔۔۔اس نظام زر کو اب برباد ہونا چاہیئے

ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ہم۔۔۔جگنوؤں کو راستہ تو یاد ہونا چاہئیے

خواہشوں کو خوبصورت شکل دینے کے لئے۔۔۔خواہشوں کی قید سے آزاد ہونا چاہیئے

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں۔۔۔عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیئے

وزیراعلی کے اشعار پر حاضرین نے دل کھول کر ا نہیں داد دی۔

مزید :

صفحہ آخر -