پٹوار کا نظام کمپیوٹرائز ہونے کا باوجود کرپشن کیوں ختم نہ ہو سکی؟ جسٹس چودھری عبدالعزیز

پٹوار کا نظام کمپیوٹرائز ہونے کا باوجود کرپشن کیوں ختم نہ ہو سکی؟ جسٹس ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے جعل سازی کے مقدمے میں ریمارکس دیئے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ پٹوارکا نظام کمپیوٹرائز ڈہونے کے باوجود کرپشن ختم کیوں نہیں ہو سکی؟جسٹس چودھری عبدالعزیزنے کمرہ عدالت میں مسکرانے پر سیکرٹری بورڈ آف ریونیو ندیم عباس بنگو کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہا کہ یہ ہنسنے کی بات نہیں شرم کی بات ہے۔ ملک کا ستیاناس ہورہا ہے بربادی کی طرف جارہا ہے اور آپ ہنس رہے ہیں ،یہ ہنسنے نہیں بلکہ ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔فاضل جج نے اراضی کی جعلی فرد تیار کرنے کے خلاف ایک شہری کی درخواست پرمحکمہ مال سے رپورٹ طلب کررکھی تھی ،فاضل جج نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ پٹواریوں نے رشوت لینے کے لئے نجی افراد کو ماورائے قانون منشی کے عہدے پر تعینات کر رکھا ہے،عدالت نے کہا کہ ملکی نظام کو کرپشن نے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیاہے ، غریب عوام کے پیسوں پر تربیت حاصل کرنے والے افسران قوم پر رحم کھائیں،سیکرٹری بورڈ آ ف ریونیوندیم عباس بنگو نے مسکراتے ہوئے عدالت میں رپورٹ پیش کی کہ پٹواریوں نے منشی نہیں رکھے ہوئے جس پر عدالت نے مسکرانے پر ایڈیشنل سیکرٹری بورڈ آف ریونیو ندیم عباس بنگو کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہا کہ یہ ہنسنے کی بات نہیں بلکہ شرم کی بات ہے، سیکشن افسر کے ہاتھ کی بنائی ہوئی فرضی رپورٹیں پیش کر کے عدالت کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے رپورٹ مستردکرتے ہوئے سینئرممبر بورڈ آف ریونیو اور اینٹی کرپشن حکام کو طلب کرتے ہوئے مزیدسماعت آج21دسمبر تک ملتوی کردی۔

ُپٹوار

مزید :

صفحہ آخر -