مسلح افواج کی بتائی ہوئی حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے: انوارالحق کاکڑ

مسلح افواج کی بتائی ہوئی حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے: انوارالحق کاکڑ

  

دفاعی تجزیہ نگار اور حکومت بلوچستان کے ترجمان انوار لحق خان کاکڑ نے روزنامہ پاکستان کے مقبول عام سلسلہ ایشو آف دی ڈے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ملک کا وہ سپریم ادارہ جس کا نام پالیمنٹ ہے وہ اپنا کام اپنی روح کے مطابق نہیں کرے گا اور سویلین خلاء چھوڑیں گے تو پھر ایسا تو ہوگا ملک کے لئے دفاعی اور خارجہ پالیسی سیاسی حکومتوں نے دینی ہوتی اور پارلیمنٹ جہاں ملک کے 22کروڑ عوام کی نمائندگی موجود ہے اس ادارے نے گزشتہ دس سالوں میں کون سی اہم پالیسی دی یا دہشت گردی میں 80ہزاپیارے ہم نے کھوئے اس پر پارلیمنٹ کے اندر بحث کیوں نہ ہوئی ۔ اس لئے کہ جو بچے مرے وہ ان لوگوں کے نہیں تھے جنہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے بحث و مباحثہ کے بعد ایک مستقل پالیسی بنانا تھی اور اس پر عمل بھی کرنا تھا مگر افسوس کے ہم حالت جنگ میں ہیں اور اس مناسبت سے ہم وہ انتظامات نہیں کر سکے جس کی ضرورت ہے ہمیں انہوں نے کہا کے افوج پاکستان جو کہہ رہی ہے وہ ثابت بھی ہور ہا ہے وہ حقیقت جو افوج پاکستان بتاتی ہے اس کو تسلیم کر لینا چاہئے جب وہ کام جو سول اداروں نے کرنے ہیں اور پارلیمنٹ نے ان کی راہ متعین کرنی ہے جب وہ نہیں کریں گے تو افوج پاکستان کرتی ہے جس کو بعد میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے کیونکہ افوج ہماری ہے اور ملک بھی ہمارا ہے ،انوار کاکڑ نے کہا کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجواہ نے سینٹ میں حقیقت بیان کی اور قومی راز شئیر کئے مگر افسوس کے وہ ادارہ جس کے ممبران قومی رازوں سے پردہ نہ اٹھانے کا حلف اٹھاتے ہیں ان میں سے بعض نے یہ معلومات عام کر دیں آئندہ کون اعتبار کرے گا ۔

مزید :

صفحہ آخر -