محکمہ اینٹی کرپشن میں درجہ چہارم سے تمام بھرتیاں پبلک سروس کمشن کے ذریعے کرنے کا فیصلہ

محکمہ اینٹی کرپشن میں درجہ چہارم سے تمام بھرتیاں پبلک سروس کمشن کے ذریعے ...

  

لاہور (ارشد محمود گھمن/سپیشل رپورٹر)محکمہ انٹی کرپشن میں اب درجہ چہارم سے لے کر تمام بھرتیاں پبلک سروس کمشن کے ذریعے ہوں گی ۔محکمہ انٹی کرپشن کی کارکردگی نیب سے کہیں بہتر ہے ،کرپٹ افراد سے اربوں روپے کی ریکوری کی گئی ،سیاسی شخصیات کی سفارشوں پر سابقہ ادوارمیں بھرتی ہونے والے افسروں کی کرپشن کے حوالے سے بہت زیادہ شکایات ہیں تاہم اس حوالے سے وہ خصوصی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب سے منظور ی لے کران کالی بھیڑوں کی سکروٹنی کریں گے تاکہ محکمہ کا مورال مزید بلند ہو۔صاف پانی پراجیکٹ سمیت درجنوں ہائی پرو فائل کیسز پر تفشیش کا عمل تیزی سے جاری ہے۔صاف پانی کمپنی کیس میں ملزموں نے عدالت سے عبوری ضمانتیں کرارکھی ہیں ،ضمانتیں منسوخ ہونے کے بعد ان ملزموں کو گرفتار کرکے قومی خزانے کی رقم برآمد کی جائے گی۔رواں سال مختلف شکایات کی 28709درخواستیں موصول ہوئیں 28854درخواستوں کا فیصلہ کیا گیا جس میں التوا میں پڑی درخواستیں بھی شامل ہیں، اسی طرح 14800انکوائریوں میں سے 14334کو مکمل کیا گیا 6334مقدمات میں سے 3003پر تفشیشی عمل مکمل کیا گیا ، 411 چھاپے مارے گئے اور2346ملزموں کو گرفتار کیا گیا جوکہ انٹی کرپشن کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہواہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب مظفر علی رانجھا نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی انٹرویو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ صاف پانی منصوبے میں اربوں روپے کی بڑی کرپشن کی تیاری کی جارہی تھی جو وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی حاضر دماغی اور انٹی کرپشن کی بروقت کارروائی سے ناممکن ہوئی، منصوبے میں ملوث افسروں نے اصل لاگت سے تین گنا زیادہ کے اخراجات ظاہرکرکے حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف کی ہدایت پر ہم نے فرانزک کے ذریعے ان افراد کے ڈیٹا تک رسائی لی اور حقائق تک پہنچے، وسیم اجمل سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ، شبنم نجف سابق چیف کنٹریکٹر اینڈ پروکیورمنٹ ، کرنل ریٹائرڈ طاہر مقبول سابق جنرل منیجر پراجیکٹ اینڈ سروسز اور ناصر قادر بھنڈر سابق چیف فنانشل آفیسر کے نام ای سی ایل میں ڈالے جاچکے ہیں۔مقدمہ عدالت میں زیرسماعت ہے ملزموں نے عبوری ضمانتیں کرارکھی ہیں جیسے ہی ان کی ضمانتیں منسوخ ہوں گی ،ان سے لوٹی ہوئی رقم برآمد کرکے قومی خزانہ میں جمع کرادی جائے گی ۔ انٹیکرپشن نے صوبے کے تمام اضلاع میں سروے شروع کردیا ہے جس میں فوکس کیاجارہاہے کہ کس ضلع میں کونسا محکمہ سرفہرست اور اس سے متعلق شکایات ہیں ، قریباً 17اضلاع کے جائزہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سب سے زیادہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس دفاتر میں کرپشن ہورہی ہے اورسب سے زیادہ شکایات بھی اسی محکمے سے متعلق ہیں، ہم سروے مکمل کرنے کے بعد یہ رپورٹ اوپر بھیجیں گے تاکہ اس کی روشنی میں سدباب کیاجاسکے۔ انٹیکرپشن نے ماضی کے مقابلے میں پہلی باردو ارب سے زائد کی ریکوری کی ہے ۔ انٹی کرپشن میں پلی بار گیننگ کا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو پکڑا گیا اس سے مکمل ریکوری کی جاتی ہے اور قانون کے مطابق سزا بھی دی جا تی ہے۔انہوں نے 2017ء کی انکوائریوں کے حوالے سے کہاکہ انٹی کرپشن کی تاریخ میں پہلی دفعہ درخواستوں ،انکوائریوں ،مقدمات اور عدالتی چالانوں سمیت اشتہاریوں کے خلاف 100 فیصد رزلٹ حا صل کئے جارہے ہیں ۔ انٹی کرپشن کی کارکردگی کو بہتر بنا نے کے لئے تما م وسائل بروئے کا ر لائے جار ہے ہیں جس میں افسران وملازمین کو دفتری امور سرانجام دینے کیلئے سہولتیں سائلین کو معلومات کیلئے مینجمنٹ کاؤنٹر ،کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ سسٹم وغیر ہ شامل ہے اس حوالے سے پنجاب بھر انٹی کرپشن کے اپنے نئے کیمپس بھی بنائے جارہے ہیں جبکہ ویجیلینس سیل کا قیام بھی بہت جلد شروع کیا جارہے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ انٹی کرپشن میں اب درجہ چہارم سے لے کر تمام بھرتیاں پبلک سروس کمشن کے ذریعے کی جائیں گی تاکہ کوئی نااہل شخص سفارش کے بل بوتے پر تعینات نہ ہوسکے ، ہمارے ملک میں بدقسمتی سے سیاسی شخصیات کی سفارشوں پرسابق ادوار میں ایسے افراد کو بھرتی کیا گیا جواس سیٹ کے اہل نہیں ہوتے اور محکمہ کی بے عزتی کا باعث بنتے ہیں ۔ ایسے افسروں کے حوالے سے شکائتیں موصول ہوتی رہتی ہیں تاہم وہ اس حوالے سے خصوصی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب سے جلدمنظور ی لے کران کالی بھیڑوں کی سکروٹنی کرنے کا عمل مکمل کریں گے تاکہ محکمہ ایسے کرپٹ عناصر سے پاک ہو اور ملکی دولت لوٹنے والے قانون کی گرفت میں ہوں،کرپٹ افراد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ۔ اس وقت محکمہ انٹیکرپشن کی کارکردگی ان کے نزدیک نیب سے بھی کہیں بہتر ہے کیوں کہ ہم نے بہت سے کرپشن کے میگاسکینڈلز پکڑے اور ان میں اربوں روپے کی ریکوری کرکے قومی خزانے میں واپس جمع کرائے ہیں ، نیب میں بارگینگ کا سلسلہ چلتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا کوئی سسٹم نہیں ،ہمارے محکمہ میں جو بھی کرپٹ ہواور کرپشن میں ملوث ہواسے اس کی سزا دی جاتی ہے۔

انٹی کرپشن

مزید :

صفحہ آخر -